تانڈور کے پتھر پر عائد رائلٹی میں کمی کی جائے، صنعتکار اور مزدور مشکلات کا شکار، تور بورڈ قائم کیا جائے : رکن اسمبلی میں منوہر ریڈی کا خطاب

تانڈور کے پتھر پر عائد رائلٹی میں کمی کی جائے، صنعتکار اور مزدور مشکلات کا شکار
تور بورڈ کے قیام کو یقینی بنایا جائے : رکن اسمبلی میں منوہر ریڈی کا پہلا خطاب

وقارآباد/تانڈور : 17۔فروری
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی تانڈور سے منتخب کانگریس کے رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی نے کل 16 فروری کو اسمبلی میں کیے گئے اپنے پہلے خطاب میں ہی تانڈور کےعوام، کسانوں،صنعتکاروں اور مزدوروں کو درپیش مختلف مسائل سےحکومت کو واقف کرواتےہوئے انہیں حل کرنے کے لیے نمائندگی کی۔

اسپیکر گڈم پرساد کمار کے اجلاس پر اسمبلی میں زائد از 6 منٹ تک خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی ان تمام مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسپیکر اسمبلی جی۔پرساد کمار کا تعلق تانڈور ہی سے ہے۔جہاں انہوں نے ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ تک اپنی تعلیم مکمل کی ہے اور وہ ان مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ جبکہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا تعلق بھی وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے ہے جو تانڈور سے 18 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ہے۔

رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی نے اسمبلی سے اپنےخطاب میں حکومت کو واقف کروایاکہ تانڈور میں ملک کی مشہور شاہ آباد پتھر کی صنعت موجود ہے جس سے 15 ہزار سے زائد افراد روزگار حاصل کرتے ہیں ان میں معدنیات اور پتھروں کی صنعتوں کے مالکین اور مزدور بھی شامل ہیں۔تاہم چند سال سے ٹائلس کے استعمال میں اضافہ کی وجہ سے پتھر کی صنعت متاثر ہوئی ہے اور یہ صنعت شدید بحران کا شکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے حکومت کی جانب سے 80 روپئے رائلٹی وصول کی جاتی تھی تاہم گزشتہ دو سال سے فی ٹن کے لیے 180 روپئے وصول کیے جا رہے ہیں۔رکن اسمبلی منوہر ریڈی نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں اس رائلٹی کی قیمت انتہائی کم ہے۔اسی طرح تانڈورکے پدیمول منڈل میں بڑی تعداد میں موجود سدہ کی صنعت کا بھی یہی حال ہے۔

رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی نے اپنے خطاب میں حکومت کو بتایا کہ سابقہ حکومت نے چند سال قبل پتھر اور سدہ کی معدنیات کو دی جانے والی لیزکے قواعد میں بھی سخت قواعد و ضوابط لاگو کیے گئے ہیں اور اب تو لیز جاری بھی نہیں کی جارہی ہیں انہوں نے مطالبہ کیاکہ اس کے لیے ماحولیاتی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ جبکہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں لیز کا حصول آسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں رائلٹی کی قیمت 110 روپئےہے وہیں تانڈور میں 200 روپئے رائلٹی فیس وصول کی جاتی ہے اس کی وجہ سے یہاں کے بیوپاری اور مزدور کرناٹک منتقل ہو رہے ہیں اس کے لیے رائلٹی میں کمی کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ کانکنی کی لیز کی اجرائی کے معاملہ میں کرناٹک کی پالیسی پرعمل کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ لیز کی عدم اجرائی سےمعدنیات کے مالکین اور مزدوروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رکن اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ماحولیاتی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے لیز کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ تانڈور میں پتھر کی صنعت اہم ذریعہ معاش ہے ان مسائل کے باعث مالکین اور مزدور پریشان ہیں اور تانڈور کی پتھر و سدہ کی صنعت کو بچانے کا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا۔

رکن اسمبلی بویانی منوہر ریڈی نےمطالبہ کیاکہ تانڈور میں پالی ٹیکنک اور مائننگ کالج کا قیام عمل میں لایاجائے۔ساتھ ہی منظورہ آئی ٹی آئی کو مکمل انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے۔رکن اسمبلی نے بتایاکہ کٹ پلی پراجکٹ اور جنٹ پلی پراجکٹ کی کنالوں میں شگاف پڑگئےہیں جن کےذریعہ 14,000 ایکڑ اراضی سیرآب ہوا کرتی تھی لیکن ان شگاف کے باعث ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی سیرآب نہیں ہوپارہی ہے ان کی مرمت کے لیے درکار فنڈس کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔

رکن اسمبلی نے اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست تلنگانہ میں تین لاکھ ایکڑ اراضی پر تور کی کاشت کی جاتی ہے اس میں دیڑھ لاکھ ہیکٹر اراضی پر حلقہ اسمبلی تانڈور میں تور کی پیداوار کی جاتی ہے۔انہوں نےکہاکہ تانڈورکی تور کی دال ملک بھر میں اپنےمعیار اور ذائقہ کےلیے مشہور جی آئی ٹیگ کی حامل ہے۔ تاہم یہاں کے کسانوں کو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تانڈور میں تور بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائے۔

رکن اسمبلی کے مطالبات پر ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے جواب دیتےہوئے کہاکہ تانڈور میں اتنےسارے مسائل ہیں اور وہ اس سے واقف نہیں تھے۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ سنہرا تلنگانہ کہا گیا تھا تو انہوں نے سمجھاتھا کہ اب تلنگانہ میں کوئی مسائل نہیں ہیں۔انہوں نے اپنے حلقہ کی ترقی کا تذکرہ کرتےہوئے تیقن دیاکہ تانڈور کے ان تمام مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔رکن اسمبلی کی جانب سے پہلی مرتبہ کم وقت میں تانڈور کے مختلف حل طلب مسائل سے حکومت کو واقف کروائے جانے کی سراہنا کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں "

خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

بشیر بدر : ذاتی تجربات و مشاہدات کو فنکارانہ انداز میں لفظوں کا پیراہن عطا کرنے والے
نامور، پدما شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ 89 سالہ بزرگ شاعر کی سالگرہ پرخصوصی مضمون

بشیر بدر : پدما شری اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ 89 سالہ ممتاز و نامور بزرگ شاعر کی سالگرہ پر خصوصی مضمون