آئندہ پانچ سال کے دؤران 3,000 کروڑکے صرفہ سے وقارآباد ضلع کو ترقی دی جائے گی
کوٹ پلی پراجکٹ میں کشتی رانی کا دوبارہ آغاز، اننت گیری ہلز کی بھی ترقی کے اقدامات
تقریب سے اسپیکر تلنگانہ اسمبلی پرساد کمار کا خطاب،ایڈیشنل کلکٹر،سابق رکن پارلیمان کی شرکت
حیدرآباد/وقارآباد: 31؍ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
گڈم پرساد کمار،اسپیکر تلنگانہ اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے پانچ سال کے دؤران 3,000 کروڑ روپئے کے مصارف سے وقارآباد ضلع کو قابل مثال ترقی دی جائے گی۔اسپیکرنے کل ہفتہ کے دن دھارور منڈل میں موجودمتحدہ ضلع رنگاریڈی کےسب سے بڑے آبپاشی کے کوٹ پلی پراجکٹ میں کشتی رانی کا دوبارہ آغاز کیا۔جسے دیڑھ سال قبل اس وقت کی بی آر ایس حکومت نے بند کر دیا تھا۔
اننت گیری ہلز اور کوٹ پلی پراجکٹ وقارآبادضلع کے اہم سیاحتی مقامات میں شامل ہیں جہاں عام دنوں کےعلاوہ تعطیلات میں بشمول حیدرآباد، تلنگانہ اور پڑوسی ریاست کرناٹک کےمختلف مقامات سے ہزاروں سیاح آتے ہیں تاہم کوٹ پلی پراجکٹ میں کشتی رانی کے بند کردئیےجانےکے باعث کئی تربیت یافتہ نوجوان بیروزگار ہوگئے تھے اور آنے والے سیاحوں کو بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب جس میں ایڈیشنل کلکٹر راہول شرما، ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر گیانیشور،ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ آبپاشی سندر،آر ڈی او وقارآباد وجئے کماری، جنرل سیکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی داراسنگھ، سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ و چیئرمین جسٹس کونڈا مادھو ریڈی فاؤنڈیشن کونڈا وشویشور یڈی،محکمہ فشریز کے ضلعی عہدیدار چریتا ریڈی اور دیگر شریک تھے سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر تلنگانہ اسمبلی گڈم پرساد کمار جوکہ حالیہ انتخابات میں حلقہ اسمبلی وقارآباد سے منتخب ہوئے ہیں نے کہا کہ کوٹ پلی پراجکٹ میں کشتی رانی کے دوبارہ آغاز کا مقصد بیروزگار ہوچکے افراد کو دوبارہ روزگار کی فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان کی جانب سے ماضی میں کیےگئے وعدہ کےمطابق آج سے دوبارہ کشتی رانی کا آغاز کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں شعبہ سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔جس سے کئی بیروزگار نوجوانوں کو روزگار بھی حاصل ہوگا۔اسپیکر تلنگانہ اسمبلی گڈم پرساد کمار نے اعلان کیاکہ آنے والے پانچ سالوں کے دؤران وقارآباد ضلع کو گجویل،سدی پیٹ اور سرسلہ کی طرز پر ترقی دی جائے گی۔انہوں نےکہا کہ سابق حکومت کی جانب سے وقارآبادضلع کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی ہے۔اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ پالمور۔رنگاریڈی لفٹ ایریگیشن اور پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کی تکمیل کرتے ہوئے ضلع کو سیرآب کیا جائے گا۔
اپنےخطاب میں اسپیکر اسمبلی گڈم پرساد کمار نے وقارآبادضلع میں موجودلکھنا پور،سرپن پلی اورنندی گاما پراجکٹس کوبھی کوٹ پلی پراجکٹ کی طرح سیاحتی مقام میں تبدیل کرتے ہوئے کشتی رانی کا آغاز کیا جائے گا جس سے ان مقامات پر آنے والے سیاحوں سے مقامی بیروزگار افراد اور چھوٹے کاروباریوں کو روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔
انہوں نے اعلان کیاکہ وہ کوٹ پلی پراجکٹ کو مزید ترقی دینے کی غرض سے فنڈس جاری کروائیں گے۔ضلع کی ترقی کےلیے عہدیدار اور عوامی نمائندے آپسی تال میل کے ذریعہ ضلع کو درکار سہولتوں اور ترقی کےمنصوبے اور درکار فنڈس کی تفصیلات انہیں پیش کریں تو وہ حکومت سے یہ رقم منظور کروائیں گے۔
اسپیکر تلنگانہ اسمبلی گڈم پرساد کمار نے اعلان کیا کہ 200 کروڑ روپئے کے مصارف سے اننت گیری ہلز کو ایکو ٹورازم کے طور پر ترقی دی جائے گی۔اسپیکر گڈم پرساد کمار نے کہا کہ مچھیروں کی تنظیموں کے مسائل بھی جلد حل کیے جائیں گے۔اور سب کو یکساں روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ محکمہ جات کےعہدیداروں کو ہدایت دی کہ کوٹ پلی پراجکٹ کے پاس کوئی بھی حادثات پیش نہ آئیں اس کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں اور اس پر گہری نظر رکھی جائے۔اس تقریب میں دھارور ایم پی پی وجئے لکشمی کے علاوہ مقامی عوامی نمائندے موجود تھے۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ و فاؤنڈر جسٹس کونڈا مادھوریڈی فاؤنڈیشن کونڈا وشویشور ریڈی کی جانب سے کوٹ پلی پراجکٹ میں چند سال قبل کشتی رانی کا آغاز کیا گیاتھا۔اس کےلیے کئی مواضعات سے نوجوانوں کا انتخاب کرتےہوئے انہیں تمل ناڈو کے چنئی روانہ کرکے کشتی رانی کی باقاعدہ تربیت فراہم کرتےہوئے انہیں روزگار سے جوڑا گیا تھا۔جبکہ ضلع وقارآباد میں موجود تمام 104 مچھیروں کی تنظیموں میں فی کس ایک کشتی مفت دی گئی تھی تاکہ وہ ان کے ذریعہ مچھلیاں پکڑ کر اپنا کاروبارکو وسعت دے سکیں۔
ضلع وقارآبادمیں 1967ء میں تعمیر 24 فیٹ ذخیرہ آب کے حامل اس کوٹ پلی پراجکٹ میں چند سال قبل مقامی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کی غرض سے پروگریسیو تلنگانہ فاؤنڈیشن کو حکومت کی جانب سے کشتی رانی کی اجازت دی گئی تھی بعد ازاں فروری 2021 میں حکومت نے کشتی رانی کا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔جبکہ اننت گیری ہلز آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد وہاں سے 20 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود کوٹ پلی پراجکٹ کو بھی سیاحت کی غرض سے جاتے ہیں۔اب کشتی رانی کے آغاز کے بعد سیاحوں کی آمد میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔

کوٹ پلی پراجکٹ میں کشتی رانی اور دیگر سیاحتی سرگرمیوں کو تلنگانہ کےمحکمہ سیاحت کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کوٹ پلی پراجکٹ کے ذریعہ وقارآباد کے دھارور اور کوٹ پلی منڈلات میں موجود 18 مواضعات کی 9200 ایکڑ اراضی سیر آب ہوتی ہے جسکے ذریعہ کسان ربیع سیزن میں تور، مونگ پھلی اور دیگر فصلوں کی کاشت کرتے ہیں۔
” یہ بھی پڑھیں "
تلنگانہ میں ایس ایس سی کے سالانہ امتحانات کے انعقاد کا شیڈول جاری
gaddamprasadkumar#
speakertelanganaassembly#
Boating#
Restart#
Kotepally#
Vikarabaddistrict#
Telangana#

