قرآن پاک سے متعلق عرضی عدالت عظمیٰ میں دائر کرنا تعزیرات ہند کے تحت جرم

قرآن پاک سے متعلق عرضی عدالت عظمیٰ میں دائر کرنا تعزیرات ہند کے تحت جرم

 آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ اور دیگر شیعہ تنظیموں نے ملعون وسیم رضوی کو "مرتد” قرار دیتے ہوئے اسلام سے خارج کردیا

نئی دہلی ۔14 مارچ۔(سحرنیوز ڈیسک)
معروف قانونی اسکالر،سابق صدر نشین قومی اقلیتی کمیشن ، سابق رکن لاکمیشن آف انڈیا اور مصنف پروفیسر سیدطاہرمحمود نے کہا ہے کہ 1984 ء میں کلکتہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ "عدالت کا قرآن مجیدکے معاملہ کا نوٹس لینا ملکی آئین کے خلاف ہوگا اور مدعیان نے عدالت میں یہ معاملہ اٹھا کر قانوناً ایک جرم کا ارتکاب کیا ہے”۔

معروف قانونی اسکالر،سابق صدر نشین قومی اقلیتی کمیشن ، سابق رکن لاکمیشن آف انڈیا اور مصنف پروفیسر سیدطاہرمحمود۔

پروفیسر سید طاہر محمود نے کلام پاک سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ فتنہ انگیزی کی یہ بدترین کوشش بجائے خود تعزیرات ہند کی دفعات 53A 1 اور 295A کے تحت سنگین جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔

یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ دفعہ 53A 1 مذہب کی بنیاد پر بدامنی پھیلانے کی کوشش کو جرم قرار دیتی ہے اور دوسری دفعہ 295A صاف طور پر کہتی ہے کہ ”جو کوئی شخص ہندوستان کے شہریوں کے کسی طبقے کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی نیت سے زبانی یا تحریری طور پر اس کے مذہب کی توہین کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے تین سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی“۔

معروف قانونی اسکالر،سابق صدر نشین قومی اقلیتی کمیشن ، سابق رکن لاکمیشن آف انڈیا اور مصنف پروفیسرطاہرمحمود نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو ان دفعات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مدّعی کے خلاف تعزیری کارروائی کی متعلقہ حکام کو ہدایت دینی چاہئے۔

پروفیسرطاہر محمودنے مزید کہا کہ 1984 ءمیں مسلمانوں کی مقدس کتاب کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک اسی قسم کا کیس دائر کیا گیا تھا جسے عدالت نے خارج کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ”عدالت کا اس معاملہ کا نوٹس لینا ملکی آئین کے قطعاً خلاف ہوگا اور مدعیان نے عدالت میں یہ معاملہ اٹھا کر قانوناً خود ایک جرم کا ارتکاب کیا ہے“۔

پروفیسرمحمود نے کہا ہے کہ یوں تو یہ نظیر بھی عدالت عظمیٰ کے علم میں ہوگی مگر اسے خود ہی اس مذموم فتنہ انگیزی کے لئے عدالت کا سہارا لئے جانے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہئے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ سپریم کورٹ اور متعدد اعلی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں معروف قانونی اسکالر،سابق صدر نشین قومی اقلیتی کمیشن ، سابق رکن لاکمیشن آف انڈیا اور مصنف پروفیسرطاہرمحمود  کی کتابوں سے بڑی تعدادمیں حوالہ دیا ہے۔

جن کی اردو تصانیف کی تفصیلات یہ ہیں:
٭ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کا مسئلہ (1972)
٭ حیات محمود1977)
٭ دل کی حکائتیں1998)
٭ جرأت رندانہ (2001)
٭ تازہ ہے میرے واردات (2005)
٭ قصہء درد سناتے ہیں (2009)
٭ ہم دشت میں دیتے ہیں اذاں (2011)
٭ کس سے منصفی چاہیں(2018)

تصانیف کی تفصیل بشکریہ : آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا

اسی دؤران آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ اور دیگر شیعہ تنظیموں نے ملعون وسیم رضوی کو "مرتد” قرار دیتے ہوئے اسلام سے خارج کردیاہے۔ایک ویڈیو پیغام میں ترجمان آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ مولانا ڈاکٹر یعصوب عباس نے وسیم رضوی کے اقدام کی سخت مذمت کی اور وسیم رضوی کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ سابق صدر شیعہ وقف بورڈ اتر پردیش ملعون وسیم رضوی نے قرآن پاک کی 26 آیات مبارکہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مسلمانان ہند اور دنیا کے تمام مسلمانوں کی دلاآزاری کی ہے۔

جس کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں تمام مسالک کے علماء کرام ، مشائخین کے علاوہ مسلمانان ہند بڑے پیمانے پر احتجاج کررہے ہیں اور ملک کے مختلف شہروں میں اس ملعون کے خلاف پولیس میں شکایتیں درج کروائی جارہی ہیں کہ یہ ملعون میڈیا کے ایک مخصوص گوشہ کے ذریعہ منافرت پھیلانے اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں مصروف ہے۔

ساتھ ہی اس کی فوری گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے ۔ وہیں وسیم رضوی کے چھوٹے بھائی کا ایک ویڈیو بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں و اس ملعون وسیم رضوی کو پاگل اور مجنوں قراردیتے ہوئے اعلان کیے ہیں کہ ان کا یا ان کی والدہ محترمہ، بھائی اوربہن کا وسیم رضوی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔