جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی…
گڈم پرساد کمار، تانڈور کی ایک دودھ فروش ماں کے فرزند
تلنگانہ اسمبلی کے تیسرے اسپیکر کے طور پر منتخب
متحدہ آندھرا پردیش میں وزیر ٹکسٹائل بننے کا اعزاز بھی حاصل
حیدرآباد/وقارآباد : 15؍ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
گڈم پرساد کمار کا تلنگانہ اسمبلی اسپیکر کے طور پر بلاء مقابلہ کل انتخاب عمل میں آیا ہے۔حالیہ انتخابات میں انہوں نے وقار آباد ضلع کے حلقہ اسمبلی وقار آباد کے رکن اسمبلی، صدر ضلع بی آر ایس و بی آر ایس پارٹی امیدوار ڈاکٹر میتکو آنند کو 12,893 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی تھی۔جی۔پرساد کمار نے جملہ 86.885 ووٹ حاصل کیے،وہیں ان کے حریف رکن اسمبلی و بی آر ایس امیدوار ڈاکٹر میتکو آنند کو 73,992 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔
جی۔پرساد کمار 2014ء میں تشکیل میں لائی جانے والی جدید ریاست تلنگانہ اسمبلی کے تیسرے اسپیکر بن گئے۔جی۔پرساد کمار نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی،پروٹیم اسپیکر و قائد مجلس مقننہ اکبر الدین اویسی،نائب وزیراعلیٰ ملو بھٹی وکرا مارکا،ریاستی وزراء،سابق وزیر آئی ٹی و کارگزار صدر بی آرایس کے۔تارک راما راو اور دیگر کی موجودگی میں اسپیکر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔

جی۔پرساد کمار 4 جون 1964ء کو وقارآباد کےموضع(موجودہ منڈل) مرپلی کےساکن ایلیا اور ایلماں کے گھر پیدا ہوئے یہ خاندان مرپلی سے تانڈور ٹنتقل ہوگیاتھا۔ان کی پیدائش اور پرورش تانڈور کی کمہار گلی میں ہوئی۔ان کےوالد ایلیا ریلوے گینگ مین تھے جن کا 1980ء میں انتقال ہوگیا۔8 بہنوں اور ایک بھائی کی پرورش و نگہداشت کی ذمہ داری ان کی والدہ پالا ایلماں کی نگرانی میں ہوئی جو کہ اس وقت زراعت کے ساتھ ساتھ دودھ فرخت کیا کرتی تھیں۔تانڈور میں وہ پالا ایلماں کے طور پر ہی جانی جاتی تھیں۔
جی۔پرساد کمار جو کہ 8 بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں نے والد کے انتقال کے بعد 16 سال کی عمر سے ہی اپنی ماں کےساتھ گھریلو ذمہ داریاں بھی بخوبی نبھائیں۔دسویں جماعت تک پرساد کمارکی تعلیم تانڈور کے کرسچین مشنری ولیم مون ہائی اسکول میں ہوئی اور تانڈور کےگورنمنٹ جونیئر کالج میں انہوں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی۔بعدازاں پرساد کمارنے ظہیر آباد کے پالی ٹیکنک سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تکمیل کی اور پھر اپنی بہن کے مکان واقع حیدرآباد منتقل ہوکر انہوں نے امبیڈکر کالج حیدرآباد سے بی اے کی تعلیم مکمل کی۔اسی دوران پرساد کمار نے حمایت نگر میں اپنا پریہ پرنٹنگ پریس قائم کیا تھا۔وہ سابق کانگریسی وزیر جی۔وینکٹ سوامی(وساکھا گروپ) کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
1989ء میں پرساد کمار کا سیاست میں داخلہ کانگریس کی طلبا تنظیم این ایس یو آئی سے ہوا۔2001ء میں وہ مرپلی سے ایم پی پی منتخب ہوئے۔ 2007ء میں ٹی آر ایس (موجودہ بی آر یس) کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کے باعث منعقدہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں جی۔پرساد کمار نے حلقہ اسمبلی وقارآباد (محفوظ)سے وائی ایس آر کی قیادت والی حکومت میں کانگریس امیدوار کےطور پر مقابلہ کرتےہوئے 4,999 ووٹوں کی اکثریت سے اس وقت کے ٹی آر ایس رکن اسمبلی و امیدوار ڈاکٹر اے۔چندرا شیکھر کو شکست دی جنہیں ناقابل شکست مانا جاتا تھا جو پانچ مرتبہ اس حلقہ سے منتخب ہوتے آئے تھے۔
بعدازاں 2009ء میں منعقدہ آندھراپردیش اسمبلی کے انتخابات میں بھی انہوں نےوائی ایس آر کی زیر قیادت کانگریسی امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی۔پرساد کمار فروری 2012ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ متحدہ ریاست آندھرا پردیش نلاری کرن کمار ریڈی کی کابینہ میں وزیر ٹکسٹائل، اسمال اسکیل انڈسٹریز کے طور پر شامل کیے گئے۔وقارآباد میں گورنمنٹ جونیئر کالج (اردو میڈیم ) کا قیام پرساد کمار کا ہی کارنامہ ہے۔
علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2014ء کے اسمبلی انتخابات میں جی۔پرساد کمار کو ٹی آر ایس کے سنجیوا راؤ کے ہاتھوں اور 2018ء کے اسمبلی انتخابات میں انہیں بی آر ایس امیدوار ڈاکٹر میتکو آنند کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔تاہم انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔
2023ء کے حالیہ منعقدہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی وقارآباد سے پرساد کمار رکن اسمبلی و بی آر ایس امیدوار ڈاکٹر میتکو آنند کو ہی شکست دیتے ہوئے پہلی مرتبہ تلنگانہ اسمبلی میں داخل ہوئے اور اسپیکر کے عہدہ تک پہنچ گئے۔
نومنتخب اسپیکر تلنگانہ اسمبلی جی۔پرساد کمار کی شخصیت بے داغ، ملنسار اور خاموش مزاج انسان کے طور پر جانی جاتی ہے۔وہ شروع سے ہی کانگریس میں ایک مضبوط سپاہی کی طرح جمےرہے۔جبکہ مختلف مواقع پرایسی افواہیں زیرگشت رہیں کہ وہ بی آر ایس پارٹی میں شامل ہونےوالے ہیں تاہم وہ ہر مرتبہ اس کی سختی کے ساتھ تردید کرتے رہے تھے۔
حالیہ انتخابی مہم کے دوران وقارآباد میں ایک روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے کارگزار صدر بی آر و سابق ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا تھا کہ بی آر ایس امیدوار کےخلاف مقابلہ کرنےوالے کانگریسی امیدوار یہ کہتے گھوم رہےہیں کہ وہ کامیاب ہونےکےبعد بی آر ایس میں شامل ہونگے ۔اس لیے ان کو کیوں ووٹ دیا جائے۔؟ کے ٹی آر کے اس الزام پر جی۔پرساد کمار نے شدید برہمی ظاہر کی تھی کہ رائے دہندوں کو لبھانے اور ان کی شبیہ خراب کرنے کی غرض سے یہ جھوٹ بولا گیا ہے۔تانڈور میں جی۔پرساد کمار مسلم اکثریتی علاقہ کمہار گلی میں رہائش پذیر تھے اور ان کے دوستوں کے حلقہ میں زیادہ تر مسلم ہی شامل تھے۔
جی۔پرساد کمار نے اپنی ساری زندگی انتہائی سادہ مزاجی کے ساتھ گزاری ہے۔ان کے اسپیکربن جانے پر تانڈور میں خوشی کا اظہار کیاجارہا ہے کہ ان کی طویل صبر آزما جدوجہد،سیاسی اقدار پر عمل،ایک ہی پارٹی سے زندگی بھر ان کی وفاداری جہاں ان کے لیے فائدہ مندثابت ہوئی وہیں آج کے دؤر کے عام انسانوں بالخصوص سیاستدانوں کے لیے وہ ایک مثال ہیں کہ صبر،عزم،مستقل مزاجی اور ایمانداری کا پھل تاخیر سے ہی سہی حاصل ضرور ہوتا ہے۔
بقول شاعر ؎
جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے
” یہ بھی پڑھیں "
پارلیمنٹ کی گیلری سے دو افراد دھواں چھوڑنے والے ڈبوں کے ساتھ کود گئے

Gaddmprasadkumar#
Telangana#
Assemblyspeaker#

