وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی نے ہسپتال پہنچ کر سابق وزیر اعلیٰ کے سی آر کی عیادت کی

میرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کی
اس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا

وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی نے ہسپتال پہنچ کر سابق وزیراعلیٰ کے سی آر کی عیادت کی

حیدرآباد : 10۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

سیاسی اقدار کی بری طرح پامالی کے اس موجودہ دؤر میں نومنتخب وزیر اعلیٰ تلنگانہ اینمولا ریونت ریڈی نے تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج سوماجی گوڑہ حیدر آباد میں موجود یشودھا ہسپتال پہنچ کر بی آر ایس پارٹی سربراہ و حالیہ سابق وزیراعلیٰ کے۔چندرا شیکھر راؤ کی عیادت کی۔انہوں نے اپنے اس اقدام سے ملک اور سیاست دانوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ چاہے وہ کسی بھی سیاسی منصب پرہوں سب سے پہلے وہ ایک انسان ہیں اور ایک دوسرے کےساتھ لاکھ اختلافات اپنی جگہ،لیکن ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کی مدد کرنا اور حوصلہ بڑھانا ہی انسانیت کی معراج ہے۔

حالیہ سابق وزیراعلی کے۔چندر شیکھر راؤ تین دن قبل رات کےوقت حیدرآباد سے 60 کلومیٹر کےفاصلہ پر موجود ایراویلی میں واقع اپنےفارم ہاؤز کے واش روم میں پھسل کر گرگئے تھے۔جس کے فوری بعد انہیں یشودھا ہسپتال منتقل کیا گیا اور تشخیص کے بعد انکشاف ہوا تھا کہ ان کے کولہے میں ہیئر لائن فریکچر ہو گیا۔اسی دن ڈاکٹروں کی ٹیم نے چار گھنٹے طویل سرجری کی تھی۔ہسپتال میں ڈاکٹرس کی نگرانی میں زیر علاج کے۔چندراشیکھر راؤ کو ڈاکٹروں نے 8 تا 10 ہفتے مکمل آرام کرنے کی صلاح دی ہے۔

وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی جنہوں نے 7 ڈسمبر کو اپنے عہدہ کا حلف لیا نے کے سی آر کے افراد خاندان اور ڈاکٹروں سے ان کی صحت کے متعلق تفصیلات حاصل کی تھیں نے آج ہسپتال کی 9 ویں منزل پر موجود وارڈ میں سابق وزیراعلیٰ کےسی آر سےبھی بات کی،جنہوں نے اپنے زخموں کے متعلق ریونت ریڈی کو واقف کروایا۔وزیراعلیٰ نے کے سی آر سے ان کی صحت کے متعلق تفصیلات بھی حاصل کیں۔

وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے ہسپتال میں موجود کے سی آر کے فرزند و کارگزار صدر بی آر ایس اور حالیہ سابق وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ،حالیہ سابق وزیر فینانس ٹی۔ہریش راؤ سے بھی بات کی اور کے سی آر کی صحت کےمتعلق معلومات حاصل کیں،جنہوں نےوزیراعلیٰ کو بتایاکہ وہ روبہ صحت ہو رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کے ساتھ ریاستی وزیر سیتا اکا اور سینئر پارٹی قائد محمد علی شبیر کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔

بعدازاں ریونت ریڈی نے ڈاکٹروں سےبھی کے سی آر کی صحت کے بارے میں بھی پوچھا اور سابق وزیراعلیٰ کےبہتر علاج و معالجہ کی ہدایت دی۔ماناجارہاہے کہ ایک دوسرے کےسخت سیاسی حریف مانےجانے والے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور سابق وزیراعلیٰ کے سی آر کی یہ ملاقات پتہ نہیں کتنے سال بعد ہوئی ہے، جسے ریاست اور عوام کے مفاد میں خوش آئند ہی کہا جاسکتا ہے۔

بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے کہاکہ انہوں نےچیف سکریٹری اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ سابق وزیراعلیٰ کے سی آرکے علاج کےلیے تمام ضروری مدد اور تعاون فراہم کریں۔وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے کہاکہ انہوں نے آج عیادت کے دؤران حالیہ سابق وزیراعلیٰ کے سی آر سےدرخواست کی کہ وہ تیزی سےصحتیاب ہوجائیں اور تلنگانہ اسمبلی کےاجلاس میں شرکت کریں تاکہ عوامی نمائندگی کے ذریعہ عوام کی آواز اٹھانے اور عوام کو بہتر حکمرانی فراہم کرنے کے لیے ان کے تجربہ اور مشوروں کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے آج ان کے سخت سیاسی حریف مانے جانے والے اور ایک ہفتہ قبل ہی انہیں ساڑھے نو سالہ ناقابل شکست مانےجانے والے دؤرا قتدار سے بے دخل کرنے کے باؤجود ہسپتال پہنچ کر سابق وزیراعلیٰ کے سی آر کی عیادت کرناواقعی سیاسی اور انسانی اقدار کی پامالی کے اس دؤر میں قابل ستائش اقدام ہے۔بالخصوص میدان سیاست میں پامال کیے جارہے اقدارکے علاوہ دشمنی، بدلہ کی سیاست، کارروائی اور گرفتاریوں کے اس دؤر میں وزیراعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی نے ریاست تلنگانہ کی تہذیب کو ملک کے لیے ایک مثال بنا دیا ہے۔جس کی سوشل میڈیا پر بھی زبردست ستائش کی جا رہی ہے۔

وہیں بعض دانشورصحافی اس بات پر بھی تنقید کررہے ہیں کہ سوشل میڈیا پرسابق وزیراعلیٰ کے سی آراوران کےفرزند حالیہ سابق وزیر کے ٹی آر کے خلاف نازیبا میمز، ویڈیوز اور تصاویر کو وائرل کرتے ہوئے نچلی ذہنیت کا ثبوت دیا جارہا ہے اور یہ نہ تلنگانہ کی تہذیب ہے اور نہ اس کے دارالحکومت حیدرآباد کی!! کیونکہ سابق وزیراعلیٰ کے سی آر اور ان کے طرز حکمرانی سے لاکھ مخالفت اپنی جگہ لیکن ریاست تلنگانہ حاصل کرنے اور اس کو ترقی دینے میں ان کی جدوجہد اور اقدامات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔!!

سوشل میڈیا پر ایسی حرکتیں کرنے والوں کو کم از کم ان کی عمر اور ان کی طویل خدمات کا خیال تو رکھنا ضروری ہوگا!! ہار جیت سیاست اور کسی بھی کھیل کا حصہ ہوتے ہیں۔لیکن کسی کی ہار کا جشن اس طرح منانا اور اس کےخلاف انتہائی نازیبا ویڈیوز، فوٹوز بناکر وائرل کرنا نہ کسی مذہب کی تعلیم ہے اور نہ کسی تعلیم کا حصہ۔!!

اپنے سخت سیاسی حریف مانےجانےوالے حالیہ سابق وزیراعلیٰ کے چندراشیکھرراؤ کی ہسپتال پہنچ کرعیادت کیے جانے پرموجودہ سیاسی حالات میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی پر شاید ندا فاضلی کا یہ شعر صادق آتا ہے۔!!؎

میرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کی
اس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا

یہ بھی پڑھیں ” 

تلنگانہ میں کانگریس کی 6 گیارنٹی اسکیمات میں سے دو کا آغاز، خواتین کو بسوں میں مفت سفر اور دس لاکھ روپیوں پرمشتمل راجیوآروگیہ شری انشورنس کا نفاذ