ریونت ریڈی کی بحیثیت وزیراعلیٰ تلنگانہ حلف برداری، 12 وزراء نے بھی حلف لیا
6 گیارنٹی اسکیمات اور ایک پستہ قد لڑکی کو سرکاری ملازمت کی فائلوں پر پہلی دستخط
پرگتی بھون عوام کے لیے وقف،خاردار آہنی تار اور بیریکیڈز بلڈوزرس سے ہٹا دئیے گئے
حیدرآباد: 07۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
ریونت ریڈی نے آج 7 ڈسمبر کو ریاست تلنگانہ کے تیسرے وزیراعلیٰ کے طور پر اپنے عہدہ کاحلف لیا۔ایل بی اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب حلف برداری میں ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سؤندر راجن نے 54 سالہ ریونت ریڈی کو عہدہ راز داری کا حلف دلایا۔آج دوپہر ایک بج کر 20 منٹ پر ایک لاکھ سے زائد عوام کے مجمع کے درمیان انہوں نے حلف لیا۔

قبل ازیں ریونت ریڈی شریمتی سونیا گاندھی کےساتھ ایک کھلی جیپ میں سوار ایل بی اسٹیڈیم پہنچےتھے۔اس تقریب حلف برداری میں صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی جناب ملک ارجن کھرگے،سابق صدور آل انڈیا کانگریس شریمتی سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے علاوہ جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کےبشمول وزیر اعلیٰ کرناٹک سدرامیا،نائب وزیر اعلیٰ کرناٹک و آبزرور ڈی کے شیو کمار،وزیراعلیٰ ہماچل پردیش سکھویندرسنگھ سکھو،
حالیہ سابق وزرائے اعلیٰ راجستھان و چھتیس گڑھ اشوک گہلوت،بھوپیش بگھیل،سابق وزرائےاعلیٰ مدھیہ پردیش،مہاراشٹرا اور کرناٹک ڈگ وجئے سنگھ،اشوک چوہان اور ویرپا موئیلی،سابق مرکزی وزیر پی۔چدمبرم، مانیکم ٹھاگور اور قومی و ریاستی قائدین کی موجودگی میں ریونت ریڈی نے اپنے عہدہ کا حلف لیا۔شہءء نشین پر کانگریس کے نومنتخب 64 ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔

ریونت ریڈی کےساتھ 12 سینئر پارٹی قائدین ملو بھٹی وکرا مارکا نےبحیثیت نائب وزیراعلیٰ حلف لیا۔جبکہ ریاستی وزراء کےطور پر کیپٹن اتم کمار ریڈی، دامودرراج نرسمہا، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی،سریدھر بابو،پونگولیٹی سرینواس ریڈی،پونم پربھاکر،کونڈا سریکھا، ڈی انوسویا(سیتا اکا)،تملا ناگیشور راؤ اور جوپلی کرشنا راؤ نے بھی حلف لیا۔جبکہ وقارآباد حلقہ اسمبلی سے منتخب جی۔پرساد کمار کو اسپیکر تلنگانہ اسمبلی کے طور پر منتخب کیا گیا۔
2014 میں کانگریس قیادت والی مرکزی یو پی اے حکومت کی جانب سےعلحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے بی آر ایس پارٹی چیف کے۔چندرا شیکھرراؤنے ریاست میں دو مرتبہ منعقدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتےہوئے تلنگانہ کا اقتدارسنبھالاتھا اب انمولا ریونت ریڈی ریاست کے تیسرے اور کانگریس پارٹی کے پہلے وزیراعلیٰ بن گئے۔
https://www.youtube.com/watch?v=CKmHZOsCkLI
اپنے عہدہ کا حلف لینے کے بعد وزیراعلیٰ انمولا ریونت ریڈی نے حسب وعدہ کانگریس کے انتخابی منشور میں شامل 6 گیارنٹی اسکیمات کی فائل پر پہلی دستخط کی اور ایک پستہ قد لڑکی کو سرکاری ملازمت کی فراہمی کی فائل پر بھی دستخط کیے۔کانگریس نے انتخابات میں جاری کردہ اپنے انتخابی منشور میں جن 6 گیارنٹی اسکیمات کا وعدہ کیا گیا تھا وہ یہ ہیں :-
1۔ مہالکشمی اسکیم : خواتین کے لیے ہر ماہ 2,500 روپئے۔آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر۔ 500 روپئے میں گھریلو پکوان گیس سیلنڈر۔
2۔ رعیتو (کسان) بھروسہ : کسانوں اور قول دار کسانوں کے لیے فی ایکڑ 15,000 روپے۔زرعی مزدور کےلیے 12,000 روپئے،دھان کی فصل کے لیے 500 روپئے کا اضافی بونس۔
3۔ گرہا جیوتی اسکیم : فی خاندان 200 یونٹ تک مفت بجلی۔
4۔ اندرماں انڈلو(مکان) اسکیم: بےگھر افراد کومکان تعمیر کرنےکے لیے زمین اور 5 لاکھ روپے، تلنگانہ جدوجہد میں مرنے والوں کے خاندانوں کو 250 مربع گز کا مکان پلاٹ۔
5۔ نوجوانوں کی ترقی کے لیے: 5 لاکھ روپئے کا تعلیمی انشورنس کارڈ اور ہر منڈل میں تلنگانہ انٹرنیشنل اسکول کا قیام۔
6۔ ورکرز کے لیے: ماہانہ پنشن 4,000 روپئے اور 10 لاکھ کا راجیو آروگیہ شری بیمہ۔
اپنے عہدہ کا حلف لینے کےبعد اپنے پہلےعوامی خطاب میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کی بنیاد کئی قربانیوں پر رکھی گئی ہے۔انہوں نے تلنگانہ کی ترقی کے عزائم اور بی آر ایس حکومت پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ کانگریس نے تلنگانہ کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کی غرض سے علحدہ ریاست تشکیل دی تھی۔لیکن بی آر ایس حکومت نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ کو ابھی ابھی آزاد ی حاصل ہوئی ہے۔کسانوں اور بیروزگاروں کے لیے اندرماں راجیم قائم ہواہے۔انہوں نے کہاکہ بی آر ایس حکومت کی جانب سے پرگتی بھون کےقریب لگائےگئے خاردار آہنی تاروں اور بیریکیڈز کو اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے۔(یاد رہے کہ آج ہی بلڈوزرز کے ذریعہ انہیں پرگتی بھون کے اطراف سے ہٹادیا گیاہے) ریونت ریڈی نے کہا کہ دس سال تک عوام نے تمام تکالیف کو خاموشی کے ساتھ برداشت کیا ہے۔اور ان رکاوٹوں کو ہٹا دینے کے بعد پرگتی بھون میں اب عوامی حکومت چلائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ اب کوئی بھی اور کبھی بھی آزادانہ طور پر بے خوف پرگتی بھون کو آ سکتے ہیں اور اب تلنگانہ حکومت کے عوام ہی حصہ دار ہونگے ۔ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں اعلان کیاکہ عوامی مسائل کی سماعت اور ان کے فوری حل کی غرض سے کل بروز جمعہ 8 ڈسمبر کو صبح 10 بجے پرگتی بھون میں وہ پرجا دربار کا انعقاد عمل میں لا رہے ہیں۔اطلاع ہے کہ اب ہر جمعہ کو پرگتی بھون میں پرجا دربار کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔جہاں عوام اپنی شکایتیں لے کر جاسکتے ہیں جن کے فوری حل کا قوی امکان ہوتا ہے۔
حلف برداری کے فوری بعد وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اسٹیڈیم سےسیدھے ریاستی سیکریٹریٹ پہنچ گئے اور اپنے چیمبر میں وزیراعلیٰ کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔اسی دؤران چیف سیکریٹری تلنگانہ محترمہ شانتی کماری نے احکام جاری کرتے ہوئے شیشادری کو وزیراعلیٰ کے چیف سیکریٹری اور بی۔ششی دھر ریڈی کو تلنگانہ انٹلی جنس چیف کے طور پر تقرر عمل میں لایا ہے۔آج شام دیر گئے کابینہ کا اجلاس جاری ہے۔
” یہ بھی پڑھیں ”


