تلنگانہ میں مخلوط حکومت کا قیام آر ایس ایس کا منصوبہ ، کانگریس آر ایس ایس کی ماں ، تلنگانہ میں مخلوط حکومت نہ بننے دیں : وقارآباد میں بیرسٹر اویسی کا خطاب

تلنگانہ میں مخلوط حکومت کا قیام آر ایس ایس کا منصوبہ، کانگریس آر ایس ایس کی ماں
مسلمان اپنے ووٹوں کا استعمال دوراندیشی کے ساتھ کریں، مخلوط حکومت بننے نہ دیں
وقار آباد میں صدر مجلس و رکن پارلیمان بیرسٹر اسد الدین اویسی کا جلسہ حالات حاضرہ سے خطاب

حیدرآباد/وقارآباد : 15؍نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہاہے کہ آر ایس ایس کا منصوبہ ہے کہ تلنگانہ میں مخلوط حکومت قائم ہو۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ہرگز مخلوط حکومت کے قیام کے منصوبوں کو کامیاب ہونے نہ دیں اور منظم طریقہ سے دوبارہ بی آرایس حکومت کےقیام کو ترجیح دیں۔صدر مجلس و رکن پارلیمان بیرسٹر اویسی گزشتہ رات وقارآباد ضلع مستقر کےچیگور پلی گروانڈ میں منعقدہ جلسہ حالات حاضرہ میں شریک کثیر مجمع سے خطاب کر رہے تھے۔

بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآبادنے کانگریس پارٹی کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے کہاکہ کانگریس آر ایس ایس کی ماں ہے۔انہوں نے راجستھان کی کانگریس حکومت کی موجودگی میں ناصر اور جنید کے ہریانہ میں قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اس لیے کانگریس پارٹی کو مضبوط نہ کریں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں کانگریس اقتدار کاحوالہ دیا جارہا ہے جبکہ وہاں 80 ہزارمسلم طلبہ کی اسکالر شپ بند کردی گئی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مسلمان تلنگانہ کو شمالی ریاستوں میں تبدیل ہونے نہ دیں۔بیرسٹر اسد اویسی نے کہا کہ کرناٹک میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ مسابقتی امتحانات میں مسلم لڑکیاں حجاب پہن کر امتحان نہیں لکھ سکتیں۔انہوں نے مجمع سے سوال کیا کہ کیا تلنگانہ میں کسی حجابی لڑکی کو کسی امتحان میں ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے۔؟انہوں نے سوال کیاکہ کرناٹک میں کانگریس نے بجرنگ دل پر پابندی کی بات کی تھی لیکن آج تک کانگریس نے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے کہاکہ اس لیےمجلس اتحادالمسلمین نے ریاست کے عوام سے اپیل کی ہے کہ مجلس کی 9 نشستوں کے علاوہ ریاست کی دیگر نشستوں پر ماموں کی جماعت (بی آر ایس)کو ووٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں آر ایس ایس کے بڑھتے قدموں کو روکنے کے لیے مجلس نے اپنی کئی نشستوں کی قربانی دی ہے۔

صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ وقارآبادضلع میں موجودحلقہ اسمبلی کوڑنگل سے آر ایس ایس انا (صدر تلنگانہ پریش کانگریس کمیٹی و امیدوار حلقہ اسمبلی کوڑنگل ریونت ریڈی)کو بھی شکست سے دوچار کرتے ہوئے انہیں ان کے گھر کو روانہ کر دیں۔اور حلقہ اسمبلی وقارآباد، تانڈور، پرگی اور کوڑنگل سے بی آر ایس امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔

بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تلنگانہ کے عوام کے مفاد میں مجلس نے یہ فیصلہ لیا ہے کیونکہ مجلس تلنگانہ کے مستقبل کو برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔اجڑے ہوئے گھروں پر ہم اپنا سیاسی محل تعمیر نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔اسی لیے مجلس نے نظام آباد اور دیگر علاقوں سے اپنے امیدواروں کو کھڑانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلہ سے جماعت کے دیگر ذمہ داروں نے بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے انہیں اعتماد میں لیا۔

صدر مجلس بیرسٹر اویسی نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور راہول گاندھی دونوں تنہا ہیں اس لیے دونوں اپنا اضطراب اور مایوسی مجلس پر ظاہر کرتے ہیں۔بیرسٹر اویسی نے کہاکہ راہول گاندھی نے یہ الزام عائد کیا کہ مجلس جہاں مقابلہ کرتی ہے وہاں پر اس کے لوگ پیسے لے کر کام کرتے ہیں۔

اس پر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ان سے سوال کیا کہ 2004ء سے 2012ء تک مجلس نے منموہن سنگھ حکومت کی تائید کی تھی اس وقت کانگریس نےمجلس کو کتنے پیسے دیئے تھے؟انہوں نے سوال کیاکہ نیوکلیر معاہدہ کے موقع پر،تحریک عدم اعتماد کے موقع پر،پرنب مکرجی کے صدارتی انتخاب کے موقع پر مجلس نے کانگریس کا ساتھ دیا تھا تو کانگریس نے مجلس کو کتنے پیسے دیئے تھے۔؟

بیرسٹر اویسی نے کہا کہ آر ایس ایس انا (ریونت ریڈی)نے اب مودی کی زبان اختیار کرلی ہے۔انہوں نے اب مسلمانوں کی داڑھی، ٹوپی اور شیروانی پر حملہ کیاہے۔صدر مجلس نے کہا کہ ہٹلر نے یہودیوں کی نسل کشی سے قبل ان کے لباس کو نشانہ بنایا تھا اور ان کے خلاف فلمیں بنائی گئی تھیں۔اسی طرح ملک میں بھی اقلیتوں کی شناخت کو نشانہ بناکر ان کے خلاف فلمیں بنائی جا رہی ہیں۔

صدر مجلس بیرسٹر اویسی نے وقارآباد میں مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حل کر وایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے رکن پارلیمان چیوڑلہ رنجیت ریڈی سے کہا گیاہےکہ ابھی سیمی فائنل چل رہا ہے فائنل سے پہلے یہ مسائل حل ہونگے تو ان کا دہلی جانے کا راستہ آسان ہوگا۔

بیرسٹر اویسی نے اپنے خطاب میں گزشتہ 10 سال کے دوران اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مجلس کی موثر نمائندگی پر جو کام انجام دیئے گئے ان کی مکمل تفصیلات اعداد و شمار حوالوں کے ساتھ پیش کیے۔بیرسٹر اسد الدین اویسی نے عوام سے اپیل کی کہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کےلیے دوراندیشی کے ساتھ فیصلہ کریں۔جہاں مجلس کا امیدوار ہو وہاں مجلس کو ووٹ دیں اور جہاں مجلس کا امیدوار نہ ہو وہاں بی آر ایس پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔

اس جلسہ حالات حاضرہ کے شہ نشین پر صدر مجلس اتحاد المسلمین تانڈور عبدلہادی شہری،مجلسی فلور لیڈر بلدیہ تانڈور سید ساجد علی، علیم الدین سکریٹری ٹاون مجلس وقارآباد، صدر مجلس دھارور معز قریشی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں ” 

وقارآباد ضلع میں جملہ 9 لاکھ 60 ہزار 376 رائے دہندے موجود ، وقارآباد سے 12، تانڈور سے 21، پرگی سے 15 اور کوڑنگل سے 13 امیدوار میدان میں