وقار آباد ضلع کے سیاحتی مقام اننت گیری ہلز پر چیتا کی ہلچل
سڑک عبور کرتے ہوئے دیکھ کر کار میں سوار عہدیدارحیرت زدہ
محکمہ جنگلات کے عہدیدار چوکس، جائے مقام پر تلاشی مہم
حیدرآباد/وقارآبا: 06؍نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
وقارآباد ضلع میں موجود مشہورسیاحتی مقام اننت گیری ہلز پر آج شام چیتا کی ہلچل کی اطلاع کے فوری بعدمحکمہ جنگلات کےعہدیدار چوکس ہوگئے ۔ وہیں اننت گیری ہلز سے گزرنے والے موٹرسیکل سواروں اور دیگر گاڑی سواروں کے علاوہ اطراف میں موجود دیہاتوں میں بھی خوف اور سنسنی کی لہر دؤڑ گئی ہے۔
وقار آباد ضلع مستقر سے 6 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود سیاحتی مقام اننت گیری ہلز پر پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کےمطابق انتخابی ڈیوٹی پر موجود محکمہ مال کےعہدیداروں پرمشتمل فلائنگ اسکواڈ میں شامل تین عہدیدار آج شام 30-5 بجے بذریعہ کار اننت گیری ہلز سے وقارآباد کی جانب جا رہے تھے کہ اننت گیری ہلز پر موجود ہریتاریسارٹ کے سامنے سے گزر کر جونہی ان کی کار وقار آباد کی جانب دؤڑنے لگی تو ان عہدیداروں نے بالکل قریب سے ایک چیتا کو سڑک عبور کرتے ہوئے دیکھا۔
ہریتا ریسارٹ سے شروع ہونے والی یہ سڑک چھوٹے سے گھاٹ کی مانند ہے جو نیچے کی جانب ڈھلان کی حامل ہے، جس سے گاڑیوں کی رفتار خود بخود تیز ہوجاتی ہے۔چیتا دیکھنے والے عہدیداروں نے بشمول سحرنیوز دیگر میڈیانمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔
" اننت گیری ہلز کی یہی وہ ڈھلان والی سڑک ہے جہاں آج شام چیتا دیکھا گیا "
انہوں نے بتایا کہ اس کی اطلاع انہوں نے فوری ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر وقارآباد ضلع وینو مادھو کو دی ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اننت گیری ہلز کی اس اہم شاہراہ پر چیتا کو دیکھ کر وہ خود حیران رہ گئے جوکہ ان کی کار کےبالکل قریب سے سڑک عبور کر گیا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اچانک پیش آنے والے اس ناقابل یقین واقعہ کے وقت انہیں اس چیتا کی تصویر یا ویڈیو لینے کا خیال بھی نہیں آیا نہ انہیں اتنا وقت ہی مل پایا۔انہوں نے کہا کہ گزرنے والا جانور کوئی اور نہیں بلکہ چیتا ہی تھا۔
دوسری جانب ان عہدیداروں کی اطلاع کےفوری بعد محکمہ جنگلات کے عہدیدار چوکس ہوگئے ہیں اور اننت گیری ہلز پہنچ کر جائزہ لےرہے ہیں۔خصوصی ٹیموں کو بھی گشت پر لگایا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر وینو مادھو نے کہا کہ ان مقامات پر خصوصی ویڈیوز نصب کیے جارہے ہیں جو چیتا کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں اور فوری اس کی منظر کشی کرتے ہوئے پیغام ارسال کرتے ہیں۔
تانڈور اور وقار آباد کے درمیان 2,400 ایکڑ جنگلاتی اراضی پر مشتمل اننت گیری ہلز مختلف جانوروں اور جڑی بوٹی کے نایاب اور نادر پودوں کی آماجگاہ ہے۔جہاں بالخصوص تعطیلات کے دوران سیاحت کی غرض سےبشمول حیدرآباد تلنگانہ کے اور پڑوسی ریاست کرناٹک کےمختلف مقامات سے سیاحوں کی بڑی تعداداننت گیری پہنچتی ہے۔
وہیں تانڈور، دھارور، کیرالی سے حیدر آباد اور وقار آباد جانے اور آنے والی گاڑیاں اسی راستے سے گزرتی ہیں جہاں آج شام چیتا دیکھا گیا۔موٹر سیکل سواروں کےلیے چیتا کی موجودگی خطرناک مانی جاتی ہے۔جبکہ آٹورکشاوں کےذریعہ بھی دیہی عوام کی بڑی تعداد اسی راستے سےگزرتی ہے
محکمہ جنگلات وقار آباد ضلع کے عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ اننت گیری ہلز کے قریب ہی موجود داما گنڈم کے جنگلات میں بھی 15 دن قبل چیتا کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی۔اننت گیری ہلز پر چیتا کی ہلچل کی اطلاع کے بعد لازمی ہوگیاہے کہ اس سڑک سے گزرنے والے موٹر سیکل راں اور آٹورکشا ڈرائیورز محتاط رہیں۔


