تلنگانہ پولیس اپنی کارکردگی اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال میں ملک بھر میں سرفہرست
زمینات کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث قتل کی وارداتوں میں اضافہ، روکنے کے لیے سخت اقدامات
وزیر داخلہ محمدمحمود علی کا جائزہ اجلاس، پرنسپل سیکریٹری، ڈی جی پی اور کمشنران پولیس کی شرکت
حیدرآباد : 06۔ستمبر
(پریس نوٹ/سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاستی وزیر داخلہ محمدمحمود علی نے جرائم کی موجودہ صورتحال اور ان پر قابو پانے کے اقدامات کےلیے اپنے دفتر میں آج ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔اس اجلاس میں پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر جیتندر،ڈائریکٹر جنرل آف پولیس(ڈی جی پی) انجنی کمار،کمشنران پولیس حیدرآباد،راچا کونڈہ اور سائبرآباد سی وی آنند، ڈی ایس چوہان اوراسٹیفن رویندرا شریک تھے۔
وزیر داخلہ محمدمحمود علی نے اس اجلاس میں کہا کہ تلنگانہ پولیس اپنی کارکردگی اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال کے لیے ملک بھر میں مشہور ہے۔ لیکن چند دنوں سے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں جرائم کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن پر قابو پانا اور ان کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے پولیس کمشنران سے اس سلسلہ میں اپنے اپنے علاقوں کی تفصیلات طلب کیں۔

کمشنر پولیس حیدرآباد سی وی آنند، کمشنر پولیس راچا کونڈہ ڈی ایس چوہان اور کمشنر آف پولیس سائبر آباد اسٹیفن رویندرانے بتایا کہ حیدرآباد میں بالخصوص پراناشہر کے بارکس،بنڈلہ گوڑہ،چندرا ئن گٹہ،پہاڑی شریف اور دیگر علاقوں میں قتل کی وارداتیں رونما ہوئی ہیں جس کی اہم وجہ حیدرآباد میں زمینات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ حیدرآباد میں زمینات کی مانگ کافی بڑھ چکی ہے،جس کے باعث قتل ہو رہے ہیں۔ کمشنر پولیس حیدرآباد سی وی آنندنے کہا کہ قتل کی وارداتوں کو روکنے کے لیے محکمہ پولیس تمامتر اقدامات میں مصروف ہے۔
راچا کونڈہ پولیس کمشنر ڈی ایس چوہان نے کہاکہ راچا کونڈہ کمشنریٹ کےحدود میں جرائم کے ساتھ ساتھ قتل کی وارداتوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ روڈی شیٹرز پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور انہیں وقتاً فوقتاً پولیس اسٹیشن طلب کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان روڈی شیٹرز کو ایک قسم کا ڈر اور خوف لاحق ہوگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ قتل و غارت گری اور جرائم کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ خواتین و طالبات سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات اور سماج دشمن عناصرپر بھی گہری نظر رکھی گئی ہے۔اسی طرح آن لائن جرائم و دھوکہ دہی کی روک تھام کےلیے بھی تمام اقدامات کیےگئے ہیں تاکہ عوام کوکسی بھی قسم کے جرائم سے محفوظ رکھا جائے۔
سائبرآباد پولیس کمشنر اسٹیفن رویندرا نے کہا کہ سائبرآباد حدود میں جاریہ سال اب تک کوئی قتل کی واردات نہیں ہوئی ہے۔اور دیگر جرائم میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روڈی شیٹرز پر نہ صرف نظر رکھی گئی ہے بلکہ ان کی حرکات و سکنات پربھی گہری نظر رکھی گئی ہے۔ان کے اڈوں پر پولیس کی جانب سےمسلسل گشت کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پربھی گہری نظر رکھی گئی ہے تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کسی بھی قسم کےجرائم یا تشدد کوعام ہونے سے روکا جائے۔انہوں نے اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سائبرآباد علاقہ جرائم اور قتل کی وارداتوں سے محفوظ ہے۔
کمشنر پولیس سائبر آباد نے کہاکہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کےبعد سے تلنگانہ میں زمینات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے زمینات پر قبضوں کی وارداتوں کا آغاز ہوا ہے۔انہوں نےکہا کہ اس سلسلہ کو روکنے کے لیے قتل و غارت گری اور جرائم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست تلنگانہ میں روڈی شیٹرز کو تڑی پار کرنے کی اشد ضرورت ہے اس سے روڈی شیٹرز کی موجودگی میں کمی واقع ہوگی۔
کمشنران پولیس نے اس اجلاس میں کہا کہ پولیس افسران کواس معاملہ میں مزید سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ کسی بھی کیس کی چارج شیٹ کو 90 دن کے اندر داخل کریں،تاکہ مجرمین کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ہر پولیس اسٹیشن میں روڈی شیٹرز کی تصاویر آویزاں کی جائیں۔ایس او ٹی اور ٹاسک فورس کے ذریعہ روڈی شیٹرز پر مسلسل نظر رکھی جائے۔
ڈی جی پی انجنی کمار نے اجلاس کے تمام نکات کا احاطہ کرتےہوئے کہاکہ پولیس کو ہمیشہ چوکس رہنا چاہئے۔ جرائم میں اضافہ یقیناً تشویشناک ہے مگر حکومت تلنگانہ نے حال ہی میں تنظیم نو کی ہے جس کی وجہ سے نئی جائیدادیں وضع کی گئی ہیں، جن میں ڈی سی پیز، اے سی پیز نئے پولیس اسٹیشنوں کا قیام عمل میں لایا گیااور کئی پولیس افسران کوترقی دی گئی۔اس لحاظ سے ریاست تلنگانہ کم وقت میں محکمہ پولیس کو زیادہ ترقی دینے میں سر فہرست ہے۔
ریاستی ڈی جی پی انجنی کمارنے پولیس کی بہترین کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ پولیس دن رات اپنی خدمات انجام دینے میں مصروف ہے۔سوشل میڈیا کے متعلق انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل کیے جانے والے تمام مواد پرپولیس کی جانب سے گہری نظر رکھی جائے تاکہ اس کے خلاف فوری کارروائی کی جاسکے۔

وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہاکہ تلنگانہ پولیس ملک بھر میں مشہور ہے جس کی اہم وجہ تلنگانہ پولیس کی فرینڈلی پولیسنگ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ فرینڈلی پولیسنگ عوام کے لیے ہے نہ کہ مجرموں کے لیے۔وزیرداخلہ نے پولیس عہدیداروں کو مخاطب کرتےہوئے کہا کہ حیدرآباد کے جن جن علاقوں میں قتل اور دیگر جرائم کے واقعات رونما ہورہے ہیں ان میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔تاکہ ایسی وارداتوں کا اعادہ نہ ہو۔ساتھ ہی رات کے وقت پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے،رؤڈی شیٹرز کی نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی جائے، ان کے ٹھکانوں پر اچانک دھاوے کیے جائیں اور ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔
وزیر داخلہ محمدمحمود علی نے کہاکہ حیدرآباد کی جن ہوٹلوں، پان کی دکانوں،شراب خانوں،جم اور دیگر کاروباری اداروں کو رات دیرگئے تک کھلارکھنے کی اجازت دی گئی ہے ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔ہرقسم کےغیر قانونی و غیرسماجی کاموں کوسختی سے روکیں اور ان کا نوٹ لیں،شر پسندوں پر سخت نظر رکھی جائے۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ سی سی ٹی وی کیمروں کا حسب ضرورت جائزہ لیا جائے تاکہ ناکارہ کیمروں کو درست کیا جاسکے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رات دیر گئے تک سڑکوں پر غیر ضروری نہ گھومیں۔بالخصوص انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا قیمتی وقت تعلیم، کاروبار اور ملازمت میں لگائیں،ہرقسم کی غیرسماجی سرگرمیوں اور حرکتوں سے دور رہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس کی جانب سےمخالف چبوترہ مہم میں نوجوان اور تلنگانہ کے عوام پولیس کے ساتھ تعاون کریں،سوشل میڈیا سے جو برائیاں پھیل رہی ہیں اس سے خود کو دور رکھیں۔
وزیر داخلہ محمدمحمودعلی نے پولیس کے ان اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ حیدرآباد کےپرانا شہر کے قبرستانوں،ریلوے اسٹیشنوں،بس اسٹیشنوں ،شراب خانوں اور دیگر عوامی مقامات پر سخت نظر رکھیں۔ وزیر داخلہ نےعوام سے اپیل کی کہ تلنگانہ کوسنہرا تلنگانہ بنانے میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ہرقسم کےغیر قانونی کاموں سے دور رہیں اور اپنی تکالیف کو یا اپنے اطراف و اکناف ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس اسٹیشن میں شکایات درج کر وائیں اور پولیس کا ساتھ دیں۔
وزیر داخلہ محمدمحمود علی نے کہا کہ حیدرآباد میں شر پسندی کرنے والوں،جرائم میں ملوث،قتل و غارت گری کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا ۔ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ان پر پی ڈی ایکٹ لگایا جائے گا،روڈی شیٹ کھولی جائے گی اور عدالت کے ذریعہ انہیں سخت سے سخت سزاوں کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ان لوگوں کی وجہ سے تلنگانہ کے عوام کو کسی قسم کا نقصان یا تکلیف نہ ہو۔
انہوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ ریاست کے عوام کی خوشحالی،امن اور سکون کی برقراری کے لیے پابند عہد ہے اور ریاست میں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ ہے۔اور ضروری ہے کہ عوام ریاست تلنگانہ کی پر امن فضا اور قومی یکجہتی و بھائی چارہ کے ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے محکمہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔


