تلنگانہ اسمبلی انتخابات : وزیر اعلیٰ کے سی آر نے 115 امیدواروں کی فہرست جاری کی

تلنگانہ اسمبلی انتخابات : وزیر اعلیٰ کے سی آر نے 115 امیدواروں کی فہرست جاری کی
وزیراعلیٰ گجویل اور کاما ریڈی سے مقابلہ کریں گے، پارٹی قائدین اور کارکنوں میں جوش
تین مسلم اور سات خواتین بھی شامل، 8 اسمبلی حلقوں میں امیدواروں کی تبدیلی

حیدرآباد : 21/اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ میں جاریہ سال کے اواخر میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔امکان ہےکہ یہ انتخابات جاریہ سال ڈسمبرکے اواخر میں منعقد ہونگے۔!

اس سلسلہ میں ریاست میں آج برسر اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی۔بی آر ایس(سابقہ: تلنگانہ راشٹرا سمیتی۔ٹی آرایس) سپریمو و وزیر اعلیٰ تلنگانہ کے ۔ چندر ا شیکھرراؤ نے انتخابات سے چار ماہ قبل ہی 115 پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہےجو اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کریں گے۔جبکہ وزیر اعلیٰ کے سی آر حلقہ اسمبلی گجویل کے علاوہ کاما ریڈی ضلع کے کاما ریڈی اسمبلی حلقہ سے بھی مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس حلقہ سے 2018 کے انتخابات میں بی آر ایس کے ہی گمپا گووردھن نے کامیابی حاصل کی تھی۔وزیراعلیٰ کے سی آر نے کہا کہ ضلع کے ارکان اسمبلی،پارٹی قائدین اور کارکنوں کی خواہش پر وہ حلقہ اسمبلی کاما ریڈی سے بھی مقابلہ کریں گے۔جبکہ وزیراعلیٰ کے فرزند و ریاستی وزیر کے ٹی آر سرسلہ اسمبلی حلقہ سے اور ان کے بھانجے ٹی۔ہریش راؤ ریاستی وزیر فینانس و صحت حسب سابق سدی پیٹ اسمبلی حلقہ سے ہی امیدوار ہونگے۔

یاد رہے کہ تلنگانہ اسمبلی میں جملہ 119 نشستیں ہیں۔وزیراعلیٰ نے آج 115 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیاہے۔جبکہ 8 اسمبلی حلقہ جات کے امیدواروں کی تبدیلی کا اعلان کیاہے۔جن میں حلقہ اسمبلی بوتھ، خانہ پورر،وائرا، کورٹلہ، اُوپل،آصف آباد اور حلقہ اسمبلی ویملواڑہ شامل ہیں۔جبکہ کاماریڈی سے وزیراعلیٰ کو ملاکر 8 امیدوار تبدیل شدہ ہونگے۔

آج اعلان کردہ امیدواروں میں تین مسلم امیدوار محمد شکیل عامر(موجودہ رکن اسمبلی حلقہ بودھن)،اسمبلی حلقہ چارمینار سے ابراہیم لودھی اورحلقہ اسمبلی بہادر پورہ سے علی باقری شامل ہیں۔ جبکہ 115 اعلان کردہ امیدواروں میں سات خاتون امیدوار بھی شامل ہیں۔

جبکہ چار اسمبلی حلقہ جات نامپلی، گوشہ محل(حیدرآباد)، نرسا پور(میدک) اور جنگاؤں (ورنگل ضلع)میں امیدواروں کے ناموں کو روک کر رکھا گیا ہے جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

خبررساں ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اعلان کیاہے کہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کسی سے بھی پارٹی سے انتخابی مفاہمت نہیں کرے گی۔میڈیا سے بات کرتےہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف 8 اسمبلی حلقہ جات میں امیدواروں کی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے اور دیگر چار اسمبلی حلقوں کے امیدواروں کے ناموں کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ کے سی آر نے دعویٰ کیا کہ جاریہ سال کے اواخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس پارٹی 119 نشستوں میں سے 95 تا 105 حلقوں میں شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ 2 جون 2014 کو جدید ریاست تلنگانہ کے وجود میں لائے جانےکے بعدمنعقدہ اسمبلی انتخابات میں اس وقت کی ٹی آر ایس پارٹی (موجودہ بی آر ایس) کو 63 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔جبکہ کانگریس کو 21 تلگودیشم پارٹی کو 15،کل ہندمجلس اتحاد المسلمین کو 7 اور بی جے پی کو پانچ حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ان کے علاوہ وائی ایس آر کانگریس کے 3، بی ایس پی کے 2 سی پی آئی کے ایک،سی پی آئی (ایم )کے ایک اور ایک آزاد امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی تھی ان میں سے زیادہ تر نے بعد ازاں ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

وہیں 2018ء میں ریاستی اسمبلی کو وزیراعلیٰ کے سی آر کی جانب سے اس کی معیاد سے 6 ماہ قبل ہی تحلیل کر دئیے جانے کے بعد ڈسمبر 2018 میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس نے شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 88 نشستوں پر کامیابی درج کروائی تھی۔کانگریس کو 19، مجلس کو 7،  تلگودیشم کو دو اور بی جے پی نےصرف ایک نشست پر کامیابی درج کروائی تھی۔بعد ازاں کانگریس اور تلگودیشم کے 16 ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور دیگر دو آزاد ارکان اسمبلی بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئےتھے۔موجودہ طور پر 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں بی آر ایس پارٹی کے ارکان اسمبلی کی جملہ تعداد 104 ہے۔

وزیر اعلیٰ کے سی آر کی جانب سے 115 پارٹی امیدواروں کی فہرست جاری کیے جانے کے بعد کئی اسمبلی حلقہ جات میں کہیں خوشی کہیں غم کا ماحول ہے۔جن امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان ارکان اسمبلی کے حامیوں پارٹی قائدین اور کارکنوں کی جانب سے آج جشن منایا گیا۔

جبکہ رکن اسمبلی حلقہ خانہ پور، ضلع عادل آباد ریکھا نائیک نے انہیں دوبارہ ٹکٹ نہ دئیے جانے کے اعلان کے بعد آج رات دیر گئے بی آر ایس سےمستعفی ہونے اور کل کانگریس پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیاہے۔وہیں ان کےشوہر شیام نائک نے آج ہی صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی سے ملاقات کرتےہوئے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ جبکہ وزیر اعلیٰ کے سی آر نے انتباہ دیا تھا کہ ناراض قائدین اگر مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تو انہیں پارٹی سے فوری خارج کردیا جائے گا۔