تلنگانہ کی عوامی و انقلابی شخصیت غدر نہیں رہے، ریاستی اسمبلی کے علاوہ مختلف شخصیتوں کا خراج

تلنگانہ کی عوامی و انقلابی شخصیت غدر نہیں رہے
ریاستی اسمبلی کے علاوہ مختلف سیاسی شخصیتوں کا خراج

حیدرآباد: 06۔اگست (سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کی عوامی اور انقلابی شخصیت ” غدر ” نہیں رہے۔نامور انقلابی شاعر اور عوامی گلوکار گمادی وٹھل راؤ جنہیں دنیا غدر کےنام سے جانتی تھی نے حیدرآباد کے اپولو ہسپتال میں جہاں وہ زیر علاج تھے آج 6 اگست کی سہء پہر آخری سانس لی۔اپولوہسپتال میں غدر کے دل کا آپریشن ہواتھا اور وہ صحتمند ہورہے تھے۔غدر کے دیہانت سے دلتوں،مظلوموں اورپچھڑے طبقات کی ایک بلند آواز آج ہمیشہ کےلیے چپ ہو گئی۔ان کے ورثاء میں اہلیہ وملا کے علاوہ تین بچے شامل ہیں۔

غدر 1949 میں مشترکہ ضلع میدک کے توپران میں پیداہوئے۔نظام آباد اور حیدرآباد میں تعلیم مکمل کرنےکےبعد 1975 میں کنارابینک میں ملازمت حاصل کی لیکن وہ اس سے مطمئین نہیں تھے۔غدرنے اپنی جوانی کی زندگی کاابتدائی حصہ 1980کی دہائی میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) کی عوامی جنگ کے لیے روپوش ہو کر کام کرتے ہوئے گزارا۔

تاہم وہ اس وقت اس روپوشی سے باہر آئے جب متحدہ آندھرا پردیش کے اس وقت کے وزیراعلیٰ مری چنا ریڈی نے پیپلز وار گروپ پر سے پابندی ہٹا دی۔6 اپریل 1997 کو غدر  اپنے گھر پر قاتلانہ حملے میں بچ گئے تھے۔1987 میں غدر نے کارم چیڈو میں دلتوں کے قتل کے خلاف انتھک جدوجہد کی تھی۔وہ ہمیشہ فرضی انکاونٹرس اور پچھڑے طبقات پر مظالم کی سخت مخالفت کرتے رہے۔

غدر نے عوامی جنگ،ماؤ نواز اور تلنگانہ تحریکوں کے دوران اپنی آواز سے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا اور انہیں ایک طاقت بخشی تھی۔انہوں نے نہ صرف عوامی مسائل پر جدوجہد کی بلکہ اپنے انقلابی گیتوں سےسب کو متاثر کیا تھا۔غدر نے 2014 میں علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل علحدہ تلنگانہ تحریک میں ایک اہم کردار نبھایا تھا۔

اسی دوران تلنگانہ تحریک پر بنائی گئی پروڈیوسر ڈائرکٹر شنکر کی فلم جئے بولو تلنگانہ میں لکھا ہوا ان کا انقلابی گیت”پوڑوستنا پودو میدا پور تلنگانہ ما” سوپر ہٹ ثابت ہوا تھا۔اس گیت نے تلنگانہ تحریک میں ایک نئی جان پھونک دی تھی اور یہ انقلابی گیت تلنگانہ کے گلی کوچوں میں گونجنے لگا تھا۔انہوں نےچند فلموں میں بھی کام کیا جن میں ما بھومی (ہماری زمین)بھی شامل ہے جس میں وہ”بنڈی اینکا بندی کٹی پداہارو بنڈلو کٹی "گاتے ہوئے نظر آئے۔تاہم اس گیت پرسخت اعتراض کیا گیا تھا کیوں کہ یہ دؤر نظام کے خلاف لکھا گیا تھا۔غدر جنا ناٹیا منڈلی کےبانیوں میں سے ایک ہیں۔وہ پرجا فرنٹ پارٹی کے بانی بھی تھے۔

غدرکو حال ہی میں کھمم میں منعقدہ تلنگانہ کانگریس کےجلسہ عام میں دیکھا گیا تھا جس میں راہول گاندھی نے شرکت کی تھی۔غدر اس جلسہ میں راہول گاندھی کو گلے لگاتے اور ان کے لیے نیک تمنائیں دیتے ہوئے نظر آئے تھے۔چند ماہ قبل انہوں نے ایک نئی پارٹی کے آغاز کا اعلان بھی کیا تھا لیکن اس کے آغاز سے قبل ہی ان کا دیہانت ہوگیا۔

غدر کی آخری رسومات کل 7 اگست کو الوال میں غدر کی جانب سے قائم کیے گئے مہا بودھی اسکول میں ادا کی جائیں گی اس سے قبل ان کا جلوس جنازہ 12 بجے دن لال بہادر اسٹیڈیم (ایل بی اسٹیڈیم)  سے نکالا جائے گا۔

غدر کے دیہانت پر چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے دکھ کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ انہوں نےعوام کے دلوں میں جگہ بنائی تھی انہوں نے غدر کے افراد خاندان کو پرسہ دیا ہے۔ان کے علاوہ سابق چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو،صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی،راہول گاندھی،پرینکا گاندھی،مرکزی وزیر سیاحت و صدر تلنگانہ بی جے پی جی۔کشن ریڈی،ریاستی وزیر آئی ٹی کے ٹی آر،صدر تلنگانہ کانگریس ریونت ریڈی، فلم اداکار پون کلیان،جونیئر این ٹی آر،وائی ایس شرمیلا، کانگریسی ارکان پارلیمان اتم کمار ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے علاوہ

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ،ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کوپولا ایشور،ایم ایل سی کے۔کویتا،سی پی آئی سیکریٹری کے۔راما کرشنا، قومی نائب صدر بی جے پی ڈی کے ارونا کے علاوہ مختلف سیاسی،فلمی اور سماجی شخصیتوں نے دکھ  کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غدر کا دیہانت ریاست اور ملک کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

فلم جئے بولو تلنگانہ میں گایا ہوا غدر کا انقلابی گیت "

 

 

" یہ بھی پڑھیں ” 

حیدرآباد ایئر پورٹ پر جدہ اور دبئی سے آنے والے تین مسافروں کے قبضہ سے دو کروڑ 29 لاکھ روپئے مالیتی ساڑھے تین کلو سونا ضبط

ٹماٹر کی خریدی کے لیے طویل قطار ، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل