جئے پور۔ ممبئی ایکسپریس ٹرین میں آر پی ایف کانسٹیبل چیتن سنگھ کی بربریت، چوتھے مہلوک کی حیدرآباد کے سید سیف الدین کی حیثیت سے شناخت

جئے پور۔ممبئی ایکسپریس میں آر پی ایف کانسٹیبل چیتن سنگھ کی بربریت
چوتھے مہلوک کی حیدرآباد کے ساکن سید سیف الدین کی حیثیت سے شناخت
نام پوچھ کر گولی ماری تھی : مہلوک کے ماموں کا الزام، ویڈیو وائرل

حیدرآباد : 01۔اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

کل 31 جولائی کی صبح 30-5 بجےممبئی سے 100 کلومیٹر کےفاصلہ پر موجود پال گھر کے قریب جئے پور۔ممبئی ایکسپری ٹرین نمبر 12956 میں ریلوے پروٹیکشن فورس(RPF) کے کانسٹیبل چیتن سنگھ نے اپنے خود کار ہتھیار سے چلتی ٹرین چار افراد کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتےہوئے گولیاں مارکر قتل کر دیا تھا۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق اس درندہ صفت آر پی ایف کانسٹیبل چیتن سنگھ جس کی ڈیوٹی ہی مسافروں کی حفاظت کرنا تھا نے ٹرین کی بوگی نمبر B-5 میں آر پی ایف کےاپنے اسسٹنٹ سب انسپکٹر(اے ایس آئی)ٹکا رام مینا (57 سالہ) کو گولی مار دی تھی بعدازاں اس جنونی نے بوگی نمبر S-6 تک درندگی کا ننگا تانڈؤ کیا تھا۔کل اس کے حملہ میں ہلاک ہونے والے دو مسافرین کی شناخت عبدالقادر (64 سالہ) اور اصغر عباس علی (48 سالہ) کےطور پر ہوئی تھی۔

جبکہ اس حملہ کے ایک اور مہلوک مسافر  کی شناخت تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے بازار گھاٹ،نام پلی علاقہ کےساکن سید سیف الدین کی حیثیت سے ہوئی ہے۔جس کے بعد مہلوک کے گھر اور علاقے میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔

کل اس واقعہ کےبعد انڈین ایکسپریس نے ویسٹرن ریلوے کےایک عہدیدار کے حوالے سےلکھاتھاکہ یہ فائرنگ برادریوں پر بحث کےبعد ہوئی۔!! انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق چیتن سنگھ نے اے ایس آئی ٹکارام مینا پر پہلے اپنی اے آر ایم رائفل سے B-5 کوچ کے اندر گولی چلائی اور پھر عبدالقادر پر گولی چلائی جو مدھوبنی کے رہنے والے تھے۔بعد میں اس نے پینٹری کار میں ایک نامعلوم شخص کو مار ڈالا، اور S-6 کوچ میں چلا گیا جہاں اس نے جئے پور کے ایک چوڑیاں بیچنے والے اصغر عباس علی کو گولی مار دی۔اس نامعلوم شخص کی شناخت اب نام پلی حیدرآباد کے ساکن سید سیف الدین کے طور پر ہوئی ہے۔

مہلوک سیدسیف الدین کے ماموں محمد واجد پاشاہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہواہے۔انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جئے پور ۔ممبئی ایکسپریس میں پیش آئے اس دلسوز واقعہ کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ان کےبھانجے سید سیف الدین کے سیٹھ نے بتایا کہ چیتن سنگھ نے گولی مارنے سے قبل سید سیف الدین سے ان کا نام پوچھا تھا۔

مہلوک سیف الدین کے ماموں محمد واجد پاشاہ نے بتایاکہ مہلوک سید سیف الدین کا آبائی وطن بیدر ہے اور وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ممبئی جارہے ہیں میت ممبئی سے بیدر منتقل کی جائے گی اور تدفین وہیں عمل میں لائی جائے گی۔

کل اس روح فرسا واقعہ کےبعد صدرکل ہندمجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے آر پی ایف کے درندہ صفت کانسٹیبل چیتن سنگھ کا ویڈیو ری۔ ٹوئٹ کرتےہوئے لکھا تھاکہ” یہ ایک دہشت گردانہ حملہ ہے،جس میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ مسلسل مسلم مخالف نفرت انگیز تقریر اور نریندر مودی کی ناپسندیدگی کا نتیجہ ہے۔

آج شام کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے لکھا ہے کہ
جئے پور ایکسپریس دہشت گردانہ حملے کے چوتھے شکار کی شناخت سید سیف اللہ کےطور پر ہوئی ہے وہ بازار گھاٹ نامپلی کے رہنےوالے تھے۔ ان کے پسماندگان میں 3 بیٹیاں ہیں سب سے چھوٹی بیٹی صرف 6 ماہ کی ہے۔

بیرسٹر اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھاہے کہ اے آئی ایم آئی ایم نامپلی کے ایم ایل اے جعفر حسین ہیں جوگزشتہ چند گھنٹوں سےاہل خانہ کے ساتھ ہیں اور ان کی درخواست پرمیت کو حیدرآباد لانے کےلیے حکام کےساتھ رابطہ میں ہیں۔بیرسٹر اسد الدین اویسی نےاپنے اس ٹوئٹ میں دفتر چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندرا شیکھر راو اور ریاستی وزیر کے ٹی آر کو ٹیگ کرتےہوئے ان سے نمائندگی کی ہےکہ اس مشکل وقت میں سوگوار خاندان کا ساتھ دیں۔

دوسری جانب آر  پی ایف کے عہدیداروں اور مخصوص میڈیا گروپس کا دعویٰ ہے کہ چیتن سنگھ گرم مزاج کا حامل شخص ہے جو بات بات پر جلد غصہ ہوجاتا ہے۔ساتھ ہی کل اس واقعہ کے بعد پی ٹی آئی نے ایک سینئر پولیس عہدیدار کےحوالے سے بتایا تھا کہ گولی مارنے والے آر پی ایف کانسٹیبل چیتن سنگھ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ذہنی عدم استحکام کا شکار ہے۔

جس پرسوشل میڈیا میں سوال اٹھائےجارہے ہیں کہ ایسے واقعات میں ملوث درندےکس طرح فوری ذہنی عدم توازن کےشکار بن جاتے ہیں؟ اگر واقعی ایسا تھا تو پھر اس کو ہتھیار کے ساتھ ٹرین کےمسافرین کی حفاظت کےلیے کیوں مامور کیا گیا تھا؟ اور اپنی درندگی کے بعد اس نے کیوں ایک لاش کے قریب کھڑے ہو کر اشتعال انگیز باتیں کیں اور سیاسی قائدین کے نام لیے؟ اور میڈیا کا ذکر کیوں کیا؟

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق اس واقعہ کےبعد نامہ نگاروں سے بات کرتےہوئےکل ریلوے پروٹیکشن فورس(آر پی ایف ) کے انسپکٹر جنرل (ویسٹرن ریلوے) پراوین سنہا نے ان رپورٹوں کو مسترد کر دیا کہ جھگڑے کے  نتیجے میں فائرنگ ہوئی تھی انہوں نے کہاکہ اس نے اپنے آپے سے باہر ہوکر اپنے سینئر کو گولی مار دی۔پھر جس کو دیکھا اسے مار ڈالا۔ عہدیدار اس واقعہ کو فرقہ وارانہ قرار دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

" واقعہ کی تفصیلی رپورٹ "

چلتی ٹرین میں آر پی ایف کانسٹیبل نے اے ایس آئی سمیت چارافراد کو گولی مار دی

 

حیدرآباد ایئرپورٹ پر 82.42 لاکھ روپئے مالیتی سونا ضبط، دوحہ اور بنکاک سے پہنچے تھے دونوں مسافر