ریاستی خبریںتلنگانہ میں مزید چار دنوں تک شدید ترین بارش کی پیش قیاسی، ریاست کے 21 اضلاع کے لیے ریڈالرٹ جاری 23/07/202324/07/2023 - by سحر نیوز تلنگانہ میں مزید چار دنوں تک شدید ترین بارش کی پیش قیاسی ریاست کے 21 اضلاع کے لیے ریڈالرٹ جاری تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں اضافہ کا امکان!! حیدرآباد : 23۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام) ریاست تلنگانہ میں گذشتہ پانچ دنوں سے جاری شدید بارش سے ریاست کے تقریباً تمام ذخائر آب لبریز ہوگئے ہیں۔لاکھوں ایکڑ اراضی پر فصلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے،عام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ چند اضلاع میں ہفتہ اور آج اتوار کو بارش کی شدت کچھ کم ہوئی تھی کہ ایسے میں مرکزی محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہے کہ خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں کمی کے باعث آج سے چار دنوں تک ریاست میں مزید بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے 21 اضلاع میں بالخصوص آج 23 جولائی اور کل 24 جولائی بروز پیر کو شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیاہے۔ جن میں اضلاع حیدرآباد،نظام آباد، وقارآباد، کاماریڈی،سرسلہ،سنگاریڈی ،میدک ، سدی پیٹ ، کریم نگر،پیدا پلی،جئے شنکر بھوپال پلی،ملگ،جنگاؤں، ہنمکنڈہ، ورنگل، محبوب آباد، بھدرادری کوتہ گوڑم، کھمم، بھونگیر، میڑچل اور رنگاریڈی شامل ہیں۔ جبکہ اضلاع عادل آباد، جگتیال، نرمل، محبوب نگر، نارائن پیٹ،ونپرتی، ناگر کرنول، جوگولامبا گدوال،سوریہ پیٹ، کومرم بھیم اور منچریال میں ان چار دنوں کے دوران گرج چمک اور ہواؤں کے ساتھ اوسط بارش ہوگی۔ مسلسل بارش کےباعث کئی اضلاع میں کپاس اور دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ساتھ ہی ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بھی تباہ ہوئی ہیں حیدر آباد کے عوام کو بھی شدید دشواریاں پیش آئیں جہاں سڑکیں اور نشیبی علاقے جھیلوں میں تبدیل ہوگئے،کئی علاقوں کے مکانات اور کامپلیکس و دکانات میں سیلابی پانی داخل ہوگیا۔اور ٹریفک نظام مفلوج ہوگیا۔ یہی وجہ رہی کہ حکومت کی جانب سے پہلے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدودمیں موجود تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں کو تعطیل دے گئی تھی۔بعد ازاں سرکاری اور خانگی دفاتر کو بھی تعطیل کا اعلان کردیا گیا، پھر کل ہفتہ کے دن پوری ریاست کےتعلیمی اداروں کو تعطیل دی گئی تھی۔اب دوبارہ شدید بارش کی پیش قیاسی کےباعث امکان ہےکہ ریاستی محکمہ تعلیمات کی جانب سےریاست کے تعلیمی اداروں کو کل پیر اور منگل کے دن بھی تعطیل کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔؟ دوسری جانب اوپری علاقوں بالخصوص وقارآباد ضلع میں شدید بارش کے باعث حیدرآباد کے دو ذخائر آب حمایت ساگر اور عثمان ساگر میں بھی سیلابی پانی کا زائد ذخیرہ پہنچنے لگا۔جسے دیکھتے ہوئے کل ہفتہ کے دن حمایت ساگر کے لبریز ہونے پر دوبارہ چار گیٹ کھولتے ہوئے زائد پانی کو خارج کیا گیا۔جبکہ جمعہ 21 جولائی کو ہی آبی بورڈ کی جانب سےحمایت ساگرکےتمام 5 گیٹ کھول کر 4,120 کیوزک لیٹر پانی موسیٰ ندی میں چھوڑا گیا تھا۔ وہیں عثمان ساگر میں 300 کیوزک لیٹر سیلابی پانی پہنچ رہاہے۔جس کی جملہ آبی سطح 3.9 ٹی ایم سی ہے موجودہ طور پر اب اس کی آبی سطح 2.980 ٹی ایم سی تک پہنچ چکی ہے۔بارش کا سلسلہ جاری رہا تو یہاں سے زائد پانی کا اخراج یقینی ہے۔حسین ساگر سے بھی لگاتار زائد پانی کو خارج کیا جارہا ہے۔ ریاست کے تمام آبی ذخائر لبریز ہوگئے ہیں ان میں سے بھی زائد پانی کا اخراج جاری ہے۔وہیں وقارآباد ضلع میں ہونے والی شدید بارش کے باعث سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کپاس، مکئی، ہلدی اورمختلف ترکاریوں کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔کھیتوں میں پانی کا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے۔ Share this post: