راہل گاندھی کا نصف شب کے بعد اچانک چندی گڑھ تک ٹرک میں سفر، ڈرائیورز کے مسائل سے واقفیت

راہل گاندھی کا نصف شب کے بعد اچانک چندی گڑھ تک ٹرک میں سفر
ڈرائیورز کے مسائل سے واقفیت، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل

نئی دہلی : 23۔مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

پیر کی نصف شب کے بعد سابق صدر کل ہند کانگریس اور لوک سبھا کے لیے نااہل قرار دئیے گئے راہل گاندھی نے اچانک دہلی سے بذریعہ کار انبالہ پہنچے پھر وہاں سےچندی گڑھ تک 50 کلومیٹر کافاصلہ ایک ٹرک میں بیٹھ کرطئے کیا۔جس کےویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئےہیں اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی اچانک اپنی کار سے اترگئے اور ادھر سے گزرنے والے ایک ٹرک کو روک کر اس میں سوار ہوگئے۔انہوں نے ٹرک ڈرائیوروں سے ملاقات بھی کی۔بعدازاں راہل گاندھی ایک گردوارہ پہنچ گئے۔

کانگریس پارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل پر اس واقعہ کا ویڈیو ٹوئٹ کرتےہوئے لکھاگیا ہےکہ” ٹرک ڈرائیوروں کےدرمیان ان کے مسائل جاننے پہنچےراہل جی نے ان کے ساتھ دہلی سے چندی گڑھ تک کا سفر کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سڑکوں پر تقریباً 90 لاکھ ٹرک ڈرائیور ہیں۔ ان کے اپنے مسائل ہیں۔راہل جی نے ان کی ‘ من کی بات ‘ سننے کا کام کیا۔”

راہول گاندھی کے اس وائرل شدہ ویڈیو میں دیکھاجاسکتاہے کہ وہ ایک ٹرک پر چڑھ کر اس کے اندر بیٹھ جاتے ہیں پھر ڈرائیور کے ساتھ سفر کرتے ہوئے دیگر ٹرک ڈرائیوروں سے بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پارٹی نے کہاکہ راہول گاندھی نے ڈرائیوروں کےساتھ دہلی سے چنڈی گڑھ کا سفر کیا تاکہ ان کو درپیش مسائل کو سمجھ سکیں۔

کانگریس کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ویڈیو کل رات کا ہے۔لیکن یہ کوئی آفیشل طئے شدہ پروگرام نہیں تھا،راہل گاندھی بظاہر شملہ جا رہے تھے جہاں پرینکا گاندھی واڈرا فارم ہاؤز پر اپنی ماں شریمتی سونیا گاندھی اور اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں۔

کانگریس کے رکن راجیہ سبھا اور شاعر عمران پرتاپ گڑھی نے راہل گاندھی کے اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ ” ٹرک ڈرائیوروں تک پہنچ کر ان کے مسائل جاننا اور پھرنیشنل ہائی نمبر۔1 پر ٹرک پر سوارہوتےہوئے ان سے بات کرنا،یہ کام صرف راہل گاندھی ہی کر سکتے ہیں۔آپ حیرت انگیز کام کر رہے ہیں راہول جی۔”

چیئر پرسن سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کانگریس سپریہ شری ناٹےنے بھی اس ویڈیو کوٹوئٹ کرتے ہوئےلکھاہےکہ” یونیورسٹی کے طلباء سے، کھلاڑیوں سے،سول سروس کی تیاری کرنے والے نوجوانوں سے، کسانوں سے، ترسیل کے شراکت داروں سے،بس میں عام شہریوں سے اور اب آدھی رات کو ٹرک کے ڈرائیور سے راہل گاندھی کیوں مل رہے ہیں؟ کیونکہ وہ اس ملک کے لوگوں کی بات سننا چاہتے ہیں۔

ان کی مشکلات اور مسائل کوسمجھنا چاہتے ہیں۔انہیں ایسا کرتے دیکھ کر ایک یقین نظر آتاہے۔کوئی ہے جو عوام کے ساتھ کھڑا ہے، کوئی ہے جو ان کےبہتر کل کےلیے ہرقسم کی قربانی دینے کو تیارہے۔کوئی ہے جو نفرتوں کے بازار میں محبت کی دکان کھول رہاہے۔اور دھیرے دھیرے یہ احساس ہورہاہےکہ یہ ملک محبت اور امن کی راہ پر لوٹ جاناچاہتاہے۔دھیرے سے یہ ملک آخر کار چل ہی پڑاہےراہل گاندھی کے ساتھ۔”

یاد رہے کہ جاریہ ماہ کے آغاز میں کرناٹک اسمبلی انتخابات کےلیے مہم کے دوران راہل گاندھی نے بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (BMTC)کے بس اسٹاپ پر کالج کےطلبہ اور خواتین سے بات چیت کی تھی۔انہوں نے بی ایم ٹی سی کی ایک بس میں خاتون مسافروں سے بھی بات کی۔

کرناٹک میں اپنے قیام کے دوران راہل گاندھی نے بنگلورو میں گیگ ورکرز اور ڈیلیوری پارٹنرز کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی۔راہل گاندھی نے ان کی حالت زار کی سماعت کی اور ان کے ساتھ ایک ریستوراں میں مسالہ دوسہ اور کافی نوش کی تھی۔جبکہ گذشتہ ماہ اپریل کے اواخر میں راہل گاندھی نے دہلی کے مکھرجی نگر میں سول سروسز کےخواہشمندوں سے بات چیت کی تھی جس کے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے تھے۔