مذہبی اور ذات پات پر مبنی نفرت پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا : ایس پی ضلع وقار آباد کا انتباہ

مذہبی اور ذات پات پر مبنی نفرت پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا
ایس پی ضلع وقار آباد کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے دیا سخت انتباہ
یالال منڈل میں ایک نوجوان کی پٹائی،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

وقار آباد: 02۔فروری
(سحرنیوزڈاٹ کام/نمائندہ)

مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی،آئی پی ایس،سپرنٹنڈنٹ آف پولیس،وقارآباد ضلع نے سخت انتباہ دیاہےکہ ضلع میں مذہب اور ذات پات کے نام پر فرقوں اور مختلف طبقات کےدرمیان نفرت پھیلاتےہوئے امن و امان کونقص پہنچانےوالوں کو ہرگز برداشت نہیں کیاجائےگا اور ایسے افراد کوبخشا نہیں جائے گا۔

آج جاری کردہ اپنے بیان میں ایس پی ضلع وقارآباد مسٹر این۔کوٹی ریڈی نےمتنبہ کیا گیا کہ ضلع وقار آباد میں مذہبی اورذات پات کےمعاملہ میں نفرتی بیانات دینے والوں اور سوشل میڈیا پر پوسٹنگ یا کمنٹس کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ضلع ایس پی نے کہا کہ ہر کسی کے لیے لازمی ہے کہ وہ جس طرح اپنے مذاہب اور عقائد کا احترام کرتے ہیں اسی طرح دیگر مذاہب،طبقات اور ذات پات والوں کے مذہبی جذبات کا بھی احترام کیا جائے۔

ضلع ایس پی وقار آباد مسٹر این۔کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے کہا کہ بدقسمتی سے اگر ضلع میں کوئی ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں بلکہ اس کی شکایت پولیس میں درج کروائیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں اگر کوئی قانون کواپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کسی پر حملہ کرتے ہیں تو ایسے افراد کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ایس پی ضلع وقار آباد مسٹر این۔کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے کہا کہ محکمہ پولیس ایسے واقعات اور سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ساتھ ہی انہوں نے خواہش کی کہ ایسے واقعات پیش آئیں تو عوام فوری ” ڈائل 100 ” پر اس کی اطلاع دیں۔

دوسری جانب دو دن قبل حلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود یالال منڈل کےموضع دیونور میں شیواسوامی کی مالا ڈالے ہوئے نریندر اور میٹلو نریش کے درمیان بحث و تکرار کے بعد نریندر نے نریش کے خلاف یالال پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی تھی۔

بعدازاں شیواسوامی پرحملہ اور توہین کا الزام عائد کرتےہوئے 100 سے زائد شیواسوامیوں نےلکشمی نارائن پور چوراہا پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا تھا۔

جب انہیں اطلاع ملی کہ میٹلو نریش یالال میں موجود ہے تو چند شیواسوامیوں نے اس پر حملہ کرتےہوئے مارپیٹ کی۔جبکہ پولیس عہدیدار اس موقع پر مداخلت کی کوشش کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔بعد ازاں میٹلو نریش نے بھی یالال پولیس اسٹیشن میں اس حملہ کی شکایت درج کروائی تھی۔دونوں فریقین کی شکایتوں کےبعد یالال پولیس نے شیواسوامی نریندر اوران کے چند ساتھیوں اور میٹلو نریش کے خلاف کیس درج کرکے مصروف تحقیقات ہے۔اطلاع کے مطابق اس حملہ اور مار پیٹ کے معاملہ میں یالال پولیس نے 15 افراد کے خلاف کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے مصروف تحقیقات ہے۔

شیواسوامیوں کےحملہ کا یہ ویڈیو بشمول ٹوئٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہواہے۔جس کے ساتھ الزام عائد کیاجارہاہے کہ ان سوامیوں نے 26 سالہ دلت نوجوان پرحملہ کرتے ہوئے مارپیٹ کی۔اس معاملہ میں کے وی پی ایس تنظیم کا الزام ہے کہ اس حملہ کے پیچھے وشواہندوپریشد کے ایک ذمہ دار کا ہاتھ ہے اور یہ حملہ معمار دستور بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کی ایستادگی کے مسئلہ پر کیا گیا۔!!