آٹھویں نظام پرنس مکرم جاہ بہادر کا جسد خاکی استنبول سے حیدرآباد لایا گیا، مکہ مسجد میں سرکاری اعزازات کے ساتھ کل 18جنوری کو تجہیز و تکفین

آٹھویں نظام پرنس مکرم جاہ بہادر کا جسد خاکی استنبول سے حیدرآباد لایا گیا
حسب خواہش مکہ مسجد میں سرکاری اعزازات کے ساتھ کل 18 جنوری کو تجہیز و تکفین 
وزیراعلیٰ،بیرسٹراویسی،وزیر داخلہ کے علاوہ دیگر نے چومحلہ پیالیس میں نعش کا آخری دیدار کیا

حیدرآباد : 17۔جنوری(سحر نیوز ڈاٹ کام)

سابق ریاست حیدرآباد دکن کے آخری فرمانروا پرنس مکرم جاہ بہادر کےجسد خاکی کو آج ترکی کے شہر استنبول سے ایک خصوصی چارٹرڈ طیارہ کے ذریعہ حیدرآباد کےشمس آباد انٹرنیشنل ایر پورٹ لایا گیا۔جہاں سے ایک خصوصی ایمبولنس کے ذریعہ ان کے جسد خاکی کو چومحلہ پیالیس،خلوت منتقل کردیا گیا۔ 

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ آصف سابع نواب میرعثمان علی خان بہادر کے پوتے اور پرنس آف برار میر حمایت علی خان اعظم جاہ بہادر و شہزادی درشہوار کےفرزند آصف جاہ ثامن نواب میر برکت علی خان کےآخری فرمانرواں پرنس مکرم جاہ بہادر کا 14 جنوری کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق رات 50-10 بجے پر ترکی کے شہر استنبول میں انتقال پُرملال ہوا تھا۔ان کی عمر 90 سال تھی۔

چومحلہ پیالیس میں آصف جاہ ثامن کےجسد خاکی کو شاہی خاندان اور نظام ٹرسٹ کےذمہ داروں اور عوام کے دیدار کے لیے رکھا گیا ہے۔

میت کی منتقلی کےفوری بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے انتہائی ادب و احترام کےساتھ چومحلہ پیالیس پہنچ کر نعش کا آخری دیدار کیا اور جسد خاکی پر گلہائے عقیدت پیش کیے۔ان کےساتھ ریاستی وزیر داخلہ محمدمحمود علی،وزیر عمارات و شوارع وی پرشانت ریڈی،رکن راجیہ سبھا جی۔سنتوش،برسر اقتدار بی آر ایس پارٹی کے رکان اسمبلی سنتوش ریڈی اور بالکا سمن کے بشمول محمدسلیم چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی، مسیح اللہ خان چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ،جناب اے کے خان سرکاری مشیر برائے اقلیت حکومت تلنگانہ اور دیگر موجود تھے۔

https://www.facebook.com/nationalreporterabuaimal/videos/686359409945112

چیف منسٹر نے میت کے آخری دیدار کے بعد دربار ہال میں بیگم آصف جاہ ثامن پرنسس اسریٰ،فرزند پرنس عظمت جاہ بہادر،دختر محترمہ پرنسس شیکیارکو پرسہ دیتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا اوران سے بات چیت کی۔بعدازاں صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بھی چومحلہ پیالیس پہنچ کر جسد خاکی کا دیدار کیا۔

ڈی جی پی تلنگانہ مسٹر انجنی کمارنے بھی چومحلہ پیالیس پہنچ کر جسد خاکی کا آخری دیدار کیا۔اور پولیس انتظامات کاجائزہ لیتے ہوئے عہدیداروں کو مختلف ہدایت دیں۔

آصف جاہ ثامن کی خواہش کےمطابق ان کے جسد خاکی کو حیدرآباد منتقل کیا گیا ہے،تاکہ تاریخی مکہ مسجد میں سلاطین دکن کےمقبرہ میں سپرد لحد کیا جاسکے۔جس کی انہوں نےاپنی حیات میں ہی خواہش ظاہر کی تھی۔تلنگانہ حکومت کی جانب سے پرنس مکرم جاہ بہادر کی تجہیزوتکفین کے اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات کےساتھ انتظامات کیے گئے ہیں۔چومحلہ پیالیس اور اس کے اطراف واکناف کے علاقوں کی گھیرا بندی کی گئی ہے۔

چومحلہ پیالیس میں سکیورٹی کےوسیع تر انتظامات کیےگئے ہیں تاکہ آخری تاجدار دکن کے آخری دیدارکے لیے عام و خاص سب کوموقع فراہم کیا جاسکے۔چومحلہ پیالیس میں ایک طرف سے دیدار کے لیے داخلہ اور دوسری طرف سے واپسی کے انتظام کیے گئے ہیں۔

کل 18 جنوری،بروز چہارشنبہ، 8 بجے صبح سے ایک بجے دوپہر تک عوام کے لیے چومحلہ پیالیس کےدربار ہال میں آخری دیدار اوردعائے مغفرت کا موقع دیا جائےگا۔اس کےلیے ایک جانب سے دربار ہال میں داخل ہونے اور دوسری جانب سے باہر نکلنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ چومحلہ پیالیس میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے بھی اسی طرز کے انتظامات کیےگئے ہیں۔

کل 18 جنوری کو بعد نماز ظہر احاطہ چومحلہ پیالیس میں غسل اور تجہیز و تکفین عمل میں لائی جائے گی۔جس کے لیے دربار ہال سےمتصل حصہ میں انتظامات کیے گئے ہیں۔بعدازاں سہ پہر میں جلوس جنازہ چومحلہ پیالیس سے مکہ مسجد کی سمت روانہ ہوگا۔نمازجنازہ اور جلوس جنازہ میں دکن کے مختلف علاقوں سےعوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے لیے وسیع تر انتظامات کیےگئے ہیں۔

تاریخی مکہ مسجد میں نماز جنازہ کے لیے بھی حکومت کے مقررہ عہدیداروں کی جانب سے نظم و ضبط کے ساتھ تمامتر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔مصلیوں کی بڑی تعداد کی شرکت کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنازہ کو تاریخی مکہ مسجد کے اندر منبر ومحراب کے پاس رکھا جائے گا۔خطیب مکہ مسجد حافظ و قاری ڈاکٹر رضوان قریشی نماز جنازہ پڑھائیں گے اور دعائے مغفرت کریں گے۔جس کی ایچ ای ایچ نظام ٹرسٹ نے تحریری طور پر خواہش کی تھی۔

پرنس مکرم جاہ بہادر جو ترکی کی خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالمجید کے نواسے ہوتے ہیں ترکی میں مقیم ہونے کے باوجود دکن سے کافی محبت رکھتے تھے اور وہ سال میں ایک مرتبہ حیدرآباد کا دورہ کرکے مکہ مسجد میں اپنے فرزندان کے ہمراہ نماز جمعہ پابندی سے ادا کیا کرتے تھے۔

پرنس مکرم جاہ بہادر کی آرام گاہ ان کے والد محترم کے پہلو میں تیار کی گئی ہے،جنہیں کل بعدنماز عصر نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد لحد کیا جائے گا۔پرنس مکرم جاہ بہادر کے قوم و ملت پر کئی احسانات ہیں وہ ملک میں نہ ہوتے ہوئے بھی تعلیم اورصحت کےمیدان میں ٹرسٹ کے ذریعہ انتظامات کرتےہوئےاپنےاسلاف کی روایت کوزندہ رکھا۔پرنس میر کرامت علی خان صدیقی مفخم جاہ بہادر نے اپنے برادر محترم کے انتقال پر گہرے دکھ و صدمہ کااظہار کرتے ہوئے تعزیتی بیان میں مرحوم پرنس کی یادوں کو تازہ کیا۔وہ فی الوقت بھائی کی موت پر کافی غمگین ہیں۔

پرنس مکرم جاہ بہادر کے استنبول میں انتقال کی اطلاع کے بعد سے ہی حیدرآباد کے علاوہ سابق ریاست دکن کی فضاء مغموم ہے۔مختلف اہم  شخصیتوں اور عوام کی جانب سے انہیں تعزیت پیش کی جارہی ہے۔

” تمام ویڈیو لنکس بشکریہ :- ابو ایمل AbuAimalOfficial# آفیشل، فیس بک اور انسٹاگرام پیج "