سپریم کورٹ نے گجرات پولیس کی ایف آئی آر اور گرفتاری کے معاملہ میں
سماجی کارکن تیستا سیتلواد کو عبوری ضمانت منظور کی،پاسپورٹ سونپنے کا حکم
نئی دہلی:02۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے آج جمعہ کے دن نامور سماجی کارکن تیستا سیتلواد کوراحت دیتے ہوئےعبوری ضمانت منظور کی ہے۔جو 26 جون سے 2002ء کے گجرات فسادات کےمعاملہ میں مقدمات درج کروانے کے لیے دستاویزات میں مبینہ جعلسازی کے الزام میں زیر حراست ہیں۔سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت کی منظوری کے ساتھ ان سے کہاہے کہ وہ اس معاملے پر غور کیے جانے تک اپنا پاسپورٹ گجرات ہائی کورٹ کو سونپ دیں۔
تیستاسیتلواد پر ایک ایف آئی آر درج کرتےہوئے گجرات پولیس نے 25 جون کو انہیں ممبئی سے گرفتارکرتے ہوئے انہیں جیل میں ہی رکھا گیا تھا۔ تیستا سیتلواد کی ضمانت کی درخواست پر گجرات ہائی کورٹ نے 6 ہفتہ کے بعدسماعت مقرر کی تھی۔جس کے بعد تیستا سیتلواد ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع ہوئیں۔
ضمانت کی درخواست پر کل جمعرات کومعزز چیف جسٹس آف سپریم کورٹ یو یو للت کی قیادت میں سہءرکنی بنچ جس میں جسٹس ایس۔رویندر بھٹ اور جسٹس سدھانشو جولیہ شامل ہیں نے سماعت کی تھی۔اس معاملہ میں سالیسٹر جنرل تشار مہتہ جو کہ گجرات حکومت کی جانب سے پیش ہوئے تھے سے مختلف تلخ سوالات کیے تھے۔اس معاملہ میں معزز چیف جسٹس یو یو للت نے سخت تیور اپناتے ہوئےپوچھاتھا کہ ایک خاتون جن کےخلاف ایف آئی آر میں سنگین الزامات تک درج نہیں ہیں اورسپریم کورٹ کے فیصلہ کے نکات کو ہی گجرات پولیس نے ایف آئی آر میں شامل کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا کی ضمانت منظور نہ کیے جانے کا جواز کیا ہے؟اور ضمانت کی عرضی پرسماعت کےلیے 6 ہفتوں کا طویل وقت کیا معنی رکھتے ہے؟
جس پر سالیسٹر جنرل لاجواب تھے بس ضمانت کی مخالفت تک ہی محدود رہے اور تیستا سیتلواد کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے ضمانت کے لیے کئی ایک وضاحتیں پیش کی تھیں۔جس کے بعدمعزز سپریم کورٹ نےکل اس سماعت کو آج بروز جمعہ دو بجے دن تک کے لیے ملتوی کردیا تھا۔
چیف جسٹس آف سپریم کورٹ یو یوللت کی قیادت میں جسٹس ایس۔رویندر بھٹ اور جسٹس سدھانشو جولیہ پر مشتمل سہء رکنی بنچ نے محسوس کیا کہ تیستا سیتلواد ایک خاتون ہیں جو دو ماہ سے زیر حراست ہیں۔اور تفتیشی مشینری نے انہیں سات دن کی حراست میں لے کر پوچھ تاچھ بھی کرچکی ہے۔معزز بنچ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ تیستا سیتلوادکے خلاف لگائےگئے الزامات کا تعلق سال 2002 سے ہے اور جن کی جانب سے متعلقہ دستاویزات کو 2012 تک پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔اس طرح یہ خیال تھا کہ تفتیش کے ضروری اجزاءبشمول حراستی پوچھ تاچھ مکمل ہونے کے بعد یہ معاملہ ایک ایسا رنگ اختیار کرتا ہے جہاں واضح طور پر عبوری ضمانت کی راحت دی جاسکتی ہے۔


