بوسٹر ڈوز دینے کے لیے نرس نے ندی کے پانی کو عبور کیا
وقار آبادضلع میں حنیفہ بیگم کا قابل تحسین اقدام
وقارآباد:26۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)
سرکاری محکمہ چاہےکوئی بھی ہو زیادہ تر لوگوں کو ان محکموں کے عہدیداروں سے لے کر اٹنڈروں تک شکایت رہتی ہے۔کسی پرتساہلی کا الزام، تو کسی پر مقررہ وقت پر کام انجام نہ دینے کا الزام،تو کسی پر رشوت کا الزام،تو کسی پر مقررہ وقت پر دفتر نہ پہنچنے کا الزام، تو کسی پر دفتر سے جلد غائب ہوجانے کا الزام،تو کسی پر ہفتوں تک دفتر سے چھٹی لینے کا الزام،تو کسی پر دفتری اؤقات کے دؤران کام کی ذمہ داریاں چھوڑکر سوشل میڈیا پر مصروف رہنے کا الزام!!
ایسے میں آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی نرس کا ویڈیو وائرل ہواہے جو اپنی خدمات کی انجام دہی کے لیے دوردرازموضع میں قائم پرائمری ہیلتھ سنٹر تک پہنچنے اور وہاں اپنی خدمات بدستور پیش کرنے کے لیے سڑک پر موجود بریج پر جمع شدہ سیلابی پانی کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے ندی کے پانی سے بھرے ہوئے بریج کو پیدل عبور کرتے ہوئے اس بات کو مزید پختہ کردیا کہ نرس کا پیشہ ایک مقدس پیشہ ہوتا ہے۔اور اس کے تئیں بھی انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا لازمی ہوجاتا ہے۔شاید اسی لیے نرس کوعام فہم زبان میں اور عام لوگ”سسٹر”یعنی بہن کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔کیونکہ بھائی اور بہن کا رشتہ دکھ سکھ کا ہوتا ہے اور ماں کے بعد بہن ہی ماں کی جگہ لیتی ہے۔
دراصل یہ ویڈیو وقارآباد ضلع کے دؤلت آباد منڈل کا ہے۔جہاں کے پرائمری ہیلتھ سنٹر(پی ایچ سی) میں حنیفہ بیگم بطور”اے این ایم” نرس خدمات انجام دے رہی ہیں۔اور وہ اسی کے تحت دؤلت آباد منڈل کے موضع کدروملو کے سب سنٹر میں خدمات کی انجام دہی پر مامور ہیں۔محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت کے مطابق اس سب ہیلتھ سنٹر پر نرس حنیفہ بیگم کو آج پہلے کوویڈ ویکسین لے چکے افراد کو "بوسٹر ڈوز” دینا تھا۔تاہم پیر کی رات سے ضلع وقارآباد میں جاری شدید بارش کے باعث ندیاں، نالے اور تالاب لبریز ہوگئے ہیں۔سڑکوں پر موجود بریج کے اوپر سے سیلابی پانی بہہ رہا ہے اور آسانی کے راستہ عبور کرنا مشکل ہے۔
تاہم حنیفہ بیگم نے موضع کے ہیلتھ سنٹر تک پہنچنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کے درمیان اس بریج پر موجود پانی کا کوئی ترجیح نہیں دی۔ان کا مقصد ایک ہی تھا کہ آج کسی بھی طرح ہیلتھ سنٹر پہنچنا ہے اور وقت مقررہ پر انتظار کررہے دیہی افراد کو بوسٹر ڈوز دینا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نرس حنیفہ بیگم بریج کے کنارے کھڑے ہوکر اپنے شوز اتارتی ہیں،اپنا دوپٹہ کمر میں کس لیتی ہیں،ایک ہاتھ میں بوسٹرڈوز سے بھرا ہوا باکس اور ایک ہاتھ میں ان کا موبائل فون اور جوتی!

اس طرح وہ اس بریج کےپانی کو آسانی کے ساتھ عبور کرلیتی ہیں۔پھر ہیلتھ سنٹر تک پہنچ کر وہاں موجود ان کا انتظار کرنے والے دیہی عوام کو بوسٹر ڈوز دیتی ہیں۔واضح رہے کہ اس بریج پر انسان کے نصف حصہ تک پانی موجود تھا لیکن وہ ٹھاٹھیں مارکرنہیں بہہ رہا تھا۔

حنیفہ بیگم کے اس جذبہ خدمت کی خود موضع کے عوام اور سوشل میڈیا صارفین جم کر ستائش کررہے ہیں کہ انہوں نے اپنی خدمات کی انجام دہی کے لیے راستہ روک کر رکاوٹ پیدا کرنے والے سیلابی پانی کے بہاؤ کا بہانہ نہیں بنایا!!

