سرکاری ٹیچر کا تبادلہ،طلبہ جذبات سے مغلوب،گلے لگ کر رو پڑے
ٹیچر بھی ہوئے جذباتی،سوشل میڈیا پر آنکھیں نم کردینے والا ویڈیو وائرل
حیدرآباد: 16۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی بچے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتا ہے۔ جہاں سے مناسب و بہتر تربیت کے بعد اسے حصولِ تعلیم کے لیے مدرسے میں شریک کروایاجاتا ہے۔وہیں سےان بچوں کی بہتر تعلیمی تربیت اور ان میں موجودصلاحیتوں کو ابھارنے،ان کی حوصلہ افزائی ہونےلگتی ہے۔ پھر مزید آگے انہیں سماج کا ایک ذمہ دار فرد بنانے کے لیے اساتذہ کا کردار شروع ہوجاتا ہے۔گزرے زمانے میں باپ کے بعد سب سے زیادہ قابل احترام شخصیت اگر کسی کی ہوتی تو وہ استاد کی ہوتی تھی۔آج بھی ایسے اساتذہ کرام کی ایک تعداد موجود ضرور ہے لیکن طلبہ میں وہ جذبہ و احترام خال خال ہی نظرآتا ہے!!
وہیں زیادہ ترلوگ تنقید بھی کرتے ہیں کہ موجودہ اساتذہ میں وہ جذبہ بھی نہیں رہا جو گزرے زمانے کے اساتذہ میں ہوتا تھا؟۔گزرے زمانوں میں خانگی اسکولوں کا تصور تک نہیں تھا جو اب زیادہ تر”اونچی دکان پھیکا پکوان”کےمماثل بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔جہاں ڈگریاں تو دے دی جاتی ہیں لیکن بچوں یعنی طلباء میں وہ ہنر اور صلاحیتیں پیدا نہیں کی جاتیں کہ وہ سماج اپنے والدین،رشتہ داروں،دوست احباب، پڑوسیوں اور دنیا والوں کے ساتھ ایسا ہی بہترین سلوک و برتاؤ کریں جیسا کہ ان کے پاس علم کی قدریں ہوتی ہیں۔!!
اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ ڈگریاں صرف تعلیم حاصل کرنے کی ایک سند ہوتی ہیں۔پہلے زمانے میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے کئی اونچےعہدوں تک پہنچ کرریٹائرڈ ہوکر بھی اپنے استادوں کا احترام برقرار رکھتے ہیں۔وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو سرکاری اسکول سے تعلیم کے بعدمختلف پیشہ جات میں اپنی خدمات کا لوہا منوارہے ہیں۔تقریباًسبھی آج بھی اپنے اساتذہ کی جانب سے بید کی چھڑی سے ہوئی پٹائی اور مار کو یاد کرتے ہیں۔
جبکہ فی زمانہ بیشتر اساتذہ کرام اور طلباء میں غیر اخلاقی برائیاں در آئی ہیں کھلے عام سگریٹ نوشی،دوستانہ انداز،ہنسی مذاق،ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کی تقریباً وباء سبھی کو اپنی گرفت میں لیےہوئے ہے!!۔شاید یہ نئے دؤرکی بری سوغات ہے؟ضرورت اس بات کی ہےکہ اساتذہ کرام خود کو اس مقدس پیشے کے لیے وقف کر دیں تبھی طلباء پر یکسوئی سے توجہ دی جاسکتی ہے۔دوسری جانب پریشانی یہ ہے کہ طلبہ پرسختی کی جائے تو والدین اسکولز پہنچ جاتے ہیں! جبکہ گزرے زمانے میں سرپرست اساتذہ اور طلبہ کے درمیان کبھی حائل نہیں ہوتے تھے۔
سوشل میڈیا پر ایک استاد کے تبادلے پر طلباء کا ٹیچر کے گلے لگ کر رو روکر برا حال والی دو منٹ کی ایک جذباتی ویڈیو وائرل ہواہے۔ایک طرح سے یہ ویڈیومشاہدہ کرنے والے افراد کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔استاد کے تئیں طلباءکے جذبات و احساسات کا اس ویڈیو میں مشاہدہ کرنے والا فرد یقیناً متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔اس سے قبل بھی اسی طرح کے ویڈیوز وائرل ہوئے تھے۔
اب سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ اترپردیش کے چندولی ضلع کے رائے گڑھ کے سرکاری اسکول کا ہے۔جس میں دیکھاجاسکتا ہے کہ اسکول کے بچے روتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور تبادلہ کے بعد اسکول سے جانے والے ٹیچر کو جانے سے روک رہے ہیں۔
رائےگڑھ پرائمری اسکول کے ایک ٹیچر شیویندرسنگھ بگھیل کا حال ہی میں دوسرے اسکول میں تبادلہ ہونے کے بعد یہ نایاب منظر دیکھا گیا۔
ایک ٹیچر کے تبادلہ پر پورے اسکول کے بچوں کااس ٹیچر کے گلے لگ کربلک بلک کررونا اس بات کوظاہرکرتا ہے کہ اس ٹیچر نے اپنے مقدس پیشہ کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہوئے ان طلبہ کے دلوں میں اپنے لیے کتنی جگہ بنائی ہے۔
اس ویڈیو میں اسکول یونیفارم میں ملبوس بچوں کو ٹیچر کی الوداعی کے موقع پر روتے دیکھا جاسکتاہے۔وہیں جذبات سے مغلوب ٹیچر شیویندر سنگھ بگھیل انہیں تسلی دینے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔اور ان طلبہ کو دلاسہ دے رہے ہیں کہ”میں جلد ہی تم سے ملنے آؤں گا۔محنت سے پڑھائی کرو،تمہیں اچھا کرنا چاہیے” ٹیچر شیویندرسنگھ اپنے غیر روایتی طریقہ سے پڑھانے اور اپنے طلباء کی دلچسپی کی وجہ سے بے حد مقبول ہوئے۔
ٹیچر شیویندرسنگھ بگھیل 2018 میں اس اسکول میں ایک اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر تعینات ہوئے تھے۔انہوں نے بچوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے گیمز اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اسکول اور تعلیم کی جانب راغب کیا۔جہاں دشوار گزار علاقے کی وجہ سے ہمیشہ کم حاضری دیکھی جاتی تھی۔
بعد ازاں ٹیچر شیویندرسنگھ بگھیل نے نامور وسینئر صحافی اجیت انجم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 7ستمبر 2018 کو انہوں نے اس اسکول میں خدمات کا آغاز کیا تھااور 12 جولائی 2022 کو ان کی خدمات کے چارسال مکمل ہونے کے بعد ان کا تبادلہ ہواہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس اسکول سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ چار سال قبل اس اسکول آئے تھے اس وقت طلبہ کی تعداد بہت کم تھی۔جس پر اس اسکول کے تمام ٹیچرز نے بیڑہ اٹھایا کہ اس اسکول میں طلبہ کی تعداد بڑھانا ہے۔اور اس کام میں انہیں کامیابی بھی ملی۔انہوں نے بتایا کہ تمام ٹیچرس طلبہ کے گھروں کو جایا کرتے،انہیں بستر سے اٹھاکر نہلاتے بھی تھے اور خود ڈریس پہنا کر اسکول لے آتے تھے۔اس طرح طلبہ میں تعلیم کی جانب راغب بھی ہوئے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ملک کے مختلف سرکاری اسکولوں میں ٹیچر شیویندرسنگھ بگھیل جیسے کئی ٹیچرز بھی اسی طرح اپنے اس مقدس پیشہ کےساتھ مکمل انصاف کرتے ہوئے طلبہ کے دلوں میں ایسی جگہ بنائی ہوگی، بچوں کو تعلیم کی جانب سے راغب کیا ہوگا؟آج کےدؤر میں سرکاری اسکول میں شیویندر سنگھ جیسے اساتذہ موجود ہیں تو یہ ایک قابل فخر بات ہے۔اور دیگر ٹیچرز کے لیے ایک مثال ہیں۔
"نامور و سینیئر صحافی اجیت انجم کا 17 منٹ طویل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے،جس میں ٹیچر شیویندرسنگھ بگھیل کا ویڈیو بھی شامل ہے”

