تلنگانہ میں شدید بارش،حکومتی مشنری اور ایرفورس کے ہیلی کاپٹرز حالات سے نمٹنے تیار،عوام چوکس رہیں: چیف منسٹر کی مودی حکومت پر شدید تنقید

تلنگانہ میں شدید بارش،حکومتی مشنری اور ایرفورس کے ہیلی کاپٹرز حالات سے نمٹنے تیار
عوام چوکس رہیں،غیر ضروری اپنے مکانات سے باہر نہ نکلیں،ندی نالے عبور نہ کریں
نوپورشرما کے خلاف ریمارکس کرنے والے ججوں کی ستائش،ٹرولنگ کی مذمت
چیف منسٹر چندراشیکھرراؤ کی پریس کانفرنس،وزیراعظم نریندرمودی پر شدید تنقید

حیدرآباد: 10۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)

چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے آج شام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں جاری شدید بارش کے پیش نظر ریاست کے تمام سرکاری اور خانگی اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیز کو کل بروز پیر 11جولائی تا 13 جولائی (پیر،منگل اور چہارشنبہ) کو تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ ریاست میں آئندہ تین دنوں تک شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے تاہم اس کے بعد بھی مزید بارش کا امکان ہے۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ تین دنوں تک عوام چوکس رہیں۔بلا ضرورت اپنے مکانات سے باہر نہ نکلیں اور سڑکوں پر بنا کسی ضرورت نہ گھومیں۔انہوں نے کہا ہے سیلابی پانی سے لبریز ندیوں اور نالوں کو عوام پار نہ کریں،ساتھ ہی قدیم اور شکستہ مکانات میں نہ رہیں اس سلسلہ میں ضلع کلکٹرز کو چوکس کردیا گیا ہے کہ ایسے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔چیف منسٹر نے کہا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے این ڈی آر ایف کو چوکس رکھا گیا ہے ساتھ ہی ایرفورس کے ہیلی کاپٹرس بھی تیار رکھے گئے ہیں۔

چیف منسٹر نے کہا کہ اضلاع نظام آباد،نرمل،منچریال اور دیگر اضلاع میں شدید بارش ہوئی ہے۔ضلع کلکٹرز اور تمام متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ بھی 24 گھنٹے چوکس رہیں۔ذخائر آب پر گہری نظر رکھی گئی ہے۔حالات سے نمنٹنے کے لیے تمام لازمی اقدامات کرلیے گئے ہیں عوام خوفزدہ نہ ہوں بلکہ احتیاط کریں۔
چیف منسٹر نے کہا کہ محکمہ پنچایت راج،بلدیات،دفتران کلکٹریٹ میں کال سنٹرز قائم کیے گئے ہیں عوام 24گھنٹے کسی بھی قسم کی مدد کے لیے فون کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت ریاست میں حالات قابو میں ہیں۔لبریز پراجکٹس اور ذخائر آب سے پانی کے اخراج کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اپنی ڈھائی گھنٹے طویل اس پریس کانفرنس میں بی جے پی اور وزیراعظم نریندرمودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے چیف منسٹر کے۔چندرا شیکھر راؤ نے کہا کہ ان کے دؤر اقتدار میں ملک کس جانب جارہا ہے کسی کو پتہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں بی جے پی کا حیدرآباد میں منعقدہ پارٹی اجلاس کیوں ہوا اور کیا طئے کیے کوئی اطلاع نہیں ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی سے چند سوالا ت کیے تھے لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور وزیراعظم نےملک اور تلنگانہ ریاست کے لیے کچھ نہیں کیا صرف گھپلے بازی اور من مانی کی جارہی ہے۔اور ملک کی معیشت کو برباد کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ہندوستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ سی بی آئی اور پیگاسیس کا استعمال کہاں ہورہا ہے؟۔انہوں نے بی جے پی کو مذہب کے سوداگر قرار دیا۔ 

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤنے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب نریندرمودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو ڈالر کے مقابلہ میں روپئے کی گرتی ہوئی قدر پر گلا پھاڑ پھاڑ کراس وقت کی مرکزی حکومت سے سوال کرتے تھے۔اب انہوں نے یہی سوال کیا ہے تو انہیں کوئی جواب نہیں دیا جارہا ہے۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں نریندرمودی کا وہ ویڈیو بھی صحافیوں کو دکھایا۔انہوں نے کہا کہ روپیہ کی قدر کسی بھی وزیراعظم کے دؤر میں اتنی نہیں گری تو اب کیوں گری ہے۔اس پریس کانفرنس میں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ اب اس ملک کے 140 کروڑ عوام کی جانب سے یہی سوال وہ وزیراعظم نریندر مودی سے کررہے ہیں اور وہ اس کا جواب دیں۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی نہ جمہوریت کو ماننے تیار ہے اور نہ سپریم کورٹ کا احترام کرتی ہے اور مودی سرکار تاناشاہی میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن قائدین،ججوں،صحافیوں کو اور ان کی مخالفت میں اٹھنے والی ہر آواز  کو خوفزدہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسا غرور ہے؟ جبکہ ملک کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے سخت پریشان ہیں، من مانی طریقہ سے پکوان گیس کی قیمت میں اضافہ کیا جارہا ہے۔چیف منسٹر نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ملک کی راجدھانی دہلی سمیت بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کے عوام کو برقی اور پانی تک مہیا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔

گستاخ رسولﷺ نوپور شرما پر سپریم کورٹ کے دو ججس کے ریمارک کے بعد ان ججوں کے خلاف کھلے عام سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی جا رہی ہے۔انہوں نے ریمارک کیا کہ چند موظف ججوں کے ذریعہ کہلوایا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ نےلکشمن ریکھا پارکی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید اور ان کی ٹرولنگ کو سپریم کورٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے پوچھا کہ نوپور شرما نے ایسا کونسا تاریخی کام کیا تھا جس کی تائید کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو تک نشانہ بنایا جارہا ہے۔ججوں کی قدر کو گھٹایا جارہا ہے۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے نوپور شرما کے خلاف سخت ریمارک کرنے والے سپریم کورٹ کے جسٹس سوریہ کانت اور جے بی پاردی والا کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں ملک ان کے ساتھ ہے اور وہ ان دونوں ججوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ سپریم کورٹ ہی اب ملک کو بچاسکتا ہے۔

مہاراشٹرا میں کھیلے گئے سیاسی گیم پر بھی چیف منسٹر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر بی جے پی ریاستوں میں بی جے پی قائدین "ایکناتھ شنڈے” کا نعرہ لگارہے ہیں جو کہ کسی بھی قیمت پر ناقابل برداشت ہے۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو سیلزمین اور ملک کی تاریخ کےسب سے کمزور وزیراعظم قرار دیا۔اور چیلنج کیا کہ مقابلہ سازشوں سے نہیں بلکہ جمہوری طریقہ سے لڑائی کریں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کتنا ہی بدعنوان اور گھپلے باز کیوں نہ ہو بی جے پی میں شامل ہوگیا تو وہ پارسا بن جاتا ہے(انہوں نے اس کا ویڈیو بھی پیش کیا) ۔چیف منسٹر تلنگانہ نے چیلنج کیا کہ تمل ناڈو اور تلنگانہ میں ایکناتھ شنڈے پیدا کریں یہاں کے عوام ہی انہیں سبق سکھائیں گے۔

ریاست تلنگانہ اور خود کو آگ قرار دیتے ہوئے چندراشیکھرراؤ نے اعلان کیا کہ بی جے پی ، مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی بھلے ہی ان کا تعاقب نہ کریں لیکن وہ ان کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ساتھ ہی انہوں نے پیش قیاسی کی کہ ایک نہ ایک دن اس ملک کے عوام اور نوجوان بی جے پی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے بی جے پی کو ہٹانا ضروری ہے۔انہوں نے ٹی آر ایس پارٹی کو قومی پارٹی میں تبدیل کرنے کا اشارہ بھی دیا کہ اس ملک کو ایک مضبوط اپوزیشن جماعت کی شدید ضرورت ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ اندرا گاندھی آہنی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے باقاعدہ ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا لیکن آج ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے استفسار کیا کہ بینکوں کو لاکھوں کروڑ کا دھوکہ دے کر ملک سے فرار ہونے والوں میں وزیراعظم کا اپنا حصہ کتنا ہے؟انہوں نے یہ بھی سوال کیاکہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی)کے بشمول دیگرسرکاری ایجنسیوں کو اپوزیشن قائدین،صحافیوں کو ہراساں کرنے،حکومتیں گرانے اور گرفتار کروانے کے کام پر لگایا گیا ہے تو بینکوں کو لوٹ کر فرار ہونے والوں کو کیوں ان ایجنسیوں کے ذریعہ پکڑا نہیں جارہا ہے؟

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے ان پر اور تلنگانہ حکومت پر بی جے پی کے مختلف الزامات کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ نے تاریخی ترقی کی ہے۔اور انہیں کسی بھی سرکاری ایجنسی کا خوف نہیں ہے کیونکہ خوف چور اچکوں کو ہوتا ہے اور وہ ایسی کوئی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہیں جس سے وہ خوفزدہ ہوں۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی وزیرداخلہ جناب محمدمحمود علی،ریاستی وزیرتعلیم مسز پی۔سبیتااندراریڈی، محکمہ افزائش مویشیان تلسانی سرینواس یادو اور دیگر موجود تھے۔