کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے
لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے
اردو کی مخالفت اور زبان کا موقف ختم کرنے کا اعلان مگر
تلنگانہ بی جے پی نے کیے اردو میں ٹوئٹ،اردو والے حیران!!
حیدرآباد: 03۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)
تلنگانہ بی جے پی کو اردو یاد آگئی ہے۔تلنگانہ بی جے پی کی جانب سے خود اردو زبان میں اس کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے کیے گئے اردو ٹوئٹس پر اردو والے حیران ہیں کہ ” یا اِلٰہی یہ ماجرا کیا ہے "؟ اور ان کا سوال ہے کہ ببول کے پیڑ پر گلاب کے پھول کیسے اگ آئے ہیں؟ان ٹوئٹس کی تفصیلات آگے پیش ہیں۔
دراصل تلنگانہ بی جے پی کی جانب سے اردو زبان کی شدید مخالفت دراصل اس وقت شروع ہوئی تھی جب حکومت تلنگانہ اور وزیراعلیٰ کے۔چندرا شیکھرراؤ نے”تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن TSPSC# "کے گروپ۔ون کے مسابقتی امتحانات کو اردو زبان میں تحریر کرنے کی سہولت فراہم کی۔جس سے اردو میڈیم سےتعلیم حاصل کرنے والے اہل طلبا و طالبات کو فائدہ ہوگا۔
جس کے فوری بعد ماہ مئی میں تلنگانہ بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کمار و رکن پارلیمان کریم نگر اور بی جے پی کے رکن پارلیمان نظام آباد دھرماپوری اروند نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو انتباہ دیا تھا کہ گروپ۔ون کے مسابقتی امتحانات میں اردو زبان کی سہولت فراہم نہ کی جائے۔ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ جب آئندہ انتخابات میں ریاست تلنگانہ میں بی جے پی اقتدار پرآئے گی تو اردو زبان کی حیثیت ختم کردی جائے گی۔
ریاستی بی جے پی صدر بنڈی سنجے کمار نے 5 مئی کو محبوب نگر میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دو قدم آگے بڑھ کر کہاتھا کہ ریاست تلنگانہ میں جب بی جے پی اقتدار میں آئے گی تو تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے گروپ۔ون کے ذریعہ اردوزبان میں امتحانات لکھ کر ملازمتیں حاصل کرنے والے تمام سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برخاست کردیا جائے گا۔
اب حیدرآباد میں جاری بی جے پی کے قومی عاملہ کے اجلاس میں وزیراعظم نریندرمودی،مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سمیت کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ قائدین شریک ہیں۔
اسی موقع کی مناسبت سے بی جے پی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل BJP4Telangana@کے ذریعہ ریاستی وزیراعلیٰ کے سی آرکےخلاف مہم جاری ہے اوران سے مختلف سوالات کیے جارہے ہیں۔
بی جے پی تلنگانہ کے اردو ٹوئٹس میں وزیراعلیٰ کے سی آر سے اردو زبان میں بھی سلسلہ وار طورپر تین ٹوئٹس کے ذریعہ 13 سطورلکھی گئی ہیں۔
1۔ کےسی آر کی حکمرانی میں خوشحال ریاست قرض میں ڈوب گئی۔
2۔ بنگارو تلنگانہ ریاست کی عوام کے لئے ایک خواب اور کلوا کنٹلہ خاندان کے لیے بنگارو۔
3۔ عوامی نظام صحت اور نظام تعلیم ابتر۔
4۔ خواتین اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔
5۔ ریاست تلنگانہ میں ہزاروں کسانوں نے خودکشی کی۔
6۔ دلتوں کو 3 ایکر اراضی کا وعدہ وفا نہیں ہوا اور نہ ہی کسی دلت کو نائب وزیر اعلی بنایا گیا۔
7۔ قبائلی آج تک بنجر زمین کے انتظار میں۔
8۔ پالمورو کی نقل مکانی نہیں رکی۔
9۔ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے ارکان اور وزراء بنا کسی خوف و خطر رشوت خوری میں ملوث۔
10۔ کالیشورم پراجیکٹ کا پانی صرف کے سی آر کے فارم ہاؤس کے لیے مختص۔
11۔ عوام کا پیسہ صرف کے سی آر اور ان کے شہزادے کو فروغ دینے کے لیے استعمال میں۔
12۔ ریاست تلنگانہ میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔
13۔ کلوا کنٹلہ آئین ساری ریاست تلنگانہ میں نافذ۔
اس موقع پر باقی احمد پوری کا یہ شعر بے اختیار یاد آجاتا ہے؎
سب دوست مصلحت کے دکانوں میں بِک گئے
دشمن تو پرخلوص عداوت میں اب بھی ہے
” تلنگانہ بی جے پی قائدین کے بیانات پر مشتمل مفصل رپورٹ اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے”


