دہلی میں احتجاج کے دؤران کانگریسی لیڈرز الکا لامبا رو پڑیں تو نیتا ڈیسوزا نے پولیس ملازمین پر تھوک دیا

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

دہلی میں احتجاج کے دؤران کانگریسی لیڈرز
الکا لامبا رو پڑیں تو نیتا ڈیسوزا نے پولیس ملازمین پر تھوک دیا

نئی دہلی:21۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ملک کے عوام کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سے اور اپوزیشن جماعتوں سے پرامن احتجاج کا دستوری حق اور گاندھیائی طریقہ کار کوحکومت نے پولیس کی طاقت کے زور پر چھین لیاہے؟۔کسی بھی ریاست میں دیکھ لیں عوام کو پرامن احتجاج کاکوئی حق نہیں دیا جارہا ہے۔پولیس کی جانب سےلاٹھی چارج،اہانت آمیزطریقہ سے دھڑ پکڑ،اپوزیشن کےعوامی نمائندوں کی اہانت اوران سے مجرموں جیساسلوک،احتجاج کرنےوالوں پر پانی کی بوچھاڑ،فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال اب عام نظر آرہا ہے۔

وہیں دوسری جانب چند مخصوص ریاستوں میں عدالتوں کےفیصلوں سے قبل ہی مخصوص مذہب کے ملزمین کو مجرمین قرار دےکر ان کی املاک کو بلڈوزروں کے ذریعہ زمین بوس کردینا،ان کی تصاویراشتہاری مجرمین کےطور پر سڑکوں پر آویزاں کرنااس ملک کے شہریوں کے دستوری حقوق کی سراسر پامالی ہے۔اس معاملہ میں شدید ضرورت ہے کہ عدالتیں مداخلت کریں اور عوام و اپوزیشن پارٹیوں کے پرامن طریقہ سے احتجاج کے جمہوری حقوق کو بحال کریں۔

آج ملک کے دارالحکومت دہلی سے تین ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔جو کہ کانگریس سے وابستہ خاتون لیڈران کے ہیں۔

دو ویڈیوزسابق رکن اسمبلی چاندنی چوک دہلی وکانگریس کی شعلہ بیان لیڈر”الکا لامبا”کے ہیں۔اور ایک ویڈیو صدرمہیلا کانگریس نیتا ڈیسوزا کا ہے۔

الکا لامبا کے ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ دہلی میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی)کی جانب سے راہول گاندھی سے پوچھ تاچھ اور مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ”اگنی پتھ اسکیم”کے خلاف احتجاج کررہی تھیں۔

انہیں خاتون پولیس ملازمین وہاں سے بزور طاقت اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں۔اس ایک ویڈیومیں الکا لامبا کہہ رہی ہیں کہ میڈیاوالودیکھو پولیس میری گردن توڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ساتھ ہی الکالامبا کہہ رہی ہیں کہ جب اگنی پتھ کےاگنی ویر چار سال کی ٹریننگ کے بعد باہر آئیں گے تو ایک ایک کی ایسی ہی گردنیں توڑیں گے۔

خاتون پولیس ملازمین جب طاقت کے زور پر الکا لامبا کو وہاں سےاٹھانے کی کوشش کرتی ہیں تووہ زمین پر لیٹ کربھارت ماتا کی جئے،جئےجوان ،جئے کسان کے نعرے لگاتی ہیں۔جنہیں خاتون پولیس ملازمین کی جانب سے ان کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اٹھایا جاتا ہے۔

اس واقعہ کے بعد روتی اور بلکتی ہوئیں سابق رکن اسمبلی دہلی و کانگریس لیڈر الکا لامبا پولیس اور میڈیا سے کہہ رہی ہیں کہ”نہتے ہیں ہم لوگ، جئے جوان،جئے کسان،بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے ساتھ پرامن ستیہ گرہ کرنا چاہتے ہیں”۔

اس جذباتی ویڈیو میں الکا لامبا اپنے دونوں ہاتھوں سے بار بار اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ”یہ دستوری اور جمہوری حق ہے،الکا لامبا کہتی ہیں کہ وہ اپنےلیے نہیں رو رہیں،دیش کی جوحالت ہورہی ہے اس کولےکر دیش رورہا ہے۔میری چوٹیں چھوٹی ہیں جلدٹھیک ہوجائیں گی۔

الکا لامبا روتے روتےمسکراکر میڈیا سے کہتی ہیں کہ وہ کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں اور یہ پولیس بھی جانتی ہے۔الکا لامباکہتی ہیں کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوان سڑکوں پر ہیں،کوئی سننے والا ہے ؟،خودکشی کررہے ہیں وہ،ان کے ماں باپ نے سوچا تھا کہ ان کا بیٹا سرحد پر جائے گا اور ملک کے لیے شہید ہوگا،ترنگا کے کفن میں لپیٹ کر آئے گا،وہ ماں رورہی ہے کہ میرے بیٹے نے دم توڑدیا۔

وہیں نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ معاملہ میں کانگریس لیڈرورکن پارلیمان راہل گاندھی سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی) کی پوچھ تاچھ آج منگل کو پانچویں مرتبہ بھی جاری ہے۔جس کے خلا ف کانگریسی قائدین اور کارکن احتجاج کررہے ہیں۔اس دوران صدرمہیلا کانگریس نیتا ڈ سوزا کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب پولیس کانگریس کے مظاہرین کو اپنی تحویل میں لے کر گاڑیوں کے ذریعہ انہیں منتقل کررہی ہے تو بس کے دروازے پر کھڑیں برہم نیتا ڈیسوزا خاتون پولیس ملازمین پرتھوک رہی ہیں۔

نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کیس میں راہول گاندھی سے ای ڈی کی آج پانچویں مرتبہ پوچھ تاچھ جاری ہے۔جبکہ اسی معاملہ میں کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کو بھی 23 جون کوانفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے سامنے پیش ہونے کی نوٹس دی گئی ہے۔

دوسری جانب ٹوئٹر پر سونیا لامبا Sonia Lamba@ نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”ایک باپ اپنی بیٹی کی ویڈیو دیکھتے ہوئے۔”جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ الکا لامبا کے والد اپنی روتی ہوئی بیٹی کا ویڈیو نیوز چینل پر دیکھتے ہوئے رورہے ہیں۔اس ویڈیو کو ری۔ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی چاندنی چوک دہلی و کانگریسی لیڈر الکا لامبا نے لکھا ہے کہ” آئی ایم سو سوری پاپا۔”