پیغمبراسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کا معاملہ: ہندوستان کو کیوں معافی مانگنی چاہئے ؟ وزیرتلنگانہ کے ٹی آر، مختلف مسلم ممالک کی مذمت

پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کا معاملہ:
بین الاقوامی برادری سے ہندوستان کو کیوں معافی مانگنی چاہئے؟ وزیر تلنگانہ کے ٹی آر
قطر،کویت،ایران اورسعودی عرب کے بعد او آئی سی اور یو اے ای کی بھی مذمت
حکومت ہند نے اسلامی تعاون تنظیم کے تبصروں کو مسترد کردیا

نئی دہلی/حیدرآباد:06۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)

تلنگانہ کے وزیر بلدی نظم ونسق و آئی ٹی کے۔تارک راماراؤ (کے ٹی آر)نے وزیراعظم سے سوال کیا ہے کہ نفرت انگیز بیانات/تقاریر کے لیے ایک ملک کی حیثیت سے ہندوستان کو بین الاقوامی برادری سے کیوں معافی مانگنی چاہئے؟

آج اپنے ایک ٹوئٹ میں باقاعدہ وزیراعظم نریندرمودی کو ٹیاگ کرتے ہوئے ریاستی وزیر کے ٹی آرلکھا ہے کہ اس کے لیے بی جے پی کو معافی مانگنی چاہئے پوری ہندوستانی قوم کونہیں۔ریاستی وزیر کے ٹی آر نے اپنے اس ٹوئٹ میں مزید لکھا ہے کہ”دن رات نفرت انگیزی اور منافرت پھیلانے کے لیے آپ کی پارٹی کو پہلے خود ملک کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہئے”۔

بعدازاں تلنگانہ کے وزیر بلدی نظم ونسق و آئی ٹی کے۔تارک راماراؤ نے دو انگریزی ویب سائٹس کی سرخیوں کے تراشوں کے ساتھ ایک اور ٹوئٹ کیا ہے جو کہ بھوپال کی بی جے پی رکن لوک سبھا پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے بیانات پرمشتمل ہیں۔جس میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا بیان ہے کہ” مہاتما گاندھی کا قاتل ناتھورام گوڈسے دیش بھکت تھا”۔

ان سرخیوں کے ساتھ تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی کے ٹی آر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”مودی جی،جب بی جے پی ایم پی پرگیہ سنگھ نے مہاتما گاندھی کے قتل کی ستائش کی تو آپ کی خاموشی چونکا دینے والی تھی”۔”میں آپ کو یاد دلاتاہوں جناب جس چیز کی آپ اجازت دیتے ہیں وہی آپ فروغ دیتے ہیں”۔”اوپر سے خاموش حمایت ہی وہ ہے جس نے تعصب اور نفرت کو ابھارا جو کہ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے گا”۔

دراصل بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما نے 26 مئی کی رات نیشنل انگریزی نیوز چینل” ٹائمز ناؤ ” پر لائیو ڈیبیٹ کے دؤران پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ،حضرت عائشہ رض اللہ تعالیٰ عنہ اور واقعہ معراج النبی ﷺ کے خلاف انتہائی گستاخانہ،ناقابل برداشت اور نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔جس کے خلاف ملک اور اسلامی ممالک میں شدید احتجاج اور مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی دؤران کل 5 جون کو بی جے پی نے اپنی قومی ترجمان نوپورشرما کوپارٹی سےمعطل کردیا ہے۔ساتھ ہی پارٹی نےکہا ہے کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی بھی مذہب کے قابل احترام لوگوں کی توہین قبول نہیں کرتی ہے۔اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔تاہم بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کی جانب سے سرکاری طور پرجاری کردہ اس بیان میں نوپورشرما کی گستاخی کا ذکر نہیں کیا گیا ہے!!

پیغمبراسلامﷺ کی شان اقدس میں نوپورشرما کی گستاخی کےخلاف سعودی عرب،قطر،کویت اور ایران کی جانب سے شدیداعتراض کرتےہوئے حکومت ہند سے اپنا احتجاج درج کروایا ہے۔چند ممالک نے حکومت ہند سے معافی بھی طلب کی ہے۔اسی پر تلنگانہ کے وزیر بلدی نظم ونسق و آئی ٹی کے۔تارک راماراؤ نے اپنے اس ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

جبکہ کل 5 جون کو نوپور شرما کو بی جے پی سے معطل کرنے کے اعلان کے بعد تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی کے ٹی آر نے اپنے ٹوئٹ میں قومی صدر بی جے پی جے پی نڈا کو ٹیاگ کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ”اگر بی جے پی واقعی تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتی ہے تو کیا آپ کو تلنگانہ بی جے پی کے سربراہ کو بھی معطل نہیں کرنا چاہئے جنہوں نے کھلے عام بیان دیا تھا کہ تمام مساجد کو کھودنا اور اردو پر پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں؟یہ متعصانہ سلوک کیوں؟ JPNadda@ جی۔کوئی وضاحت؟

پیغمبراسلامﷺ کی شان اقدس میں نوپور شرما کی جانب سے گستاخی کے بعدقطر کی حکومت کے بعد کویت نے نوپورشرما کی جانب سے اہانت رسولﷺ اورگستاخانہ تبصرہ پر ہندوستانی سفیر کوطلب کیا۔وہیں کویت نے ہندوستانی حکومت کو احتجاجی نوٹ بھی پیش کیا ایران نے بھی یہی اقدام کیا ہے۔

آج شام”متحدہ عرب امارات UAE ” کی وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون نے بھی پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے۔

آج ہی اسلامی تعاون تنظیم”او آئی سی” آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن” کی جانب سے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ”اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے ہندوستان کی حکمران جماعت کے ایک عہدیدار کے ذریعہ پیغمبراسلامﷺ کی حالیہ توہین کی شدیدمذمت کی ہے۔ہتک عزت کے یہ مقدمات بھارت میں اسلام کی نفرت اور بدنامی کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا حصہ ہیں۔”

 انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق حکومت ہند نے او آئی سی کے ان تبصروں کو”غیرضروری اورتنگ نظری”قرار دیتے ہوئےمسترد کردیا ہے۔اگرچہ ہندوستانی حکومت نے عوامی سطح پر ان میں سے کسی بھی تنقید کا جواب دینے سے گریز کیا۔اس نے او آئی سی کے تبصروں کا جواب دیا۔جدہ میں قائم 57 ممالک کی باڈی کے جنرل سیکرٹریٹ نے ہندوستان کی حکمران جماعت کے عہدیداروں کی جانب سے "پیغمبر اسلام کی توہین” کی شدید مذمت کی تھی۔

او آئی سی کے بیان کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ایک بیان میں کہاکہ”ہم نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ سے ہندوستان پر بیان دیکھاہے۔حکومت ہند او آئی سی سیکرٹریٹ کے غیر ضروری اور تنگ نظر تبصروں کو واضح طور پر مسترد کرتی ہے۔

ارندم باغچی نے کہاکہ ہندوستانی حکومت”تمام مذاہب کا سب سے زیادہ احترام کرتی ہے۔”انہوں نے کہا کہ” مذہبی شخصیت کی تذلیل کرنے والی توہین آمیز ٹوئٹس اور تبصرے بعض افراد کی جانب سے کیےگئے تھے۔وہ کسی بھی طرح سے حکومت ہند کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔متعلقہ اداروں کی جانب سے ان افراد کے خلاف پہلے ہی سخت کارروائی کی جا چکی ہے۔