یہ انسان بن جائیں کچھ ساتھ رہ کر
فرشتوں کو ہم راہ پر لا رہے ہیں
بندروں کا قابل تقلید جذبہ انسانیت،کئی دن بعد جذباتی ملاقات
وہیل مچھلی کو زندہ رکھنے کے لیے اس پر لگاتار 19 گھنٹوں تک پانی کا چھڑکاؤ
سوشل میڈیا پر دلنشین ویڈیوز وائرل،مذہبی جنونیوں کے لیے ایک سبق
حیدرآباد:05۔جون
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
موجودہ معاشرے میں ہر دوسرےشخص کو یہ شکایت ہےکہ خونی اور دنیاوی رشتے اب اپنی اہمیت کھوتے جارہے ہیں!۔ نہ ان رشتوں میں پہلے جیسا اپنا پن محسوس ہوتا ہے اور نہ کسی کے دکھ سکھ اور پریشانیوں سے کسی کو زیادہ پریشانی نہیں ہوتی جیسا کہ پچھلے دؤر میں ہوا کرتا تھا۔اُس دؤر میں رشتہ داروں کےساتھ ساتھ بلاکسی مذہبی تفریق پڑوسیوں سے بھی تعلقات ایسے ہوا کرتے تھے کہ جیسے وہ بھی اپنے ہی خاندان کا ایک حصہ ہیں!
ہم ان خوش نصیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ایک حسین اور خوبصورت دؤر یہ بھی دیکھا ہےکہ جہاں گھروں کے دالان کشادہ ہواکرتے تھے وہیں ان گھروں میں رہنے والے انسانوں کے دل ان سے کہیں زیادہ کشادہ ہوتے تھے۔مشترکہ خاندانوں کا رواج عام تھا۔ہر رشتے کی اپنی حیثیت،اہمیت اور احترام اپنی جگہ ہوتا تھا۔
گھر کے بچوں کی اصلاح ڈانٹ ڈپٹ سے ہی کی جایا کرتی تھی لیکن کیا مجال کہ کسی کا کوئی دخل یا اعتراض ہو!۔بزرگوں کااحترام لازم ہواکرتا تھا۔چاہے وہ اپنے خاندان کے ہوں یا پڑوسی!اس میں بھی مذہب کی کوئی پابندی عائد نہیں ہواکرتی تھی۔ہرخاندان کےسربراہ کا اپنا ایک رتبہ، اہمیت اورحیثیت ہوا کرتی تھیں۔جن کاحکم اور ہدایت پتھر کی لکیر مانی جاتی تھی۔کسی کوبھی کبھی یہ شکایت نہ ہواکرتی تھی کہ اس کے ساتھ یا اس کے بیوی بچوں کے ساتھ مشترکہ خاندان میں امتیاز برتا جارہا ہے۔اگر ان مشترکہ خاندانوں میں کوئی بیروزگاربھی ہوتا تو اسے یا اس کے خاندان کے لیے تینوں وقت مشترکہ دسترخوان موجود ہوا کرتا تھا۔!!
کسی بچے کی کوئی بھی غلطی سیدھے خاندان کے سربراہ سے کی رجوع کردی جاتی اور اس کے لیے تجویز کردہ سزا پر نہ ماؤں کو دکھ ہوتا تھا اور نہ والد کی مداخلت۔اساتذہ کو بھی اتنے ہی اختیارات ہوا کرتے تھے کہ اپنے طلبہ کی اصلاح اور تربیت وہ جس ڈھنگ سے بہتر طورپر کرسکیں کریں۔یہی وجہ ہوا کرتی تھی کہ معاشرہ میں اورگھروں میں ڈسپلن ہوا کرتا تھا بھلے ہی گھروں کے دروازوں پر ٹاٹ کے پردے ہوتے تھے!۔
لیکن برا ہو ترقی کے نام پر دالانوں سے غائب فلیٹس اورمکانات میں الگ رہنے کےکلچر کاکہ اس نے مشترکہ خاندانوں میں ایسی دراڑ پیدا کردی کہ نئی نسل تربیت اور تہذیب سے دور ہوتی چلی گئی۔اب معاشرہ میں یہ رواج عام ہوگیا ہے کہ جو خاندان کبھی مشترکہ رہاکرتے تھے اور ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں ساتھ ہوا کرتے تھے۔عیدین یا پھر کسی شادی بیاہ کی یا دیگر تقاریب میں ہی ملاقات پر اکتفا کرنے لگے ہیں۔ان تقاریب میں چند گھنٹے گزارکر اپنے اپنے مسائل بیان کرلیتے ہیں۔اپنے زیادہ تر مسائل پر رو دھوکر اپنا غم ہلکان کرلیا کرتے ہیں۔یہ مناظر واقعی افسوسناک ہوتے ہیں کہ خونی رشتوں میں اس نام نہاد ترقی اور کبھی کبھار اپنی اپنی انا کس قدر حائل ہوگئی ہے؟
ایسے میں ٹوئٹر پر ایک انتہائی دلنشین ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جسے دیکھ کر ایک ٹوئٹر صارف نے کمنٹ کیا ہے کہ”دوسرے ہم منصب سے کتنا پیار اور کتنی شفقت ہے،ہمیں ان سے سیکھنا ہوگا”۔اس ویڈیو کو Susanta Nanda IFS@نے ٹوئٹ کیا ہے جو کہ ایسے دلکش اور سبق آموز ویڈیوز ٹوئٹ کرتے رہتے ہیں۔جس میں انسانوں کے لیے ایک پیغام پنہا ہوتاہے۔
اس ویڈیو کے ساتھ اس انڈین فاریسٹ سرویس کے عہدیدار نے کیاپشن لکھا ہے کہ”جب وبائی مرض کے بعد خاندان سے ملاقات ہوئی”۔اس 14 سیکنڈ کے ویڈیو کو 44،000 صارفین نے دیکھا اور 3،323 نے لائیک کیا ہے۔جو کہ انسانوں کے لیے انتہائی سبق آموز ہے!
انسانی مشکلات اور پریشانیوں کے اس دؤر میں رہی سہی کسر اب گزشتہ چند سالوں سے مذہبی منافرت نے پوری کردی۔جہاں گھروں سے سکون غائب ہوگیا ہے وہیں ملک میں مذہبی منافرت اور قومی یکجہتی کے تانے بانوں کو کمزور کرکے رکھ دیا گیا۔
ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی ہر وہ چیز بری اور قابل اعتراض بنادی گئی ہے جو کہ اس ملک اور اس قوم کے صدیوں پرانے کلچر کا حصہ ہے۔ہندو۔مسلم منافرت کو اتنی ہوا دی گئی کہ اب اس بے قابو نفرت کے زہریلے ناگ سے آج سارے ملک کا امن پسند طبقہ جوکہ مہنگائی اور بیروزگاری کے ساتھ ساتھ روزگار سے محروم ہوتا جارہا ہے کرب اور بے چینی کا شکار ہے۔

کسی بھی معاملہ میں اشتعال انگیزی اور موب لنچنگ تواب عام بات بن کررہ گئی ہے۔جبکہ مجرموں کا سزائیں دینے کے لیے قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔لیکن بلاءخوف و خطر پولیس کی موجودگی میں ہجوم ہی پولیس،ہجوم ہی عدالت،ہجوم ہی وکیل،ہجوم ہی عدالت،ہجوم ہی جج اورمنٹوں میں فیصلہ!!۔انسانی جانیں ضائع!! دکھ کسی ایک مذہب کا نہیں ہے بات ساری انسانیت کی ہے!
موجودہ حالات میں کسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ؎
رائج ہے میرے دیس میں نفرت کا قاعدہ
ہو جِس سے اختلاف،اُسے مار ڈالیے
دوسری جانب انسانوں کے ہاتھوں بے گناہ اورمعصوم انسانوں کے قتل کے درمیان چاہے وہ موب لنچگ کے ذریعہ ہو یا پھر ذات پات کے نام ہو یا کشمیرمیں جاری معصوم کشمیری پنڈتوں اور دیگر ہندوؤں کا دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ناحق ہو،انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔کیونکہ اسلام میں ایک بے گناہ انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا گیاہے۔انسان ہو یا جانور یا چرند پرند سب کی زندگیاں اہم ہوتی ہیں۔
ایسے میں ٹوئٹر اور یوٹیوب پر TheDolo@ جو کہ جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا ہے۔جس کے ذریعہ یہ پیغام ملتا ہے کہ مصیبت زدوں کی مدد کرنا ہی انسانی میراث ہے۔ٹوئٹر پر اس ویڈیو کو اب تک 5،3500 صارفین نے دیکھا اور اس ویڈیو کو 16،200 لائیکس حاصل ہوئے جبکہ اسی ویڈیو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں صارفین نے دیکھا اور اس بچاؤ ٹیموں اور اس میں حصہ لینے والے عام لوگوں کے اس جذبہ کی ستائش کی ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بڑی سی وہیل مچھلی چین کےسمندر سےکسی طرح ساحل کی ریت پر پہنچ کرپھنس گئی۔اس وہیل مچھلی کو زندہ رکھنےکےلیے وہاں کی بچاؤٹیموں کےکئی کارکنوں اور عوام نے لگاتاراس وہیل مچھلی پر پورے 19 گھنٹوں تک لگاتار بکیٹوں کے ذریعہ پانی کا چھڑکاؤ کرتے رہے تاکہ وہ زندہ رہ پائے۔بالآخر ان کی یہ محنت رنگ لائی اور دو گاڑیوں کی مدد سے19 گھنٹوں بعد اس وہیل مچھلی کو بحفاظت سمندر میں منتقل کردیا گیا۔جو تیرتے ہوئے پانی میں آرام کے ساتھ روانہ ہوگئی
https://www.youtube.com/watch?v=S7EjccT5LT4
یاد رہے کہ ایک پرامن اور خوشحال ملک اور سماج کے لیے لازمی ہے کہ ہر تنازعہ کا فیصلہ قانون اورعدالتیں کریں،سڑکوں پرفیصلوں کاسلسلہ بند ہو۔جس سے قانونی اجارہ داری قائم رہے اورملک کی ترقی بھی ممکن ہو،شہریوں کےحقوق کا بھی تحفظ ہو اور ہرکوئی پرامن زندگی گزارے۔جوکہ اس کا بنیادی حق ہے۔جس سے دیگر ممالک میں بھی ملک کی شبیہ بہتر ہوگی۔اس ملک کا ہرشخص چاہتا ہے کہ ملک امریکہ،چین اورجاپان کی طرح ترقی کرےنہ کہ پاکستان،بنگلہ دیش،نیپال اور دیگر چھوٹے ممالک سے اپنے اس عظیم جمہوری ملک کا تقابل کیا جائے۔

