سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ،غداری کے قانون پر روک
جیلوں میں قید افراد ضمانت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں
اس قانون کے تحت مزید ایف آئی آر کے اندراج سے گریز کیا جائے
نئی دہلی:11۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے آج اپنے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلے میں غداری Sedition Law#کے قانون پرروک لگا تے ہوئے حکم دیا ہےکہ اس غداری/بغاوت کے قانون کے تحت کوئی نئی ایف آئی آر اس وقت تک درج نہیں کی جائے گی جب تک کہ مرکزی حکومت برطانوی دؤر کے اس قانون کی دفعات کا از سر نو جائزہ نہیں لے گی جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
معزز چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے کہا کہ قانون کا استعمال نہ کرنا مناسب ہوگا ساتھ ہی معزز چیف جسٹس نے جیلوں میں قید غداری کےالزامات کا سامنا کررہے افراد کو راحت دیتے ہوئے اجازت دی کہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 124A کے تحت پہلے سے ہی درج شدہ اور جیلوں میں قید افراد راحت کے لیے عدالتوں سے رجوع ہوسکتے ہیں۔
معزز چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ”ہم پرامید ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت اور ریاستیں آئی پی سی کی دفعہ 124A (غداری) کے تحت تازہ ایف آئی آر درج کرنے سے روکیں گی۔ساتھ ہی معزز سپریم کورٹ نے یہ راحت بھی فراہم کی کہ اگر اس دفعہ کے تحت کوئی تازہ مقدمہ درج کیا جائے تو متعلقہ فریق عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں اور اسے تیزی سے نمٹانے کی درخواست کرسکتے ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا،جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی پرمشتمل بنچ نے آج ان معاملات کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔معزز سپریم کورٹ نے کہا کہ”عدالت ایک طرف ریاست کے فرائض اور دوسری طرف شہریوں کی شہری آزادیوں سے آگاہ ہے اور اس معاملہ میں غورو فکر کے توازن کی ضرورت ہے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ”ہندوستان بھر میں بغاوت کے 800 سے زیادہ مقدمات درج ہیں اور اس کے تحت تقریباً 13,000 افراد جیلوں میں قید ہیں۔سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے غداری کے قانون کے غلط استعمال کے بارے میں بحث کرتے ہوئے کہا کہ”ہم آئین کے بعد کے دور میں ہیں۔پنڈت جواہرلعل نہرو نے کہا تھا کہ یہ شق ناگوار ہے اور جتنی جلدی ہم غداری سے چھٹکارا پالیں گے اتنا ہی بہتر ہے "
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جہاں تک غداری کے زیرالتوا مقدمات کا تعلق ہے،ہر کیس کی سنگینی کا علم نہیں ہے،ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کا زاویہ ہو،یا منی لانڈرنگ ہواور زیرالتوا مقدمات عدالتوں کے سامنے ہیں اورہمیں عدالتوں پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ نے کل منگل کو نوآبادیاتی دؤر (1857)کے تعزیری قانون کی دوبارہ جانچ تک غداری کے مقدمات درج کرنے پر روک لگاتے ہوئے شہریوں کے مفادات کے تحفظ پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کے بعد مرکزی وزیر قانون مسٹر کرن رجیجو نے کہا ہے کہ ہم نے اپنا موقف بالکل واضح کر دیا ہے اور عدالت کو اپنے وزیراعظم کی نیت سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ہم عدالت اور اس کی آزادی کا احترام کرتے ہیں۔لیکن ایک لکشمن ریکھا(لائن) ہے جس کا احترام ریاست کے تمام حصوں کے لیے ضروری ہے۔
دوسری جانب میڈیا اطلاعات کے مطابق 2016 سے ملک میں غداری کے قانون کے استعمال میں 160 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
"سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ پر صحافی ابھیسر شرما کا یہ ویڈیو ضرور دیکھیں"

