وہ آڈیو میرا نہیں ہے،میں پولیس کی عزت کرتا ہوں،میرے خلاف ایم ایل اے تانڈورمہم چلارہے ہیں: ایم ایل سی مہیندرریڈی

وہ آڈیو میرا نہیں ہے،میں پولیس کی عزت کرتا ہوں
میرے خلاف ایم ایل اے تانڈور منظم مہم چلارہے ہیں
ٹی آر ایس ایم ایل سی مہیندرریڈی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد/وقارآباد:28۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)

کل سے رکن قانون ساز کونسل(ایم ایل سی)متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق ریاستی وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی اور سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور (ٹاؤن) راجندرریڈی کی فون پر ہوئی گفتگو پرمشتمل ایک آڈیو سوشل میڈیا اور میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس کے بعد ریاست تلنگانہ اور خود ٹی آرایس پارٹی میں شدید ہلچل مچی ہوئی ہے۔

اس آڈیو کو ویڈیو کی شکل میں تیار کرکے وائرل کیا گیا ہے۔جس میں ایم ایل سی سنا جاسکتا ہے کہ ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی فون پر تین دن قبل تانڈور کی بھدریشورمندر کی جاترا تقاریب میں پروٹوکال کو نظر انداز کرتے ہوئے رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اور ان کے ساتھی قائدین کے لیے لال کارپیٹ بچھائے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور راجندرریڈی کے ساتھ گالی گلوچ کرتے ہوئے انہیں دیکھ لینے کی دھمکی دے رہے ہیں کہ ایم ایل اے کے ساتھ موجود "رؤڈی شیٹرس” کے لیے ریڈ کارپیٹ کیوں بچھائی گئی؟جس پر سرکل انسپکٹر پولیس کہتے ہیں کہ کیا ریڈ کارپٹ بچھانا پولیس کا کام ہے؟ اور ان میں رؤڈی شیٹرس کون ہیں؟ 

ان دونوں کے درمیان موبائل فون پر ہوئی چیت والا آڈیو جسے ویڈیو کی شکل میں تبدیل کردیا گیا سوشل میڈیا کےمختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا ہے۔اور یہ آڈیو علاقائی اور قومی میڈیا چینلوں پر بھی نشر کیا جارہا ہے۔

اسی دؤران آج 28 اپریل کو حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے جو آڈیو وائرل کیا گیا ہے اس میں آواز ان کی نہیں ہے!۔انہوں نے کہا کہ پہلے انہوں نے سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور (رورل) رام بابو کو فون کرکے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ٹاؤن سرکل انسپکٹر کے دائرہ میں آتا ہے تو انہوں نے سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور ٹاؤن سے بات کی لیکن اان کے ساتھ کوئی فحش کلامی یا گالی گلوچ نہیں جیسا کہ وائرل شدہ آڈیو میں موجود ہے۔

ساتھ ہی ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی نے کہا کہ اگر پولیس ان کے خلاف کیس درج کرتی ہے تو وہ عدالت میں اس کا فیصلہ ہوگا اور حقائق سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس مجھے نوٹس دے تو میں تحقیقات کا سامنا کرنے تیار ہوں۔

رکن قانون ساز کونسل(ایم ایل سی)متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق ریاستی وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی نے کہا کہ وہ پولیس کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جاترا تقاریب کے دؤران ان کی اہانت کی گئی اس لیے انہوں نے سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور کو فون کرکے پوچھا کہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں کیا گیا؟لیکن اس معاملہ کو ان کی شبیہ خراب کرنے کی غرض سے دوسرا رخ دے گیا۔

ساتھ ہی ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی نے کہا کہ وہ اس معاملہ میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور وہ تانڈور کے عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ تانڈور کے عوام رؤڈی شیٹر نہیں ہیں بلکہ میرے لیے بھگوان ہیں۔

رکن قانون ساز کونسل(ایم ایل سی)متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق ریاستی وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی نے الزام عائد کیا کہ ایسا یہ سارا معاملہ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی جانب سے کروایاگیا ہے۔اور ان کے خلاف جھوٹے کیس درج کروائے جارہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تانڈور حلقہ اسمبلی میں عوام کو ہراساں کیا جارہا ہے،انہیں دھمکایا جارہا ہے اور ان کے خلاف جھوٹے کیس درج کیے جارہے ہیں۔ایم ایل سی مہیندرریڈی نے کہا کہ رکن اسمبلی اور ان کے حامی کانگریس سے ٹی آرایس میں شامل ہوئے ہیں اور وہ موجودہ ٹی آر ایس قائدین اور سرپنچوں کو ہراساں کیا جارہا ہے انہیں بنا اطلاع عہدوں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔

ایم ایل سی مہیندرریڈی نے کہا کہ مندر کی جاترا تقریب میں ان کی اہانت کی گئی اور جہاں وہ بیٹھے ہوئے تھے ان کے سامنے رؤڈی شیٹرس کو لاکر بٹھایا گیا۔

سارے تنازعہ کا اصل منظر!!

ایم ایل سی مہیندرریڈی نے یہ سنسنی خیز الزام عائد کیا کہ ایم ایل اے تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کے ساتھ ہمیشہ دو رؤڈی شیٹرس رہتے ہیں۔ساتھ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تانڈور میں بڑے پیمانے پر ریت کی غیرقانونی منتقلی کا کاروبار چل رہا ہے۔اور تانڈور کی ندیوں سے ریت پڑوسی ریاست کرناٹک کو منتقل کی جارہی ہے۔

دوسری جانب ایم ایل سی مہیندرریڈی کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ان کے خلاف ڈیوٹی پر موجود عہدیدار کے ساتھ غلط برتاؤ،عوام کو اکساتے ہوئے امن و امان کو مکدر کیے جانے اور اوردھمکیاں دینے کے الزامات پر مشتمل 353، 504 اور 506 کی دفعات کے تحت تانڈور پولیس اسٹیشن میں کیس درج رجسٹر کرلیا گیا ہے۔اطلاع ہے کہ اس سارے معاملہ پر پارٹی ہائی کمان انتہائی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے رہی ہے اور تمام معاملہ سے نمٹنے، پارٹی کا وقار قائم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں!!

دوسری جانب  یالال منڈل میں تین دن قبل رمضان گفٹس کی تقسیم کے دؤران سب انسپکٹر پولیس یالال اروند کے خلاف غلط برتاؤ کے الزامات کے تحت آج یالال پولیس اسٹیشن میں بھی ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی سب انسپکٹر پولیس یالال اروند کی شکایت پر یالال پولیس اسٹیشن میں آئی پی سی کی دفعات 353،504 اور 506 کے تحت ایک اور کیس درج کیا گیا ہے۔