ٹی آرایس ایم ایل سی مہیندر ریڈی کی سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور سے فون پر گالی گلوچ!سرکل انسپکٹر کی شکایت پر کیس درج،پولیس اسوسی ایشن کی مذمت

ایم ایل سی مہیندرریڈی کی سرکل انسپکٹر پولیس تانڈورسے فون پر گالی گلوچ!!
سرکل انسپکٹر کی شکایت پر کیس درج، تلنگانہ پولیس اسوسی ایشن کی مذمت
فون کال ریکارڈ سوشل میڈیا پر وائرل،میڈیا چینلوں پر بھی نشر
ایم ایل اے تانڈور کے حامیوں کا پولیس اسٹیشن پر شدید احتجاج

وقارآباد/تانڈور: 27۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام )

تانڈور میں ٹی آر ایس پارٹی کے دو گروپس کے درمیان اختلافات شدید ہوتے جارہے ہیں۔رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کے درمیان موجود اختلافات وقفہ وقفہ سے تانڈور کے سیاسی ماحول کو گرمارہے ہیں۔کبھی پروٹوکال کے مسئلہ پر تو کبھی کسی اور مسئلہ پر تنازعہ اب عام بات بن کر رہ گیا۔

دونوں گروپس اپنی پرانی روش پر قائم ہیں اور یہ اختلافات مزید کھل کر سامنے آرہے ہیں۔کوئی بھی تقریب ہو دونوں گروپس اپنی اپنی طرف سے الگ الگ منعقد کرنے میں مصروف ہیں۔

کل ہی یالال اور بشیرآباد منڈلات میں حکومت مسلمانوں میں رمضان کٹس تقسیم کرنے کی تقریب میں بھی رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی موجودگی میں منڈل صدر کی تبدیلی کے مسئلہ پر رکن اسمبلی اور رکن قانون ساز کونسل کے حمایتی گروپس میں جم کر بحث وتکرار اور دھکم پیل ہوئی تھی۔

اسی دؤران آج رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی اور سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور اربن راجندر ریڈی کے درمیان ہوئی فون پر بات چیت والا آڈیو جسے ویڈیو میں تبدیل کردیا گیا ہے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا ہے۔اور یہ آڈیو علاقائی اور قومی میڈیا چینلوں پر بھی نشر کیا جارہا ہے۔اور یہ معاملہ اب ریاستی سطح پر سنسنی خیز بن گیا ہے۔

” ایم ایل سی اور سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور کے درمیان فون پر ہوئی بات چیت اس ویڈیو میں” 

رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق ریاستی وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی تانڈور میں دو دن قبل منعقدہ بھدریشورمندر کی جاترا تقاریب میں پروٹوکال کی خلاف ورزی پر برہم ہیں۔

وائرل شدہ اس آڈیو اور ویڈیو میں کا حوالہ دیتے ہوئے سرکل انسپکٹر پولیس راجندرریڈی تانڈور سے کہہ رہے ہیں کہ جاترا کے موقع پراس دؤران ایم ایل اے اور ان کے ساتھ موجود رؤڈی شیٹرس کے لیے لال کارپیٹ Red Carpet کیوں بچھائی جارہی تھی؟اس فون کال ریکارڈ میں ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کی جانب سےسرکل انسپکٹر پولیس تانڈور اربن راجندر ریڈی کے ساتھ فحش کلامی اور دھمکیاں بھی شامل ہیں!! 

اس معاملہ میں سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور اربن راجندر ریڈی کی جانب سے ٹی آر ایس ایم ایل سی و سابق وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی کے خلاف تانڈور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانے کے بعد ایک کیس درج رجسٹر کرلیا گیا ہے۔

اسی دؤران آج رات دیر گئے صدر ٹاؤن ٹی آر ایس ایم اےنعیم افو،ٹی آرایس پارٹی قائدین راجوگوڑ، پٹلولانرسملو،صدر زرعی مارکیٹ کمیٹی وٹھل نائیک،سابق رکن بلدیہ محمدعرفان،صدراردو گھروشادی خانہ عبدالرزاق،صدربھدریشورمندر کمیٹی بنٹارام سدھاکر،گوپال ایڈوکیٹ،سرینواس چاری،اکبر بابا،سنتوش گوڑ،عبدالصمد کے علاوہ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی گروپ کے پارٹی قائدین اور ان کے حامی نوجوانوں کی کثیر تعداد نے تانڈور پولیس اسٹیشن پر دھرنا منظم کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹاؤن ٹی آر ایس ایم اےنعیم افو اور ٹی آرایس پارٹی قائدراجو گوڑ نے رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی وسابق ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کی جانب سے سرکل انسپکٹر پولیس سےفون پر کی گئی بات چیت میں جاترا کے دؤران ایم ایل اے کے ساتھ موجود”رؤڈی شیٹرس”کے لیے لال کارپیٹ بچھائی گئی کے اس ریمارک کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ایم ایل سی مہیندر ریڈی یہ واضح کریں کہ جاترا تقاریب کے موقع پر ایم ایل اے کے ساتھ کون رؤڈی شیٹر موجود تھے؟ ان کی نشاندہی کی جائے۔

ان ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے ایم ایل سی مہیندرریڈی کےخلاف پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس موقع پر مہیندر ریڈی کےخلاف نعرے لگائےگئے۔اندرا چوک پر آویزاں مہیندرریڈی کے فلیکسی کو توڑدیا گیا اور ان کے ایک حامی کے ساتھ بحث و تکرار کی گئی تاہم پولیس نے حالات پر قابو پالیا۔اس ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کومشکلات پیش آرہی تھیں۔بعدازاں رات 30-11 بجے یہ احتجاج ختم کردیا گیا۔

”  تانڈور پولیس اسٹیشن پر آج رات کیے گئے احتجاج اور ٹی آر ایس قائدین کے بیانات اس ویڈیو میں "

رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی وسابق ریاستی وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کی جانب سے سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور راجندر ریڈی کے ساتھ فون پر قابل اعتراض باتوں اور دھمکی کے خلاف” تلنگانہ اسٹیٹ پولیس آفیسرس اسوسی ایشن” کی جانب سے بھی ایک شدید مذمتی بیان جاری کیا گیا ہے۔

جس میں ایم ایل سی مہیندر ریڈی سے پوچھا گیا ہے کہ وہ برسر اقتدار جماعت سے تعلق رکھتے ہوئے پولیس عہدیدار کے ساتھ اس طرح کی اہانت آمیز گفتگو کے ذریعہ عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیا پولیس کی کوئی اپنی عزت نفس نہیں ہوتی؟ کیا ہمیں عوام کی جانب سے ادا کی جانے والی ٹیکس کی رقم سے تنخواہیں دی جاتی ہیں یا آپ کے گھر سے؟ اس مذمتی بیان میں جو کہ صدر تلنگانہ اسٹیٹ پولیس آفیسرس اسوسی ایشن مسٹر وائی گوپی ریڈی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے میں ایم ایل سی مہیندرریڈی سے یہ سوال بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ کے پولیس کے بغیر باہر اپنے قدم نکال سکتے ہیں؟عوام میں گھوم سکتے ہیں؟
اس مذمتی بیان میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد پولیس کی بہترین کارکردگی اور پورے ملک میں ایک مثال سے آپ واقف نہیں ہیں؟ آپ کے اقتدار اور اور سیاسی طاقت کی عزت کرنا ہماری نااہلی یا کمزوری نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے دستوری فرائض کا ایک حصہ ہیں۔

اس بیان میں پوچھا گیا ہے کہ ایک ملازم پولیس کے ساتھ ایک عام انسان کے طور پر بھی عزت نہ دینا آپ کے اس برتاؤ کو کیا نام دیا جائے؟

تلنگانہ اسٹیٹ پولیس آفیسرس اسوسی ایشن کی جانب سے حکومت اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی وسابق ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کے خلاف کارروائی کی جائے۔اور وہ سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور راجندر ریڈی سے غیر مشروط معافی مانگیں۔ورنہ مستقبل میں ایسے ہی ناقابل برداشت واقعات پیش آنے کا خدشہ ہے۔اور اگر ایسے واقعات مستقبل میں پیش آنے لگیں تو کوئی بھی ملازم پولیس اپنی خدمات انجام نہیں دے سکتا۔