ایم ایل سی مہیندرریڈی مایوسی کا شکار،تمام الزامات مسترد
کے ٹی آر سے ملاقات اور شکایت،جانچ کے بعد آڈیو کے حقائق باہر آئیں گے
ایم ایل اے تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی پریس کانفرنس
مہیندرریڈی کے خلاف یالال پولیس اسٹیشن میں ایک اور کیس درج
وقارآباد/تانڈور:28۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام)
ٹی آر ایس کے ایم ایل سی،متحدہ ضلع رنگاریڈی(وقارآباد،رنگاریڈی،میڑچل) و سابق ریاستی وزیرٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی اورسرکل انسپکٹر پولیس تانڈور (ٹاؤن) راجندرریڈی کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو،فون پرسرکل انسپکٹر کو پروٹوکال کے مسئلہ پر ایم ایل سی کی جانب سے فحش الفاظ کا استعمال،گالی گلوچ اور دھمکیوں پرمشتمل آڈیوکے سوشل میڈیا اور میڈیا پر وائرل ہوجانے کے بعد ایم ایل سی مہندرریڈی نے آج پریس کانفرنس میں تردید کی ہے کہ وائرل شدہ آڈیو میں موجود آواز اُن کی نہیں ہے لیکن یہ سچ ہے کہ انہوں نے سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور راجندرریڈی سے پروٹوکال کے مسئلہ پر فون پر بات کی تھی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس معاملہ کے پیچھے ایم ایل اے تانڈور پائلٹ روہت ریڈی ہیں!!۔
یاد رہے کہ کل ہی ایم ایل سی مہیندرریڈی کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈیوٹی پر موجود عہدیدار کے ساتھ غلط برتاؤ،عوام کو اکساتے ہوئے امن و امان کو مکدر کیے جانے اور اوردھمکیاں دینے کے الزامات پر مشتمل 353، 504 اور 506 کی دفعات کے تحت تانڈور پولیس اسٹیشن میں کیس درج رجسٹر کرلیا گیا تھا۔
وہیں آج حلقہ اسمبلی تانڈور کے یالال منڈل میں تین دن قبل رمضان گفٹس کی تقسیم کے دؤران سب انسپکٹر پولیس یالال اروند کے خلاف غلط برتاؤ کے الزامات کے تحت یالال پولیس اسٹیشن میں بھی ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی پر سب انسپکٹر پولیس یالال اروند کی شکایت پر یالال پولیس اسٹیشن میں آئی پی سی کی دفعات 353،504 اور 506 کے تحت ایک اور کیس درج کیا گیا ہے۔ایم ایل اے کے ساتھ روڈی شیٹر والے ایم ایل سی کے ریمارک کے خلاف گزشتہ رات نصف شب تک ایم ایل اے گروپ کے قائدین نے تانڈور پولیس اسٹیشن کے روبرو دھرنا منظم کیا تھا۔اور اس معاملہ میں ایم ایل سی کے خلاف ایک شکایت درج کرواتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔اسی معاملہ میں آج بھی اس گروپ نے احتجاج منظم کیا۔
تانڈورسمیت ریاست تلنگانہ میں یہ معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اورخود ٹی آرایس پارٹی میں شدید ہلچل مچی ہوئی ہے۔
اس سلسلہ میں آج ایم ایل اے تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے کارگزار صدر ٹی آر ایس و ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر سے ملاقات کرتے ہوئے اس معاملہ کی شکایت کی اور سارے واقعہ کی تفصیلات سے واقف کروایا ہے۔اطلاع ہے کہ ایم ایل سی مہندرریڈی بھی کارگزار صدر ٹی آر ایس کے ٹی آر سے ملاقات کرتے ہوئے حقائق سے واقف کروانے والے ہیں۔
رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سرکل انسپکٹر تانڈور سے غلط برتاؤ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اس معاملہ میں پولیس عہدیدار کے ساتھ ہیں اور پولیس عہدیدار بنا کسی خوف کے اپنی خدمات انجام دیں۔
ایم ایل سی مہیندرریڈی کی جانب سے وائرل شدہ آڈیو میں ان کی آواز نہ ہونے کے دعویٰ پر ایم ایل اے تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ محکمہ پولیس کی جانب سے کال ریکارڈ کی جانچ کے بعد تمام حقائق واضح ہوجائیں گے۔ایم ایل اے نے کہا کہ ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔
رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کی جانب سے عائد کیے گئے اس الزام کوکہ یہ سارا معاملہ رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی کی جانب سے کروایاگیا ہے۔اور ان کے خلاف جھوٹے کیس درج کروائے جارہے ہیں کی شدید مذمت کرتے ہوئے رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ انہیں اس قسم کی نچلی سطح کی سیاست کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔کیونکہ تانڈور کے عوام کا اعتماد انہیں حاصل ہے اور عوام نے ہی ووٹ دیکر ان کو منتخب کیا ہے۔جو کچھ ہوا ہے اس کو ریاست کے عوام نے دیکھا اور سنا ہے پارٹی قیادت کو بھی معلوم ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ جاتراکے موقع پر ان کے ساتھ کون رؤڈی شیٹر تھے ایم ایل سی اس کی وضاحت کریں۔رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ 2013ءسے تانڈور میں ٹی آر ایس پارٹی کا جھنڈہ انہوں نے اٹھایا ہے۔رکن اسمبلی نے کہا کہ 2014ءکے انتخابات سے عین قبل ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی تلگودیشم سے ٹی آرایس پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔اس وقت پارٹی نے حلقہ اسمبلی تانڈور سے انہیں ٹکٹ دیا تھا۔میں کانگریس میں صرف 6 ماہ رہا ہوں ٹی آر ایس ہی میری اصل پارٹی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تانڈور میں کون ہنگامہ آرائی کررہے ہیں اور کون مایوسی کا شکار ہیں عوام بخوبی واقف ہیں۔رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے ایم ایل سی مہیندرریڈی کے اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی۔ہارنے والوں کو نہیں۔انہوں نے ریمارک کیا کہ مہیندرریڈی سے میرا کوئی مقابلہ نہیں ہے تو میں کیوں ان پر توجہ دوں؟وہ اپنی بقا کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور اس سے وہ مایوسی کا شکار بھی ہوگئے ہیں۔

