حیدرآباد: سرکاری ملازمتوں پر تقررات ، چند بوگس کوچنگ سنٹرس کی لوٹ مار، کوچنگ سنٹر کا مالک سمیت تین گرفتار

تلنگانہ میں سرکاری ملازمتوں پر تقررات 
چند بوگس کوچنگ سنٹرس کی لوٹ مار،امیدوار اور  پولیس پر حملہ
حیدرآباد میں ایک کوچنگ سنٹر کے ڈائرکٹر سمیت تین گرفتار

حیدرآباد: 20۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے 9 مارچ کو ریاستی اسمبلی کے فلور سے ریاست تلنگانہ کے بیروزگاروں کو سب سے بڑی سوغات دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ریاست کے تمام سرکاری محکمہ جات میں مخلوعہ جملہ 91,142 جائیدادوں پر تقررات کے لیے جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں گے۔ریاست میں خدمات انجام دے رہے 11،103 کنٹراکٹ ملازمین کومستقل کیے جانے کے بعد جو 80,039 جائیدادیں باقی رہ جاتی ہیں ان پرتقررات کے لیے جی اوز/نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ کے اس اعلان کے بعد چند محکمہ جات میں تقررات کے لیے جی اوز/نوٹیفکیشن بھی جاری کیے گئے ہیں اور مزید جاری کیےجانے والے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد بیروزگار نوجوانوں نے مسابقتی امتحانات میں شرکت کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔اس کے لیے وہ فیس ادا کرکے کوچنگ سنٹرس سےبھی رجوع ہورہے ہیں۔اور چند مقامات پر سماجی تنظیمیں اپنی جانب سے ایسے امیدواروں کے لیے مفت کوچنگ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی زیرگشت ہیں کہ چند بوگس کوچنگ سنٹرس کے مفاد پرست عناصر کی جانب سے ان ملازمتوں کےحصول کے خواہشمند بیروزگار لڑکیوں اور لڑکوں سے کوچنگ کے نام پر بڑی رقم وصول کی جارہی ہے!!۔

حیدرآبادکے چکڑپلی پولیس اسٹیشن کےحدود میں موجود ایک کوچنگ سنٹر کے مالک سمیت اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیاہے۔

حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق 16 اپریل کوسہء پہر 3 بجے 100 نمبر پر ایک شکایت موصول ہوئی تو بلوکوٹ سے وابستہ دو پولیس کانسٹیبل جہانگیر اور ستیم جائے مقام پر پہنچے۔حیدرآباد سٹی پولیس کے مطابق گروپ۔2 کی کوچنگ میں داخلہ کے لیے مریال گوڑہ کا ساکن سائی چرن "دومل گوڑہ” علاقہ میں موجود”شِکھرکوچنگ سنٹر” پہنچا اور فیس کی ادائیگی سے قبل سائی چرن نے ایک ” ڈیمو کلاس” میں شرکت کی خواہش ظاہر کی۔

جس پر اس کوچنگ سنٹر کے ایک ڈائرکٹر ڈیلی بابو نے کہا کہ کوئی ڈیمو کلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے وہ فیس ادا کرے اور کوچنگ سنٹر میں داخلہ لے۔جس پر ڈائرکٹر ڈیلی بابو اور ان کے دیگر عملہ نے سائی چرن سے بحث وتکرار کی۔

پولیس کے مطابق اسی دؤران سائی چرن نے جب اپنے موبائل فون سے 100 نمبر ڈائل کرکے پولیس سے شکایت کرنے کی کوشش کی تو اس کا موبائل فون چھین لیا گیا۔اور سائی چرن پر حملہ کیا گیا۔بعدازاں سائی چرن کو”شِکھرکوچنگ سنٹر”کے ڈائرکٹر اور ملازمین کی جانب سے نصف گھنٹے تک ایک کمرہ میں بند کرنے کے بعد چھوڑدیا گیا۔اور سائی چرن کو دھمکی دی گئی کہ اگر اس واقعہ کا اس نے کسی سے ذکر کیا تو اس کو جان سے ماردیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق سائی چرن جب اس کوچنگ سنٹر سے آزاد ہوکر باہر آیا تو اس نے کسی اور کے موبائل فون سے 100 نمبر ڈائل کرکے اس سارے واقعہ کی شکایت کی توبلوکوٹ سے وابستہ دو پولیس کانسٹیبل جہانگیر اور ستیم جائے مقام پر پہنچ گئے۔

جب سائی چرن کے ساتھ اس”شِکھرکوچنگ سنٹر” سے یہ دونوں پولیس کانسٹیبلس رجوع ہوئے اور معاملہ کی تفصیلات دریافت کیں تو کوچنگ کے ڈائرکٹر ڈیلی بابو نے ان دونوں ملازمین سے کہا کہ”معمولی پولیس کانسٹیبلس”کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ کوچنگ سنٹر میں داخل ہوکر ان سے پوچھ تاچھ کریں؟

پولیس کے مطابق کوچنگ سنٹر کے ایک ڈائرکٹر ڈیلی بابو نے ان دونوں پولیس کانسٹیبلس کے ساتھ گالی گلوچ بھی کی اسی دؤران وہاں ویڈیو گرافی کررہے ایک پولیس کانسٹیبل جہانگیر کا ڈیلی بابو اور ان کے دیگر ملازمین نے موبائل فون چھین لیا اور فون کو توڑدیا،ان کو تھپڑ مارے اور حملہ کرتے ہوئے ان کی گردن پر ضربات پہنچاکر زخمی کردیا۔ڈیوٹی کے دؤران زخمی پولیس کانسٹیبل نے ہسپتال پہنچ کر اپنا ابتدائی علاج کروایا اور پولیس اسٹیشن پہنچ کر پولیس عہدیداروں سے سارے معاملہ شکایت کی درج کروائی۔

پولیس کانسٹیبل کی شکایت اور سائی چرن کی جانب سے دئیے گئے بیان کے بعد چکڑپلی پولیس نے”شِکھر کوچنگ سنٹر”کے ڈائرکٹر ڈیلی بابو اور ان کے دو ملازمین کے خلاف ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے تحویل میں لیا اور بعدتحقیقات ڈیلی بابو اور اس کے دونوں ملازمین کو باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا۔

سرکاری ملازمتوں کے حصول کے خواہشمندوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ مستند اور تجربہ کار کوچنگ سنٹرس سے استفادہ کریں اور دھوکہ باز و بوگس کوچنگ سنٹرس سے محتاط رہیں۔