اگر ہمارے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو دہلی پولیس کے خلاف جنگ شروع کریں گے: وشواہندوپریشد کی دھمکی

ہمارے کارکنوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو
دہلی پولیس کے خلاف جنگ،وشواہندو پریشد کی دھمکی
کیا یہ لوگ قانون سے بالاتر ہیں؟ کے ٹی آر کا امت شاہ سے سوال

حیدرآباد: 19۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)

دہلی کے جہانگیرپوری میں 16 اپریل کو ہنومان جینتی کے موقع پر تلواروں،بندوقوں اور لاٹھیوں اور اشتعال انگیز نعروں کے ساتھ نکالی گئی شوبھا یاترا کے دؤران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔جس میں پولیس عہدیداروں کے ساتھ دیگر کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔اس سلسلہ میں دو درجن افراد کو دہلی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔یہاں ایسے الزامات سامنے آئے تھے کہ ان میں زیادہ تعدادمسلمانوں کی ہے!

اس معاملہ میں دہلی پولیس کمشنر راکیش آستھانہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی)کے چند کارکنوں کے خلاف بھی کیس درج کیے گئے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ہنومان جینتی کے دن نکالا گیا جلوس بنا پولیس کی اجازت کے نکالا گیا تھا۔

دوسری جانب جب ایک وشوا ہندو پریشد کے کارکن کوگرفتارکرنے پولیس اس کے مکان پہنچی تواس کے رشتہ داروں نے احتجاج کیاتھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کل پیر کو دھمکی دی ہے کہ اگر جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی کے جلوس کے دوران تشدد کے سلسلہ میں اس کے کارکنوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو وہ دہلی پولیس کے خلاف”جنگ” شروع کرے گی۔

یہ دھمکی اس وقت دی گئی ہے جب پولیس نے کہا کہ اس نے منتظمین کے خلاف اجازت کے بغیر جلوس نکالنے پر ایف آئی آر درج کی ہے اور ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔جس کی شناخت پریم شرما کے نام سے ہوئی ہے جو وی ایچ پی کا مقامی لیڈر ہے۔پولیس کی جانب سے جاری کردہ ترمیم شدہ بیان میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کا نام نہیں لیا گیا ہے!!۔

نارتھ ویسٹ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) اوشا رنگنی نے کہا کہ منتظمین کے خلاف ہفتہ کی شام بغیر اجازت کے علاقے میں جلوس نکالنے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ایک ملزم تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پولیس کی کارروائی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وی ایچ پی کے قومی ترجمان ونود بنسل نے پی ٹی آئی کو بتایا "ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ایک کارکن کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔بڑی غلطی۔”
انہوں نے پولیس کے اس دعوے کو”مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا کہ جلوس منتظمین نے بغیر اجازت کے نکالا تھا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پولیس”اسلامی جہادیوں”کے سامنے جھک گئی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ”اگر اجازت نہیں تھی تو اتنی بڑی تعداد میں پولیس فورس یاترا کے ساتھ کیسے جا رہی تھی؟”

وشواہندو پریشد کی دھمکی پر وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق حکومت تلنگانہ کے۔تارک راماراؤ(کے ٹی آر)نے آج ٹوئٹر پر مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کو ٹیگ کردیا کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں سوال اٹھایا ہے کہ”کیا یہ لوگ ملک کے قانون اور آئی پی سی کے وزیر داخلہ سے بالاتر ہیں؟ AmitShah@ جی؟ کیا آپ دہلی پولیس کے خلاف ایسی اشتعال انگیز بکواس برداشت کریں گے جو آپ کو براہ راست رپورٹ کرتی ہے؟

وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق حکومت تلنگانہ کے۔تارک راماراؤ (کے ٹی آر)نے ایک انگریزی اخبار کا تراشہ ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھاہے کہ
⬆️ بھارت میں بے روزگاری 45 سال کی بلند ترین سطح پر
⬆️ افراط زر 30 سال کی بلند ترین سطح پر
⬆️ ایندھن کی قیمتیں بلندترین سطح پر
⬆️ ایل پی جی سیلنڈر کی قیمت دنیا میں سب سے زیادہ
⬇️ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ صارفین کا اعتماد سب سے کم ہواہے۔
ریاستی وزیر نے اپنے اسی ٹوئٹ میں یہ استفسار بھی کیا ہے کہ”کیا ہمیں اسے این ڈی اے حکومت کہنا چاہئے یا این پی اے حکومت؟ساتھ ہی کے ٹی آر نے اپنے اس ٹوئٹ میں چٹکی لیتے ہوئے”بھکتوں کے لیے این پی اے:” کی تشریح کرتے ہوئےلکھا ہے کہ”غیر فعال،مقروض اثاثہ”۔ 

16 اپریل کو دہلی کے جہانگیر پوری میں نکالی گئی شوبھایاترا کے موقع کا ایک ویڈیو "انڈیا ٹوڈے” نے پیش کیا ہے کہ اس جلوس میں زیادہ جلوسیوں کے ہاتھوں میں چھوٹے بندوق،تلواریں اور پستول اٹھائے ہوئے تھے اور انہوں نے فائرنگ بھی کی۔اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے نامور صحافی رعنا ایوب RanaAyyub@ نے لکھا ہے کہ”ہنومان جینتی کے موقع پر مذہب کے پرامن پیروکار پستول،بندوقیں اور تلواریں کیوں اٹھائے ہوئے ہیں؟یہ پہلے سے منصوبہ بند ہے اوراس ملک کوفرقہ وارانہ دیگ میں تبدیل کرنے کے سیاسی بیانیے کے مطابق ہے۔