کھرگون میں شوبھا یاترا تشدد: دونوں ہاتھوں سے محروم وسیم شیخ پر پتھراؤ کا الزام!

اگر نہ پورے تقاضے ہوں عدل کے کاظمؔ
تو کرسیوں سے بھی منصب مذاق کرتے ہیں

کھرگون میں رام نومی شوبھا یاتراکے دؤران تشدد
دونوں ہاتھوں سے محروم وسیم شیخ پر پتھراؤ کا الزام
دُکان توڑے جانے کے اپنے ہی بیان سے منحرف!!

بھوپال: 18۔اپریل
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

مدھیہ پردیش کے اضلاع کھرگون اور بڑوانی میں اتوار 10 اپریل کو رام نومی کے موقع پر شوبھایاترا کے دؤران پتھراؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔یہاں بھی پولیس پر الزام یہ ہے کہ ان گرفتار شدگان میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی ہے!!

بعدازاں دوسرے ہی دن 11 اپریل کوحکومت کی ہدایت پر مقامی انتظامیہ نے کھرگون میں تالاب چوک مسجد کے قریب 50 سے زائد دکانات اور مکانات کو بلڈوزرس کی مدد سے زمین دوز کرکے راحت کی سانس لی تھی کہ یہ مکانات غیر قانونی اور سرکاری اراضی پرتعمیر کیے گئے تھے۔یاد رہے کہ انہی مکانات اور دُکانات کے مکینوں پر الزام تھا کہ شوبھا یاترا پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔

زمین دوز کیے گئے ان مکانات میں سے ایک مکان حسینہ فخرو کا بھی تھا جنہیں خود حکومت نے مکان تعمیرکرنے کی غرض سے”پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم کےتحت ڈھائی لاکھ روپئے کی رقم دی تھی اور اس مزدور پیشہ خاندان نے گھر بنانے کے لیے پائی پائی کی شکل میں ایک لاکھ روپئے جمع کیے تھے۔بلڈوزروں سے رؤندے گئے اس گھر کی تعمیر 6 ماہ قبل مکمل ہوئی تھی۔

مدھیہ پردیش کے بڑوانی سے 15 اپریل کو یہ اطلاع میڈیا اور سوشل میڈیا پربحث کا موضوع بن گئی تھی کہ شہباز،رؤف اور فخرو کےناموں کو بڑوانی پولیس نے 10 اپریل کو رام نومی کی شوبھا یاترا کے دؤران جلوس پر پتھراؤ،فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ملوث اور گاڑی کو آگ لگانے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر میں درج کیا ہے۔جبکہ ان تینوں نوجوانوں کو اسی پولیس اسٹیشن سے 5 مارچ کو ان پر اپنے پڑوسی کے اقدام قتل کا کیس درج کرکے جیل بھیجا گیا تھا۔!!

اب اسی مدھیہ پردیش کے کھرگون پولیس کا ایک اور کارنامہ منظرعام پر آیا ہے کہ وہ کس قدر ذمہ داری اور غیر جانبداری کے ساتھ شوبھایاترا کے تشدد میں ملوث شرپسندوں کےخلاف چن چن کر کارروائی کرنے میں مصروف ہے؟

ٹوئٹر پر”نیوز کلک”کے صحافی”کاشف کاکوی KashifKakvi@”نے”وسیم شیخ” نامی ایک شخص کی تصویر جو کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہیں کوٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”کھرگون میں پیش آئے تشدد کے دؤران پتھراؤ کے الزامات کےتحت وسیم شیخ کو بھی ماخوذ کیا گیا!!

وسیم شیخ 2005 میں برقی شاک کے باعث کہنیوں کے پاس سے اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہوگئے تھے۔اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے 11 اپریل کو منہدم کی گئیں دُکانات میں سے ایک چھوٹی دکان وسیم شیخ کی بھی تھی جس میں وہ چھوٹا سا کاروبار کرتے ہوئے اپنے پانچ رکنی خاندان کی کفالت کیا کرتے تھے۔اوپر موجود وسیم شیخ کی تصویر کے پس منظر میں ملبہ دیکھا جاسکتا ہے۔اپنی چھوٹی سی دکان کے انہدام کے بعد انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ مقامی انتظامیہ نے ان کی دکان بھی منہدم کردی ہے۔

جبکہ آج رات ہی صحافی کاشف کاکوی نے ضلع کلکٹر کھرگون محترمہ انوگروہا پی کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ"جیسا کہ وسیم شیخ کی کہانی نے سیاسی گلیاروں میں دھوم مچادی،CollecterK@ نے ایک ویڈیو جاری کی۔جس میں وسیم اپنے پچھلے بیان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کہ "میری گمتی (دکان) کونہیں گرایا گیا۔”ضلعی حکام نے افواہیں پھیلانے پر کارروائی کا بھی انتباہ دیا”۔

اس ویڈیو میں خود ضلع کلکٹر محترمہ بھی نظر آرہی ہیں جو کہہ رہی ہیں کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے جو کارروائی کی گئی تھی وہ قانون کے تحت تھی اور جیسا کہ انہوں نے(وسیم شیخ)بتایا کہ ان کی گمتی(دکان) کو نہیں گرایا گیا ہے اور اس میں کوئی سامان بھی موجود نہیں تھا۔اس ویڈیو میں ضلع کلکٹر کھرگون محترمہ انوگروہا پی،کہہ رہی ہیں کہ ہماری یہ درخواست ہے کہ جو بھی لوگ یہ افواہ پھیلارہے ہیں اور عوام کے درمیان نفاق پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ایسا نہ کریں۔اور ایساکرنے والوں کے خلاف انتظامیہ سخت کارروائی کرسکتا ہے۔

(وسیم شیخ کی جانب سے انہدامی کارروائی کے بعد جائے مقام پر میڈیا کو دئیے گئے ان کے بیان کو نیچے والے ویڈیو میں اور کل رات ضلع کلکٹر کی موجودگی میں دئیے گئے بیان کو اوپر والے ویڈیو میں سناجاسکتا ہے)  

دوسری جانب "انڈیا ٹوڈے” کی جانب سے ضلع کلکٹر کھرگون کے اس ویڈیو کے بعد ایک ٹوئٹ کیا گیا ہے کہ”انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے،اس شخص نے کہا”انہوں نے میرا کھوکھا گرا دیا ہے۔جس سے میں چھوٹا کاروبار کرتا تھا۔میں موم بتی بیچتا تھا اور اپنے پانچ افراد کے خاندان کا گزارہ کرتا تھا”۔

اس سلسلہ میں صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے جرنلسٹ کاشف کاکوی کے اسی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”بی جے پی کے ہندوتوا نظریے میں انسانیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔یہ ریاستی حکومت کے قانون کے بازو ہیں جو کاٹ دیے گئے ہیں،یہ غریب لوگوں کو مزید غریب اور بے گھر کرنے کے بعد خود کوطاقتورمحسوس کرتے ہیں۔انہیں مسلم  کمیونٹی کو ماورائے عدالت اجتماعی سزائیں دینے کا جنون ہے”۔

ضلع کلکٹر کھرگون کی جانب سے جاری کیے گئے وسیم شیخ اور ان کے مشترکہ ویڈیو پر سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وسیم شیخ دباؤ میں نظر آرہے ہیں؟۔جبکہ ان کی دُکان کو منہدم کیے جانے والی جانے والی نیوز اور ان کے خود کے بیان کے ویڈیوز کئی میڈیا چینلوں اور ویب سائٹس نے دکھایا ہے اور لکھا بھی ہے۔اور یہ ویڈیو سوشل پر زیرگشت بھی ہیں!