چار کلومیٹر تک اپنی بیمار بیوی کو بنڈی پر لادکر ہسپتال پہنچا ضعیف شخص، ڈاکٹرز نے علاج سے انکار کیا،خاتون کی موت، اتر پردیش میں افسوسناک واقعہ

موت نے بھی وہ کسی نے کیا ہو شاید!
زندگی تُونے جو برتاؤ کیا ہے مجھ سے

چار کلومیٹر تک اپنی بیمار بیوی کو بنڈی پر لادکر ہسپتال پہنچا ایک ضعیف شخص
ڈاکٹرز نے علاج سے انکار کیا،خاتون کی موت ،اتر پردیش میں افسوسناک واقعہ
حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا،تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

لکھنئو/نئی دہلی:07۔اپریل
(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز )

سوائے چند ایک ریاستوں کو چھوڑکرمختلف ریاستوں کے سرکاری ہسپتالوں کی بدتر حالت اور ساتھ ہی شہروں اور ٹاؤنس کو چھوڑکر دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کوسخت بیمار پڑجانے پرعلاج کے لیے ہیلتھ سنٹرس کی ابتر حالت اور پھر بیماروں کو لے کر شہر اور ٹاؤنس کے ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے کن بدتر حالات سے گزرنا پڑتا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے!۔

کورونا وبا کی پہلی اور بالخصوص دوسری تباہ کن لہر اور لاکھوں اموات کے دؤران سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور آکسیجن کی قلت کے واقعات سب کے سامنے ہیں۔ہسپتالوں،شمشانوں اورقبرستانوں کے باہر لگیں قطاریں اور گنگا کی ریت اور پانی میں تیرتی لاشوں کی کہانیاں اور تصاویر تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوچکی ہیں۔بھلے ہی حکومتوں نے اسے چھپانے کی لاکھ کوششیں کرلیں۔

حکومتیں لاکھ دعوے کرلیں لیکن زمینی حقائق یہی ہیں کہ اس ملک کا غریب طبقہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی علاج کروانے سے قاصر ہے۔ پہلے تو انہیں اپنے بیماروں کو ہسپتالوں تک منتقل کرنے کے ذرائع بھی دستیاب نہیں ہیں۔زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں کی حالت ایسی ہے کہ زندوں کا علاج تو دور مرنے والوں کی نعشیں لے جانے کی سہولتیں تک دستیاب نہیں ہیں!!

اگست 2016 کا ایک واقعہ قارئین کو یاد ہوگا کہ کیسے ایک اڑیسہ کے قبائیلی کسان دانا ماجھی کو کالاہندی ضلع کے بھوانی پٹنہ قصبے میں واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے 10 کلومیٹر تک اپنی بیوی کی لاش کو اپنی پیٹھ پر لاد کر لے جانے پر مجبور کیا گیا تھا۔کیونکہ ہسپتال کا کوئی عملہ اس کی مدد کے لیے نہیں آیا تھا۔

جولائی 2021 میں اسی اڑیسہ کا ایک اور ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں اڑیسہ کے کندھمال کے ایک قبائلی کسان کو اپنی بیوی کی لاش کو بازوؤں میں اٹھاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔کسان بالکرشن کنہار کی 40 سالہ بیوی روتومتی جسے ایک ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا کہ دؤران علاج ان کی موت واقع ہوگئی۔شوہر کنہار نے اپنی بیوی کی لاش نیچے لے جانے کے لیے مدد مانگی لیکن ہسپتال کے کسی بھی ملازم نے اس کی مدد نہیں کی مجبوراً شوہر کنہار اپنی بیوی کی نعش کو ہسپتال کی دوسری منزل سے خود تنہا اٹھاکر نیچے گاڑی تک لایا تھا۔

گزشتہ ماہ 23 مارچ کو بھی چھتیس گڑھ کی ایک ایسی روح فرسا ویڈیو اور تصویر وائرل ہوئے تھے کہ ایشور داس شدید بخار سے فوت ہونے والی اپنی بیٹی کی نعش کو مکان لے جانے کے لیے اپنے کاندھوں پر اٹھاکر 10 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طئے کیا تھا۔کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے نعش کی منتقلی کے لیے ایمبولنس دینے سے انکار کردیا تھا۔

اڑیسہ کے ان دونوں افسوسناک واقعات کی تصاویر۔

اب دو دن سے ایک ایسی تصویر سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پر وائرل ہوئی ہے جسے دیکھ کرغربت پر ترس اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار اور حکومتوں کے نکمے پن پر سوشل میڈیا صارفین برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔

اترپردیش جسے گودی میڈیا نے تمام شعبہ جات میں بہترین کارکردگی پر ملک کی ترقی یافتہ اول ریاست کا درجہ دیا ہے کی اس تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ضعیف شخص اپنی بیمار بیوی کو بیل بنڈی میں لاد کر اس بنڈی کو خود کھینچ رہا ہے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ 28 مارچ کا ہے۔بلیا ضلع کے چلکہار میں شکلا پرجاپتی 60 سالہ اپنی بیمار بیوی جو کہ شوگر کی مریضہ تھی اور چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی تھی کو بیل گاڑی میں لادکر خود کھینچتے ہوئے چار کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے ہیلتھ سنٹر لے گیا۔تاہم اس شخص کے مطابق ڈاکٹروں نے علاج کرنے سے انکار کر دیا اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو ضلع ہسپتال لے جائے۔ 

جس کے بعد وہ شخص اپنی بیمار بیوی کو آٹورکشاکے ذریعہ 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ضلع ہسپتال لے گیا۔اس دؤران پورے پانچ گھنٹے ضائع ہوگئے اور وقت پر طبی امداد نہ ملنے سے پرجاپتی کی بیوی کی موت واقع ہوگئی۔

اس واقعہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور چاروں جانب سےتنقید کیے جانے کے بعد چیف میڈیکل آفیسر نیرج پانڈے نے وضاحت کی کہ اس ضعیف شخص کو معلوم نہیں تھا کہ ہنگامی حالات میں ایمبولنس طلب کرنے کے لیے فون کیا جاتا ہے۔اس لیے وہ اپنی بیوی کو بنڈی میں لادکر ہیلتھ سنٹر پہنچا جہاں سے اسے ضلع ہسپتال لے جانے کی صلاح دی گئی! چیف میڈیکل آفیسر نیرج پانڈے نے وضاحت کی کہ ضلع ہسپتال میں دؤران علاج اسی رات اس شخص کی بیوی کی موت واقع ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر اس پورے افسوسناک واقعہ پرمشمل تصویر وائرل ہونے اور سوشل میڈیا صارفین کی تنقیدوں کے بعد حکومت اترپردیش نے اس سارے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس واقعہ کے منظرعام پر آنے کے بعد ہر شعبہ میں ترقی کے دعوے کرنے والوں کی قلعی پھر ایک مرتبہ کھل گئی ہے!!