پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 80 پیسے کے اضافہ کا قہر جاری ،15 دنوں کے دؤران چودھویں مرتبہ جملہ دس روپئے کا اضافہ

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 80 پیسے کے اضافہ کا قہر جاری
16 دنوں کے دؤران چودھویں مرتبہ  فی لیٹر جملہ دس روپئے کا اضافہ
اقساط میں عوامی جیب ہورہی ہےہلکی،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ جاری

نئی دہلی:06۔اپریل(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزآنہ فی لیٹر 80 پیسے کے اضافہ کا قہر بدستور جاری ہے۔آج بروز چہارشنبہ 6 اپریل کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

گزشتہ 16 دنوں کے دؤران درمیان میں دو دنوں کا وقفہ دیتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں یہ چودھویں مرتبہ اضافہ کیا گیاہے۔اس طرح ان 14 دنوں کے دؤران ملک میں روز 80 پیسوں کا اضافہ کرتے ہوئے اقساط میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جملہ 10 روپئے کا اضافہ عمل میں لایا گیا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کا سلسلہ ساڑھے چار ماہ کا وقفہ 22 مارچ کوختم ہونے کے بعد ان کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو کہ جاری ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔جس سے گاڑی مالکین کی جیب ہلکی ہوگی اور تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی روز اضافہ عام آدمی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کا موجب بنے گا!!

آج اضافہ شدہ قیمتوں کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت105.41 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 96.67 فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔ملک کی معاشی راجدھانی مانی جانے والی ممبئی میں پٹرول 120.51 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 104.77 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔جبکہ حیدرآباد میں آج اضافہ شدہ قیمتوں کے ساتھ پٹرول کی قیمت فی لیٹر 119.49 روپئے اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 105.49 روپئے ہوگئی ہے۔

ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کو لے کر مرکزی حکومت پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید جاری ہے۔اس سلسلہ میں کل منگل کو عام آدمی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "80-20” بی جے پی کا مطلب ہے کہ وہ مسلسل 20 دنوں تک پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں 80 پیسے کا اضافہ کرے گی۔

یاد رہے کہ 80-20 کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے انتخابات کے دؤران جلسہ سے اپنے خطاب میں اس الیکشن کو 80 اور 20 فیصد آبادی سے جوڑ دیا تھا!

عام آدمی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ نے کہا کہ”اترپردیش میں پورے الیکشن کے دوران بی جے پی یہ کہتی رہی کہ ہم 80-20 پر الیکشن لڑرہے ہیں۔وہ یہ کہنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہم 20 دنوں تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 80-80 پیسے مسلسل اضافہ کرتے رہیں گے۔وہ یہی کرتے ہیں،میٹھا زہر دیتے ہیں،‘‘

دوسری جانب مرکزی وزیرپٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ہندوستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اپریل 2021 سے مارچ 2022 کے درمیان صرف 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس کے باوجود کہ روس-یوکرین جنگ نے پوری دنیا میں خام تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔کچھ میں ایندھن کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم واحد ملک نہیں ہیں جو جنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔مرکزی وزیر پٹرولیم نے مزید کہا کہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور سری لنکا جیسے ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔