مہاراشٹرا ،گجرات اور مدھیہ پردیش کے کئی مقامات پر "شہابی بارش” ، دلکش مناظر کےویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

مہاراشٹرا،گجرات اور مدھیہ پردیش کے کئی مقامات پر شہابی بارش
دلکش مناظر کےویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

ناگپور/بھوپال/احمدآباد : 03۔اپریل
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

گزشتہ رات مہاراشٹرا،گجرات اور مدھیہ پردیش کے آسمان سے”شہابی بارش” جسے انگریزی میں Meteor Shower اور ساتھ ہی Alka بھی کہا جاتا ہے کے دلکش اور خوبصورت ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔

اور ان قدرتی مناظر پرمشتمل ویڈیوز کو ٹوئٹر پرخبررساں ادارہ اے این آئی اور مشہور صحافی/پاپارازی/فوٹو گرافر”وائرل بھیانی viralbhayani@ نے انسٹاگرام پر کل رات دیر گئےپوسٹ کیا ہے۔

یہ دونوں ویڈیوز بشمول ناگپور الگ الگ مقامات سے لیے گئے ہیں۔جو کہ انتہائی دلنشین مناظر پیش کررہے ہیں۔لاکھوں ٹوئٹر اور انسٹاگرام صارفین نے ان ویڈیوز دیکھتے ہوئے قدرت کے اس حسین منظر پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں اور ان ویڈیوز میں ویڈیو لینے والوں کی بھی حیرت انگیز گفتگو سنی جاسکتی ہے۔

آسمان سے زمین کی جانب آنے والی تیزروشنی پرمشتمل اس شہابی بارش کے دلنشین مناظر کوکسی کو اپنے موبائل فونس میں محفوظ کرلیے  پھر یہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کی رؤنق بن گئے ہیں۔شہاب ثاقب کی بارش،یا شہابی بارش،شہاب باری،شہابی جھڑی کے متعلق اگر بات کی جائے تو

Independent Urdu ویب سائٹ پر جاریہ سال جنوری میں شائع ایک خبر کے مطابق”شہاب ثاقب کی بارش اس وقت ہوتی ہے جب زمین دُم دار ستاروں اورسیارچوں کی جانب سے اپنے پیچھے چھوڑے گئے ملبے کے بادل کے درمیان سے گزرتی ہے۔شہاب ثاقب دوسری فضا کے ساتھ ٹکرانے پر رات کے وقت روشن ہو کر آسمان پر لمبی لکیریں بنا دیتے ہیں۔”

وہیں دوسری جانب”اردو ویکیپیڈیا”پر دستیاب تفصیلات کے مطابق” شہابیوں کی بارش(Meteor Shower) آسمان پر شہابیوں کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے-شہابیے خلا میں موجود دُمدار ستاروں،چھوٹے سیارچوں کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔جب زمین سورج کے گرد اپنے سفر کے دوران ان کے پاس مثلاً کسی دُمدار ستارے کے راستے سے گزرتی ہے زمین کی کشش کی وجہ سے پتھر اور برف کے ٹکڑے زمین پر گرنے لگتے ہیں اور فضا کی رگڑ سے جل جاتے ہیں۔یہ جلتے اجسام زمین سے نظر آتے ہیں اور شہابیے کہلاتے ہیں۔کئی شہابی برساتیں باقاعدگی سے سال کے مختلف مخصوص مہینوں نظر آتی ہیں۔(بشکریہ:اردو ویکیپیڈیا)۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق کل 2 اپریل کی رات دیر گئے مہاراشٹرا کے ناگپور کے علاوہ کئی مقامات پر شہابیوں کی بارش دیکھی گئی اور دیکھنے والے حیرت زدہ تھے کہ آخر یہ کیا چیز ہے جو رؤشنی کی تیز دھار کی شکل میں آسمان سے زمین کی جانب آرہی ہے؟آسمان سے شہابی بارش کی اطلاعات ریاست مدھیہ پردیش کے اضلاع کھنڈوا،جھبوا اور بروانی کے علاوہ دیگر مقامات سے بھی موصول ہوئی ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ اکثر”شوٹنگ اسٹارز” کہلاتے ہیں۔الکا پتھریلی چیزیں ہوتی ہیں جو زمین کے ماحول میں زبردست رفتار سے داخل ہوتی ہیں۔جیسے ہی زمین اور سورج کے گرد اپنے سالانہ سفر میں خلا میں ایک گرد آلود خطہ سے گزرتی ہیں تو وہ چھوٹی چٹانی چیزیں فضا میں بڑی رفتار سے داخل ہوتی ہیں۔ان کی رفتار 30 تا 60 کلومیٹر فی سیکنڈ کے درمیان ہوتی ہے۔اور روشنی کی لکیروں کی بارش پیدا کرتی ہے جسے میٹیور شاور Meteor Shower کہا جاتا ہے”۔

این ڈی ٹی وی نے اُجین مدھیہ پردیش کی 300 سالہ قدیم "جیواجی آبزرویٹری”کے سپرنٹنڈنٹ مسٹر راجندر گپتا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ” شاید یہ الکاپنڈ (الکا) معلوم ہوتے ہیں۔ان کا اس طرح زمین کی جانب گرنا عام بات ہے۔”

گزشتہ رات ریاست گجرات کے احمد آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی شہابی بارش کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔ان کے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایسی اطلاع بھی آئی ہے کہ مہاراشٹڑا کے چندراپور میں زمین پرگرے ہوئے اس آگ کےایک گولے کو سرکاری عہدیداروں اور پولیس نے سرد کرنے کے بعد اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ خلا میں چھوڑے گئے کسی ملک کے کسی سیٹلائٹ کا ٹوٹا ہوا حصہ بھی ہوسکتا ہے؟یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کیا کسی سیٹلائٹ کا ایک حصہ ملک کی تین ریاستوں مہاراشٹرا،گجرات اور مدھیہ پردیش میں گرسکتا ہے؟جبکہ تلنگانہ کے بھی چند علاقوں سے ایسے ہی واقعات کی اطلاعات زیر گشت ہیں!!