خاتون کنڈاکٹر نے بدتمیزی کرنے والے شرابی مسافر کی بس سے اُتارکر چپل سے پٹائی کی،ورنگل ضلع میں واقعہ

خاتون کنڈاکٹر نے بدتمیزی کرنے والے شرابی مسافر کی
بس سے اُتارکر چپل سے پٹائی کی،ورنگل ضلع میں واقعہ

ورنگل: 23۔مارچ(سحرنیوز ڈاٹ کام)

ریاست کی آرٹی سی بسوں میں بالخصوص شرابی مسافرین کی جانب سے خاتون کنڈاکٹرس کے ساتھ بدتمیزی اورغیر اخلاقی حرکتوں میں اضافہ کے واقعات اکثر منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر خاتون کنڈاکٹرس اپنی ملازمت اور عزت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے واقعات کو نظرانداز کرتے ہوئے خاموشی کے گھونٹ پی لیتی ہیں۔

چند خاتون کنڈاکٹرس کو جہاں شرابی اور غیرسماجی مسافرین کے توہین آمیز برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں کبھی کبھار اپنے ساتھی ملازمین کی ہراسانی سے بھی دوچار ہوتی ہیں۔گزشتہ دنوں وقارآباد ضلع میں باقاعدہ ایک خاتون کنڈاکٹر اپنے ساتھی ڈرائیور کے خلاف جنسی ہراسانی اور توہین آمیز برتاؤ کی شکایت پولیس میں درج کرواچکی ہیں۔

آج ایسے ہی ایک واقعہ میں ایک خاتون کنڈاکٹر نے ورنگل ضلع میں ایک شرابی مسافر کو بس سے اتارکر چپل سے پٹائی کرتے ہوئے اس کو سبق سکھادیا کہ عورت خاموش رہنے کے ساتھ ساتھ سبق سکھانا بھی بہتر جانتی ہے۔

ورنگل ضلع کے وردھنا پٹنم میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق وردھنا پٹنم سے تورور جارہی ایک آرٹی سی بس میں ایک شرابی سوار ہوا۔اور شراب کے نشہ میں دھت خاتون کنڈاکٹر کے ساتھ اہانت آمیز برتاؤ کرنے لگا پھر بھی خاتون کنڈاکٹر نے اس کو نشہ کی حالت میں دیکھ کر خاموش ہی رہیں اور اس سے ٹکٹ لینے کی خواہش کی جس پر وہ اس خاتون کنڈاکٹر سے قہقہے لگاتے ہوئے مذاق کرنے لگا اور عجیب حرکتوں کے ذریعہ پریشان کرنے لگا۔

جس پر اس خاتون کنڈاکٹر کی برداشت کرنے کی حد ختم ہوئی اس نے اس شرابی مسافر کو بس سے اتارا اور اپنی چپل کے ذریعہ اس کی پٹائی کرتے ہوئے اس کو سبق سکھایا۔پولیس کو اطلاع دینے تک تک خاتون بس کنڈاکٹر کی چپلوں کی مار سے نشہ کافور ہوجانے کے بعد وہ شرابی وہاں سے فرار ہوگیا۔

کسی نے اس سارے واقعہ کا ویڈیو اپنے موبائل میں لے لیا اس کے بعد اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

اس واقعہ اور وائرل شدہ ویڈیو کو دیکھنے کے بعد مختلف شعبہ جات میں باعزت طریقہ سے ملازمت کرنے والی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کو ایک پیغام مل گیا ہے کہ خواتین کو چھیڑنے پر انہیں بھی اسی طرح چپلوں کی پٹائی سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔ساتھ ہی ملازمت پیشہ خواتین کو بھی حوصلہ مل گیا کہ ہر معاملہ میں خاموش رہنا ٹھیک نہیں۔کبھی کبھار خواتین کی عزت نہ کرنے والوں کو اسی طر ز سےسبق سکھانا ضروری ہوھاتا ہے!!