آسرا دے کے مِرے اشک نہ چھین
یہی لے دے کے بچا ہے مجھ میں
یوکرین سے پولینڈ کی سرحد کی جانب پیدل سفر
ہاتھوں میں کھلونا اور بیاگ لیے روتا ہوا ایک معصوم بچہ
سوشل میڈیا پر آنکھیں نم کردینے والا ویڈیو وائرل
نئی دہلی: 08۔مارچ (سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
مشہور مفکر ہربرٹ ہوور نے کہا تھا کہ” بوڑھے انسان جنگ مسلط کرتے ہیں،جس کا خمیازہ جانیں دے کر نوجوانوں کو بھگتنا پڑتا ہے”۔
یقیناً جنگوں کی وجہ سے سب سے زیادہ جسمانی اور ذہنی نقصان نوجوانوں کے علاوہ خواتین اور بچوں کا ہوتا ہے۔دشمن فوج کے ناپاک حملوں کے دؤران جہاں خواتین کا جنسی استحصال بھی ہوتا ہے وہیں جنگوں کے باعث ان کے باپ،شوہر یا بھائیوں کی شکل میں موجود ان کی زندگیوں کے تمام سہارے ختم ہوجاتے ہیں۔جبکہ ایک اور شکل میں بچے یتیم اور بے سہارا ہوجاتے ہیں!!
روس کی جانب سے یوکرین پر جنگ مسلط کیے جانے کا آج 13 واں ہے۔اپنی طاقت منوانے کے اس جنون کے باعث یوکرین میں ہزاروں امواتیں ہوئی ہیں اور لاکھوں شہری زخمی ہوگئے۔وہیں عمارتیں اور مکانات زمین بوس ہوئے ہیں۔روس پر یوکرین کے حملہ کے بعد سے ہزاروں شہری یوکرین چھوڑکر پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجور ہیں اور یہ نقل مقامی ہنوز جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کا تخمینہ ہے کہ 1.5 ملین سے زیادہ لوگ یوکرین سے پولینڈ،ہنگری اور سلوواکیہ ہجرت کر چکے ہیں۔
ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک معصوم بچہ کا ایک ایسا ویڈیو وائرل ہوا ہے جسے دیکھ کر ہر حساس اور دردمند دل رکھنے والے انسان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
ٹوئٹر پر Eurovision Croatia@ نے ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”چھوٹا لڑکا روتے ہوئے ہاتھ میں پلاسٹک کا بیاگ لیے اکیلے سرحد پار کرتا ہوا۔ #یوکرین #یوکرینی StopPutinNOW# "۔
https://twitter.com/esccroatia/status/1500977335771836421
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک معصوم بچہ اپنے ایک ہاتھ میں کھلونا اور دوسرے ہاتھ میں بیاگ لیے ہوئے روتا ہوا یوکرین کے پڑوسی ملک کی سرحد کی جانب بڑھ رہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ہفتہ کے دن یوکرین کے میڈیکا شہر سے ایک تنہا بچہ روتے ہوئے پولینڈ کی سرحد کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا۔جس کے ہاتھ میں کھلونا اور بیاگ میں بسکٹ کے پیاکٹ نظر آئے۔
یاد رہے کہ روس کے حملوں کے باعث کئی خاندان یا تو ہلاک ہوگئے ہیں یا پھر اپنی جان بچانے کے لیے ایک دوسرے سے بچھڑکر مختلف ممالک میں داخل ہوگئے ہیں۔
ایسے میں یہ تنہا معصوم بچہ بھی پولینڈ کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ یہ بچہ تنہا ہی پولینڈ کی جانب نکلا ہے یا پھر اس کے ساتھ اس کے والدین بھی ہیں؟ بلک بلک کر روتے ہوئے چلنے والے اس بچہ کے ویڈیو کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تنہا ہی ہے!!۔
اس ویڈیو کو دیکھنے والے روس کی بربریت کی مذمت کررہے ہیں کہ ایک ہنستے کھیلتے اور خوبصورت ملک پر جنگ مسلط کرکے اس نے انسانیت کے خلاف جرم کیا ہے!!
وہیں دوسری جانب یوکرین کے شہر زپوریزیہ Zaporizhia شہر کا ایک لڑکا،جہاں روس نے گزشتہ ہفتہ ایک جوہری برقی پلانٹ پرحملہ کیا تھا، سلوواکیہ میں اپنے رشتہ داروں کو تلاش کرنے نکلا ہے۔اس کے والدین نے فیصلہ کیا کہ وہ یوکرین میں ہی رہیں گے۔اس لڑکے کی ماں نے اپنے بیٹے کو ٹرین کے ذریعہ سلوواکیہ میں موجود اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیج دیا تھا۔اس طرح یہ گیارہ سالہ لڑکا تن تنہا 1000 کلومیٹر کا سفر طئے کرکے سلوواکیہ پہنچا۔
سلوواکیہ کی وزارت داخلہ نے فیس بک پر اس بچہ کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”گزشتہ رات کا سب سے بڑا ہیرو”۔
سلوواکیہ کی وزارت داخلہ کے اس فیس بک پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ”Zaporozhye کا صرف ایک 11 سالہ لڑکا یوکرین سے سرحد پار کرکے سلوواکیہ آیا۔اس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک بیگ اور پاسپورٹ تھا۔ جبکہ اس کی ماں نے سلوواکیہ میں موجود اپنے رشتہ داروں کا فون نمبر اس معصوم کے ہاتھ پر لکھ کر روانہ کیاتھا۔وہ بالکل اکیلا آیا تھا کیونکہ اس کے والدین کو یوکرین میں رہنا تھا۔
رضاکاروں نے خوشی سے اس کی دیکھ بھال کی،اسے سردی سے محفوظ رکھنے کی غرض سے گرمی فراہم کی گئی اور اسے کھانے پینے کی چیزیں فراہم کیں جو انہوں نے اس کے اگلے سفر پر اس کے لیے پیک کر دیں۔اس نے ان سب کو اپنی مسکراہٹ،بے خوفی اور عزم سے متاثر کیا،جو ایک حقیقی ہیرو کہے جانے کے لائق تھا”۔
ہاتھ پر نمبر اور کمر میں کاغذ کے ٹکڑے کی بدولت ہم اس لڑکے کے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئے جو بعد میں اس کو لینے کے لیے آگئے اور یہ معاملہ اچھے طریقہ سے حل کرلیا گیا۔
https://www.facebook.com/policiaslovakia/posts/5378957235467788

