یوکرین کے کھرکیو میں گولہ باری سے ہندوستانی طالب علم کی موت
وزارت امورِ خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی کی تصدیق
نئی دہلی :01۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ کے بعد سے ہندوستان کے زائد از 20 ہزار طلبہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں ان میں سے چند طلبہ کو ہندوستانی حکومت نے یوکرین کے پڑوسی ممالک پولینڈ، ہنگری اور رومانیہ کی سرحدوں کے ذریعہ ملک واپس لالیا ہے اور یہ کارروائی جاری ہے۔
ایسے میں آج وزارت امورِ خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا ہے کہ گہرے دکھ کے ساتھ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ آج صبح یوکرین کے کھرکیو میں گولہ باری میں ایک ہندوستانی طالب علم کی جان چلی گئی ہے۔
مشرقی یوکرین کے شہر خارکیو میں آج منگل کے دن ایک ہندوستانی طالب علم ہلاک ہو گیا ہے۔خارکیو یوکرین کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جس پر روسی افواج کی شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ وہ طالب علم کے اہل خانہ سے رابطہ میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ” گہرے دکھ کے ساتھ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ آج صبح کھرکیو میں گولہ باری میں ایک ہندوستانی طالب علم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ہم خاندان کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یوکرین میں ہلاک ہونے والے اس طالب علم نوین شیکھراپا کا تعلق کرناٹک کے ہاویری سےتھا۔ان کی موت اس وقت ہوئی جب روسی فوجیوں نے ایک سرکاری عمارت کو دھماکے سے اڑا دیا۔وہ کھانا لینے کی غرض سے ہاسٹل کےباہرگئے ہوئے تھے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے مزید کہا کہ خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا روس اور یوکرین کے سفیروں کو طلب کر رہے ہیں تاکہ ہمارے شہریوں کے لیے فوری طور پر محفوظ راستہ دینے کے مطالبہ کا اعادہ کریں جو اب بھی کھرکیف اور دیگر متاثرہ علاقوں کے شہروں میں ہیں۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا ہے کہ”اسی طرح کی کارروائی روس اور یوکرین میں ہمارے سفیر بھی کر رہے ہیں۔اس طالب علم کی موت کی اطلاع یوکرین میں ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے اپنے شہریوں سے فوری طور پر دارالحکومت کیف چھوڑنے کو کہے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
"کیف میں موجود ہندوستانیوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ترجیحی طور پر دستیاب ٹرینوں کے ذریعہ یا دستیاب کسی دوسرے ذرائع کے ذریعہ طلباءسمیت تمام ہندوستانی شہری آج فوری طور پر کیف چھوڑدیں۔

