یوکرین سے 6 مختلف زبانوں میں لائیو رپورٹنگ کرنے والےصحافی کے
ویڈیو کی سوشل میڈیا پر دھوم
نئی دہلی: 24۔فروری
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
اکثر کہا جاتا ہے کہ ایک سے زائد زبانوں سے واقفیت اور ان پر عبور حاصل کرنے سے ہر کسی کو بہت سارے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور یہ زبانیں کہیں نہ کہیں استعمال کرتے ہوئے اپنی مہارت کا لوہا منوایا جاسکتا ہے۔پیشہ صحافت بھی ایک ایسا پیشہ ہے جس میں کئی زبانوں پر عبور رکھنے والے صحافی ہر محاذ پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیتے ہیں۔اس سے جہاں ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے وہیں ترقی کی راہیں خود بخود کھلتی جاتی ہیں!لیکن شرط یہ ہے کہ صحافت جسے مقدس پیشہ کہا گیا ہے اس کے ساتھ ایمانداری،غیر جانبداری اور وفاداری بھی لازمی ہے۔
صحافت سماج اور ملک کو سدھار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے،محبت،آپسی بھائی چارہ کے ذریعہ ملک اور سماج کو مضبوط بھی بناسکتی ہے۔وہیں نفرت انگیز مہم کے ذریعہ بکاؤ اور گودی میڈیا ملک اور سماج کے عوام کے درمیان اپنے جھوٹے پروپگنڈہ کے ذریعہ نفرت کی کھائی اتنی گہری کردیتا ہے کہ اس کو پاٹنے کے لیے آنے والی نسلوں کو زمانے لگ جاتے ہیں!
چند فالتو اور پالتو میڈیا اداروں اور صحافتی اقدار سے عاری چند صحافیوں کی وجہ سے ان دنوں پیشہ صحافت جتنا بدنام اور رسوا ہورہا ہے شاید ہی ماضی میں کبھی ایسا دیکھا یا سنا گیا ہو!
ایسے میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز بالخصوص مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر ایک ایسا ویڈیو وائرل ہوا ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی عش عش کرنے میں مصروف ہے اور ساتھ ہی اس صحافی کی بھرپور ستائش بھی کی جارہی ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں سے تنازعات عروج پر تھے۔بالآخر آج 24 فروری کی صبح روس نے یوکرین پر حملہ کردیا جس کے دؤران یوکرین کے فضائی اڈوں،شہری علاقوں اور دیگر مقامات پر روس کی جانب سے میزائل داغے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے جس سے ساری دنیا اور حکومتیں پریشان ہیں۔
سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ دراصل بین الاقوامی خبررساں ادارہ” اسوسی ایٹیڈ پریس” (اے پی AP#) سے وابستہ صحافی” فلپ کراؤتھیر” Philip Crowther# ” کا ویڈیو ہے۔فلپ کراؤتھیر کے اس ویڈیو کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تین دن قبل یوکرین کے دارالحکومت کئیو Kyiv# (کیف) سے موجودہ حالات و واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے لائیو رپورٹنگ کے دؤران 6 بین الاقوامی نیوز چینلوں کے لیے 6 زبانوں میں اپنی رپورٹ پیش کی۔
اس 59 سیکنڈ کے ویڈیو میں لائیو رپورٹنگ کے دؤران انہیں الگ الگ چینلوں کے لوگوز اور الگ الگ رنگ کے سوٹ پہنے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔فلپ کراؤتھیر نے اس لائیو رپورٹنگ کے دؤران انگریزی،لگزمبرگس،ہسپانوی،پرتگالی،فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں بنا کسی رکاوٹ رپورٹنگ کی ہے۔
اس ویڈیو کو ٹوئٹر پر خود "فلپ کراؤتھیر” Philip Crowther# "نے اپنے مصدقہ ہینڈل سے پوسٹ کیا ہے۔ٹوئٹر پر ان کے اس ویڈیو کو تین دنوں کے دؤران جملہ 22.8 ملین صارفین نے دیکھا ہے۔جبکہ اس ویڈیو کو 49،200 ری ٹوئٹ کیا گیا ہے۔وہیں 1،82،600 صارفین نے اس ویڈیو کو لائیک کیا ہے اور 5،357 ٹوئٹر صارفین نے اس ویڈیو پر مختلف کمنٹس کیے ہیں۔اس کے علاوہ بھی انسٹاگرام اور فیس بک پر اس ویڈیو کو شیئر کیا گیا ہے۔

