کرناٹک حجاب تنازعہ:
ہائی کورٹ میں سماعت کل تک کے لیے ملتوی
اسکارف پہننا اسلامی عقیدہ کا لازمی عمل،ایڈوکیٹ کامت کا استدلال
بنگلورو:14۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کرناٹک ہائی کورٹ نے آج پیر کے دن ریاست میں اسکولوں اور کالجوں میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے تنازعہ پر درخواستوں کی سماعت کو کل 15 فروری،بروزمنگل تک کے لیے ملتوی کردیاہے۔اس معاملہ کی دوبارہ سماعت کل دوپہر ڈھائی بجے ہوگی۔
کرناٹک ہائی کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی،معززجسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور معزز جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین پرمشتمل سہء رکنی بنچ کررہی ہے۔
سماعت کے دؤران سینئر وکیل دیودت کامت نے درخواست گزاروں کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے عدالت میں دلیل دی کہ سر پر اسکارف پہننا اسلامی عقیدہ کا لازمی عمل ہے۔سینئر ایڈوکیٹ دیودت کامت نے دلیل دی کہ کرناٹک حکومت کا حکم ذہن کے مطابق نہیں ہے۔اورحکومتی حکم آرٹیکل 25 کے دانتوں میں ہے اور یہ قانونی طور پر پائیدار نہیں ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب کے معاملے پر سماعت کے دؤران سینئر ایڈوکیٹ دیو دت کامت کا مزید کہنا تھا کہ کالج کمیٹی کا وفد فیصلہ کرے گا کہ حجاب کی اجازت ہے یا نہیں؟یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔درخواست گزاروں کی وکالت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ دیو دت کامت نے یہ بھی دلیل دی کہ مسلم خواتین کو سرعام اسکارف پہننے کی اجازت حاصل ہے۔
یاد رہے کہ کرناٹک میں حجاب کے بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ریاست بھر میں دسویں جماعت تک کے اسکول دوبارہ کھول دئیے گئے ہیں۔اسکولوں کے دائرہ میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔
حجاب معاملہ نے گزشتہ سال کے اواخر سے کرناٹک میں ایک شدید تنازعہ پیدا کردیا ہے۔یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب 28 ڈسمبر کو کرناٹک کے اڑپی کے ایک کالج میں طالبات کے ایک گروپ کو کلاس رومز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ حجاب نہ پہنیں۔بعدازاں اڑپی، مانڈیا، چکمگلور اور ہاسن کے ایک درجن سے زائد سرکاری اور خانگی اسکولوں اور کالجوں میں بھی اس پر عمل کیا گیا۔
پھر اس معاملہ میں چند زعفرانی تنظیمیں بھی سڑکوں اور تعلیمی اداروں تک پہنچ گئیں،غیرمسلم طلبا اور طالبات بھی حجاب کے خلاف زعفرانی کھنڈوے اور شال پہن کرتعلیمی اداروں میں پہنچنے لگے۔جس کے بعد 5 فروری کو حکومت کرناٹک نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئےحکم دیا کہ ریاست کے تمام تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ پرسختی کے ساتھ عمل کیا جائے۔
آج اس درخواست کی سماعت کے دؤران ایڈوکیٹ محمد طاہر نےمعزز ہائی کورٹ کو بتایا کہ درخواست گزاروں کی ذاتی تفصیلات ظاہر کی جارہی ہیں۔میں میڈیا کے لیے اس ضمن میں ہدایت چاہتا ہوں۔جس پر معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے سامنے کچھ پیش نہیں ہے،ہم کیا کر سکتے ہیں؟۔
معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے میڈیا سے اپیل کی ہے۔اگر آپ سب کہیں تو ہم لائیو اسٹریمنگ کو روک سکتے ہیں۔یہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔جہاں تک اس معاملہ کا پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات پر اثر پڑنے کا تعلق ہے ہم میڈیا کو نہیں روک سکتے۔اور آپ ان ریاستوں کے ووٹر نہیں ہیں۔معزز جسٹس ڈکشٹ کا کہنا تھا کہ انتخابی مسائل کا فیصلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو کرنا ہے۔
معزز چیف جسٹس نے سوال کیا کہ طالبات کب سے حجاب پہن رہی ہیں؟سینئر ایڈوکیٹ دیو دت کامت نے عدالت کو بتایا کہ طالبات نے داخلہ کے بعد سے سر پر اسکارف پہن رکھا تھا۔وہ پچھلے دو سالوں سے پہن رہی ہیں۔
ایڈوکیٹ کامت نے معزز عدالت کو بتایا کہ میں نہ صرف حکومتی حکم کو چیلنج کررہا ہوں بلکہ مجھے یونیفارم جیسا ایک ہی رنگ کا اسکارف پہننے کی اجازت دینے کے لیے ایک مثبت اختیار مانگ رہا ہوں۔
نوٹ: اس خبر کی تیاری میں ” لائیو لاء Live Law ” کے لائیو ٹوئٹس سے مدد لی گئی ہے۔

