کرناٹک میں ہماری بچیوں کے ساتھ شیطانی برتاؤ کیا جارہا ہے
مذہبی جنونی "بنگلورو کوسلیکون ویلی” سے "کشمیر ویلی” بنارہے ہیں
راہول گاندھی پر چیف منسٹر آسام کے رکیک ریمارک کی شدید مذمت
بھونگیر میں چیف منسٹر تلنگانہ کے چندراشیکھرراؤ کی بی جے پر شدید برہمی
حیدرآباد/بھونگیر: 12۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے آج بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے 8 سالہ دؤر اقتدار میں مذہب کے نام پر ملک،اس کی تہذیب اور معیشت کو تباہ و تاراج کرکے رکھ دیا ہے۔

تلنگانہ کے ضلع یادادری بھونگیر کے رائے گیری میں ٹی آر ایس پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندرا شیکھرراؤ جو کہ انتہائی برہم نظر آرہے تھے نے سوال کیا کہ کرناٹک میں حجاب کے نام پر مذہبی جنونیوں کی جانب سے کونسا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں ہماری بچیوں اور بیٹیوں کے ساتھ شیطانوں کی طرح برتاؤ کیا جارہا ہے۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤنے اپنے خطاب میں حجاب کے خلاف کرناٹک میں پیدا کیے گئے تنازعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے شدید ریمارک کیا کہ کرناٹک کا دارالحکومت بنگلورو”انڈین سلیکون ویلی” کی حیثیت رکھتا ہے اس کے بعد دوسرے نمبر پر حیدرآباد ہے۔لیکن بنگلورو کو آج مذہبی جنونیت کے حامل لوگ اسے”کشمیر ویلی” میں تبدیل کررہے ہیں۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے سوال کیا کہ کیا اس مذہبی جنونیت کی ملک کو ضرورت ہے؟
” چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ کی تلگو اور ہندی تقریر کے اہم نکات پرمشتمل تین منٹ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے ”
انہوں نے کہا کہ نوجوان اس ملک کامستقبل ہیں اگر ایسے حالات پیدا کیے گئے تو پھر سرمایہ کاری کون کرے گا؟اور نوجوانوں کو ملازمتیں کہاں سے حاصل ہوں گی؟ اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے سوال کیا کہ 8 سال کے دؤراقتدار میں بی جے پی نے ملک کے کونسے طبقہ کو کیا فائدہ پہنچایا ہے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے عام آدمی سے لے کر کسانوں کو نقصان ہی پہنچایا ہے اور انہیں پریشان ہی کیا ہے۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ وہ کسی سے بھی خوفزدہ ہونے والی شخصیت نہیں ہیں اگر ہوتے تو علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کیسے ہوتی؟انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ سراسر جھوٹ پھیلایا جارہا ہے۔
چیف منسٹر آسام ہیمنتا بسوا سرما کی جانب سے آج سابق صدر کل ہند کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ کے استعمال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی سے لاکھ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ان کے پرنانا پنڈت جواہر لال نہرو مجاہد آزادی،ملک کے کئی سال تک وزیراعظم رہ چکے ہیں،جبکہ ان کی دادی اندرا گاندھی اور ان کے والد راجیو گاندھی بھی اس ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
اپنے خطاب میں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے وزیراعظم نریندر مودی اور قومی صدر بی جے پی جے پی نڈا سے سوال کیا کہ کیا وہ چیف منسٹر آسام ہیمنتا بسوا سرما کے قابل مذمت ریمارک سے متفق ہیں؟
جس میں انہوں نے راہول گاندھی سے ان کے والد کی شناخت پوچھی ہے؟ کیا یہی بی جے پی کے سنسکار ہیں؟یہ ہمارا ہندو دھرم ہے؟ کیا یہ ہمارے دیش کی مریادا ہے؟ کہ ایک نیتا کو پکڑ کر آسام کا چیف منسٹر پوچھ رہا ہے کہ راہول گاندھی تم کس باپ کو پیدا ہوئے کیا ہم یہ پوچھ رہے ہیں؟
اس معاملہ پر انتہائی شدید برہم چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ”کیایہ ہمارا ہندو دھرم ہے؟”چیف منسٹر نے کہا کہ میرا سر شرم سے جھک گیا ہے،میری آنکھوں میں پانی آرہا ہے۔ملک کے لئے یہ اچھی بات نہیں ہے۔ایک ایم پی کے متعلق آپ کا ایک چیف منسٹر ایسا گھٹیا سوال کررہا ہے۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے اس جلسہ میں شریک ہزاروں عوام کے مجمع سے اپنے خطاب کہا کہ میں ایک ہندوستانی شہری ہونے کے ناتےوزیراعظم اور صدر قومی بی جے پی سے پوچھ رہا ہوں کہ”کیا ہم کو ویدوں سے،بھگوت گیتا سے،مہابھارت سے اور رامائن سے یہی سکھایا گیا ہے”؟”نہیں!!”۔چیف منسٹر تلنگانہ نے کہا کہ ہندو مذہب کو بیچ کر اس کے نام پر ووٹ کمانے والے آپ لوگ ہو آپ گندے لوگ ہو!۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ ایماندار ہیں دھرم کو نبھانے والے ہیں تو فوری چیف منسٹر کو ان کے عہدہ سے برخاست کرو،برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اتنا غرور برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ ملک اور دھرم کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوں گے اور ملک کو برباد ہوتے ہوئے اور دیکھ کر خاموش رہنے والے نہیں ہیں۔ہم تلنگانہ کے لوگ شیر ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے تیار ہیں کسی کے ساتھ ناانصافی برادشت نہیں کی جائے گی۔
چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنے خطاب میں ریاست کے عوام کو بھی پیغام دیا کہ ایسی مذہبی جنونیت کسی کا کچھ بھی بھلا نہیں کرے گی وہ چوکس اور ریاست کی ترقی کے لیے متحد رہیں۔ریاست کو ترقی کے عروج پر لے جائیں۔اور ملک و ریاست کی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ مرکز میں بھی ایک اچھی حکومت قائم ہو۔
انہوں نے کہا بی جے پی مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ملک میں بیروزگاری اور بھوک مری میں اضافہ ہوگیا ہے،معیشت برباد ہوگئی ہے،ترقی کے معاملہ میں ملک دیگر ملکوں سے پیچھے ہوگیا ہے اور یہ سب اس منحوس بی جے پی پارٹی کی وجہ سے ہوا ہے۔

