صدر مجلس و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ” زیڈ سیکورٹی” کو ٹھکرا دیا، فائرنگ پر انسداد دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے

صدر مجلس و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ” زیڈ سیکورٹی ” کو ٹھکرا دیا
فائرنگ پر انسداد دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے،لوک سبھا میں خطاب

حیدرآباد:04۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)

صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی پر کل انتخابی مہم کے بعد اترپردیش سے دہلی واپسی کے دؤران اترپردیش میں ہونے والے دہشت گردانہ حملہ میں ان کی گاڑی پر چار راؤنڈ فائرنگ کے واقعہ کے بعد آج مرکزی حکومت نےانہیں فوری اثر کے ساتھ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF)کے جوانوں پرمشتمل”زیڈکیٹگری سیکورٹی”(Z category security)” فراہم کی ہے۔تاہم بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مرکزی وزارت داخلہ کی اس پیشکش کو ٹھکرادیا ہے۔

آج لوک سبھا سے اپنے خطاب کے دؤران صدر مجلس و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ مجھے Z کیٹیگری کی سیکیورٹی ہرگز نہیں چاہیے۔میں آپ سب کے برابر اے کیٹیگری کا شہری بننا چاہتا ہوں۔

انہوں نے آج لوک سبھا میں اپنے خطاب میں سوال کیا کہ مجھ پر گولی چلانے والوں کے خلاف ” یو اے پی اے”  کی دفعہ کیوں نہیں لگائی گئی؟ انہوں نے سخت انسداد دہشت گردی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو کہ حالیہ دنوں میں بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومتوں اور مرکز کے ذریعہ بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس ” یو اے پی اے ” قانون کے تحت مختلف الزامات کے ساتھ زیادہ تر مسلمان جیل میں قید ہیں!!۔

صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں جینا چاہتا ہوں،بولنا چاہتا ہوں۔میری جان تب محفوظ رہے گی جب غریب محفوظ ہوں گے۔میں ان لوگوں سے نہیں ڈروں گا جنہوں نے میری گاڑی پر گولی چلائی۔

مرکزی حکومت نے اترپردیش میں انتخابات سے صرف ایک ہفتہ قبل کل رات ان پر ہوئے قاتلانہ حملے کی روشنی میں خطرے کی سطح کا جائزہ لینے کے بعد سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ذریعہ انہیں زیڈ زمرہ کی سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اترپردیش پولیس نے بتایا ہے کہ میرٹھ کے کیتھود علاقے میں اویسی کی گاڑی کے پر فائرنگ کرنے کے الزام میں دو نوجوانوں سچن پنڈت اور شبھم کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں آج 14 دن کی تحویل میں روانہ دیا گیا ہے۔