چوروں نے”روڈ رولر” کو بھی نہیں بخشا
سڑک کے کنارے سے چُرا کر پرانے سامان میں بیچ دیا
وقارآباد ضلع کے تانڈور میں انوکھی چوری کی واردات
وقارآباد/تانڈور:25۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)
آپ نے مقفل مکانات اور دکانات سے قفل شکنی کے ذریعہ سونا،چاندی،نقد رقم،موبائل فونس،کمپیوٹرس،لیاپ ٹاپ اور مختلف قیمتی اشیا کی چوری یا پھر لاریوں،کاروں،ٹریکٹرس،آٹو رکشاؤں اور موٹرسیکلوں کی چوری کی وارداتوں کے متعلق سنا اور پڑھا ہوگا!!۔
چند سال قبل بہار میں چار ناخواندہ نوجوان سارقوں کی ایک ٹولی بہار کے ایک بینک سے مشین چراکر فرار ہوئی تھی۔بعدازاں ان چوروں کو مسروقہ مشین کے ساتھ پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
اس واردات کے بعد سوشل میڈیا پر پکڑے گئے سارقوں کی تصویر کے ساتھ خوب چرچے ہوئے تھے کہ یہ نوجوان سارق جس مشین کو "اے ٹی ایم مشین” سمجھ کر اٹھاکر لے گئے تھے دراصل وہ بینک کے ” پاس بُک چھاپنے والی مشین ” تھی۔!
لیکن ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع میں موجود حلقہ اسمبلی تانڈور میں نامعلوم سارقوں نے تو چوری اور سرقہ کی تمام وارداتوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ان مہارتیوں نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک کے کنارے رکھا گیا ایک "روڈ رولر” ہی چراکر پرانہ سامان میں بیچ دیا۔

تانڈور منڈل کے ” گُنڈلا مڈگو تانڈہ ” میں پیش آئے اس عجیب و غریب اور سب کو حیرت زدہ کرنے والے سرقہ کے واقعہ کی تفصیلات کے مطابق نرسمہا ریڈی نامی کنٹراکٹر نے پانچ ماہ قبل اس تانڈہ کے قریب کے بریج اور سڑک کے تعمیری کاموں کو انجام دیا تھا اس دؤران کنٹراکٹر نے اپنے اس روڈ رولر کو زمین مسطح کرنے کی غرض سے استعمال کیا تھا۔
اس کام کے بلس موصول نہ ہونے کے بعد کنٹراکٹر نرسمہاریڈی نے اپنا روڈ رولر اسی مقام پر سڑک کے کنارے کھڑا کرکے دیگر مقامات پر جاری مختلف تعمیراتی کاموں اور سڑکیں بچھانے کے کاموں کا آغاز کیا۔جب ان کاموں کے دؤران روڈ رولر کی ضرورت پڑی تو کنٹراکٹر نرسمہا ریڈی نے اپنے روڈ رولر کے ڈرائیور کوٹیشور کو مذکورہ بالا مقام پر روانہ کیا کہ وہاں سے روڈ رولر لے کر آئے۔
جب ڈرائیور ڈی سی ایم لے کر جائے مقام پر پہنچاکہ ڈی سی ایم ویان کے ذریعہ اس روڈ رولر کو منتقل کیا جائے تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ وہاں روڈ رولر موجود نہیں تھا! جب ڈرائیور نے قریبی مقام اور تانڈہ کے لوگوں سے دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ اس روڈ رولر کو چار یا پانچ دن قبل تانڈور منڈل کے ہی موضع جنگورتی کے ساکن شہاب الدین کی لاری میں لاد کر لے جایا گیا ہے۔
جب کنٹراکٹر نرسمہا ریڈی کے ڈرائیور کوٹیشور نے لاری مالک شہاب الدین کے پاس پہنچ کر دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ چند نامعلوم افراد ان سے رجوع ہوئے تھے کہ انہوں نے کنٹراکٹر کے پاس سے یہ روڈ رولر خریدا ہے اور اسے تانڈور کی گوتاپور روڈ پر موجود پرانہ سامان کی دُکان تک منتقل کرنا ہے تو انہوں نے اس کا کرایہ لیتے ہوئے لاری میں لاد کر مذکورہ پرانہ سامان کی خریدی کی دُکان تک اس روڈ رولر کو منتقل کردیا۔
بعدازاں کنٹراکٹر نرسمہا ریڈی کی ہدایت پر ان کے ڈرائیور کوٹیشور نے روڈ رولر کے سرقہ کی شکایت کرنکوٹ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی۔کرنکوٹ پولیس جب اس شکایت پر مذکورہ پرانہ سامان کی دُکان پر پہنچ کر دیکھا تو وہاں روڈ رولر موجود تو تھا لیکن اس کے کئی حصوں کو توڑ پھوڑ کرتے ہوئے الگ الگ کردیا گیا تھا۔

ٹکڑوں میں تقسیم روڈ رولر دیکھ کر ڈرائیور کوٹیشور نے شناخت کی کہ یہ انہی کا روڈ رولر ہے۔اس سلسلہ میں کرنکوٹ پولیس ایک شکایت درج کرتے ہوئے مصروف تحقیقات ہے اور اس روڈ رولر کو چراکر بیچنے والے نامعلوم سارقوں کی نشاندہی میں مصروف ہے۔

