تلنگانہ : ان پڑھ بیوی کے فیس بک دوست کے ساتھ ناجائز تعلقات، رکاوٹ بننے والے شوہر کا قتل

تلنگانہ: ان پڑھ بیوی کے فیس بک دوست کے ساتھ ناجائز تعلقات
آشنا کے ساتھ مل کر رکاوٹ بننے والے شوہر کا بچوں کے سامنے قتل
نعش ٹھکانے لگانے کی کوشش میں پولیس کے ہتھے چڑھ گئے

حیدرآباد/محبوب نگر: 12۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)

ایک ایسی ناخواندہ (ان پڑھ) خاتون جسے ایک بھی لفظ لکھنا یا پڑھنا تک نہیں آتا!لیکن پھر بھی سوشل میڈیا کے استعمال میں ماہر!! فیس بک کے ذریعہ اس خاتون کی دوستی ایک نوجوان سے ہوگئی اور یہ دوستی ناجائز تعلقات میں تبدیل ہوگئی۔

جب شوہر کو اس بات کا علم ہوا اور تنبیہ کی تو اس خاتون نے اپنے آشنا اور اس کے دوست کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور منصوبے کے تحت اپنے تین بچوں کے سامنے ہی شوہر کا قتل بھی کردیا۔تاہم شوہر نعش ٹھکانے لگانے کے عین وقت پر یہ لوگ پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا کا کس قدر غلط استعمال کیا جارہا ہے؟

محبوب نگر ضلع میں پیش آنے والے اس سنسنی خیز واقعہ  کی تفصیلات کے پولیس کے مطابق ہنواڑہ منڈل کے موضع بدھارم کی ساکن مادھوی کی شادی 13 سال قبل وینکٹیش سے ہوئی تھی۔شادی کے بعد وینکٹیش گھرداماد کی حیثیت سے اپنے سسرالی مکان میں ہی مقیم رہنے لگا تھا۔اس جوڑے کودو لڑکے شیوارام اور پروین اور ایک لڑکی سنگیتا ہیں۔مادھوی روزآنہ کی اجرت پر گرام پنچایت میں مزدوری کرتی ہے۔

اس جوڑے کی زندگی بہتر طریقہ سے چل رہی تھی کہ 6 ماہ قبل مادھوی کے والد کے انتقال کے بعد اسے حکومت کی”رعیتو بیمہ اسکیم” کے تحت 5 لاکھ روپئے حاصل ہوئے تھے۔اس رقم میں سے مادھوی نے ایک اسمارٹ فون خرید لیا اور واٹس ایپ اور فیس بک کا استعمال شروع کردیا۔

اسی دؤران فیس بک پر مادھوی کی دوستی جنگم رمیش نامی نوجوان سے ہوئی اور فون پر گھنٹوں تک بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگیا بعدازاں یہ دوستی ناجائز تعلقات میں تبدیل ہوگئی۔چند دنوں کے بعد مادھوی کے شوہر وینکٹیش کو اس بات کا پتہ چل گیا جس نے مادھوی کو متنبہ کیا کہ وہ اس سلسلہ کو فوری ختم کردے۔جس کے بعد مادھوی نے اپنے آشنا رمیش اور اس کے دوست کرمیا کی مدد سے شوہر کو اپنے راستے سے ہٹانے کا منصوبہ تیار کیا۔

اس منصوبہ کے تحت گزشتہ رات جب شوہر مزدوری کے بعد گھر پہنچا اور کھانا کھاکر سوگیا تو مادھوی نے اپنے مکان کی برقی سربراہی بند کردی اور اپنے آشنا رمیش کو طلب کرلیا۔رمیش اور اس کا دوست کرمیا فوری مادھوی کے مکان پہنچ گئے اور حالت نیند میں موجود مادھوی کے شوہر وینکٹیش کو نشے کا انجکشن دے دیا اور وینکٹیش پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے لگا تو قریب ہی سوئے  ہوئے تینوں بچے جاگ گئے اور چیخ و پکار کرنے لگے جس پر ماں مادھوی نے اپنے بچوں کا منہ کردیا اور دھمکی دی کہ انہیں بھی قتل کردیا جائے گا۔

بچوں کے سامنے ہی اس ظالم ماں مادھوی، اس کا آشنا رمیش اور اس کے دوست کرویا نے کپڑے کی مدد سے گلا گھونٹ کر شوہر وینکٹیش کا قتل کردیا۔

قتل کے بعد مادھوی کا آشنا رمیش اور اس کے دوست کرویا نے نعش کو ٹھکانے لگانے کی غرض سے موٹرسیکل پر لادکر روانہ ہوگئے۔وینکٹیش کی موت کو حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔جب موٹرسیکل پر نعش کو لے جایا رہا تھا تو کوسگی روڈ پر پٹرولنگ میں مصروف ہنواڑہ پولیس نے انہیں روکا اور سوال کیے تو پولیس کو بتایا گیا کہ وینکٹیش نشے میں دھت ہے اور اس کو اس کے مکان پر چھوڑنے لے جارہے ہیں تاہم پولیس نے شبہ ظاہر کرتے ہوئے وینکٹیش کو دیکھا تو وہ مردہ تھا۔

جس پر پولیس نے نعش سمیت رمیش اور کرویا کو اپنی تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کیا اور وہاں اپنے حساب سے تفتیش کی تو انہوں نے اپنا جرم قبول کرلیا اور پولیس کو سارے واقعہ سے واقف کروایا۔ڈی ایس پی محبوب نگر مسٹر کشن نے بتایا کہ اس سلسلہ میں مادھوی،اس کے آشنا رمیش اور اس کے دوست کرویا کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف قتل اور سازش کا ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے ان تینوں کو پولیس تحویل میں روانہ کردیا گیا۔

ان معصوم بچوں نے روتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہی ان کی ماں،رمیش اور کرویا نے ان کے باپ کا قتل کردیا اس موقع پر ان کے باپ نے مزاحمت بھی کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

اس واقعہ کے بعد جہاں ماں کے ہاتھوں باپ کا قتل اور پھر ماں کے جیل جانے کے بعد دنیاداری سے ناواقف اس جوڑے کے تینوں بچے لاوارث اور بے یار و مددگار ہوگئے ہیں۔ہنواڑہ منڈل کے موضع بدھارم کے دیہاتی اس واقعہ پر شدید برہم ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ مادھوی سمیت اس کے آشنا اور دوست کو سخت سزا دی جائے۔ دیہاتیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بچوں کی دیکھ ریکھ کریں گے۔اور مادھوی کو گاؤں میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔