” آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت "
مسجد کی تعمیر کے لیے پٹیل رام کرشنا ریڈی اور ان کے فرزند نے
484 گز زمین مفت اور نقد رقم کا عطیہ دیا
جمعیۃ علما ضلع وقارآباد کی زیر نگرانی تانڈور کے موضع عینلی میں مسجد کے تعمیری کاموں کا آغاز
وقارآباد/تانڈور:10۔جنوری (سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ چند سال سے ملک میں ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے خلاف روزآنہ مختلف طریقوں سے نفرت انگیز مہم کا سلسلہ جاری ہے۔سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر دن رات جھوٹ اور دھمکیوں پرمشتمل مواد نوجوان نسل کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بورہا ہے۔جو کہ آنے والی نسلوں کے لیے بہت نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔
جس کی مثال وہ "سُلّی ڈیلس اور بُلّی بائی” جیسے ایپ ہیں جن کے ذریعہ ملک کی مسلم صحافیوں،جہد کاروں،ڈاکٹرز،وکلا سمیت کئی اہم لڑکیوں اور خواتین کی نیلامی عمل میں لائی گئی۔جس کی ہر طرف سے شدید مذمت کے بعد اس معاملہ میں ممبئی اور دہلی پولیس نے پانچ نوجوانوں بشمول ایک لڑکی کو گرفتار کرلیا۔
دھرم سنسد کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیوں کے ساتھ ملک کے کسی نہ کسی مقام پر موب لنچنگ اور مخالف مسلم نعروں اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ آنے والی نسلوں کو اور کچھ نہ دے سکیں تو انہیں کم ازکم محبتیں بانٹنے والے،انسانیت کی اہمیت کو سمجھنے والے اور ایک دوسر ے کے جذبات کا احساس کرنے والے ضرور بنائیں”
اسی دؤران ایک ایسا سلسلہ چل پڑا تھا کہ مساجد سے اذاں کی آواز سے بھی چند لوگوں کو پریشانی تھی۔اور اب بھی ریاست ہریانہ کے گروگرام میں مسلمانوں کو کھلے مقام پر جمعہ کی نماز کی ادائیگی سے روک دیا جاتا ہے۔اشتعال انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں۔
ایسے میں تلنگانہ کے وقارآباد ضلع میں موجود حلقہ اسمبلی تانڈور کے تانڈور منڈل میں موجود موضع عینلی سے ایک ایسی خبر یقینا لائق ستائش اور امید کی کرن ہے اور ساتھ ہی یہ واقعہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اشتعالی انگیزی،مخالف مسلم نعروں اور دھمکیوں سے ہرگز کسی کو بھی مایوس یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
کیونکہ اس ملک کے کروڑں برادران وطن آج بھی سیکولرازم اور کھلے دلوں کے ساتھ مسلمانوں سے ایسی کوئی نفرت نہیں رکھتے اور یہی لوگ اس ملک کی،ملک کے دستور و قوانین کی اور ہماری طاقت ہیں۔
تانڈور منڈل کے موضع عینلی میں اتوار کے دن جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد کی زیر نگرانی ایک جدید مسجد کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا۔
صدر جمعیتہ علما ضلع وقارآباد مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی نے بتایا کہ موضع میں اس مسجد کی تعمیر کے لیے 484 گز زمین اور کچھ رقم اسی گاؤں کے ” پٹیل رام کرشنا ریڈی ” اور ان کے فرزند ” چندراشیکھر ریڈی ایڈوکیٹ ” نے فراہم کی ہے۔

جو مذہبی منافرت و عدم برداشت کے اس ماحول میں ملک دشمن عناصر اور گنگا جمنی تہذیب کے مخالفین کے منھ پر ایک طمانچہ ہے!!۔
صدرجمعیتہ علماضلع وقارآبادمولانا محمدعبداللہ اظہر قاسمی نے بتایا کہ اس سلسلہ میں سینئرسیاسی قائد سردار خان اور عبداللہ مجاہدی کی نمائندگی، مسلسل کاوشوں اور انتھک محنت کا خاص دخل رہا ہے۔
اس مسجد کے تعمیری کاموں کے آغاز کے موقع پر خود پٹیل رام کرشنا ریڈی اور ان کے فرزند چندراشیکھر ریڈی ایڈوکیٹ کے علاوہ مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد، ڈاکٹر حافظ عبدالسلام نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد،حافظ محمد رئیس الدین سیکریٹری جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد،مفتی سید شکیل احمد قاسمی سیکریٹری اصلاح معاشرہ کمیٹی تانڈور،حافظ محمد عبدالقادر و حافظ مرزا مجاہد بیگ(نگران مکاتب)،سردار خان،عبداللہ مجاہدی اور محمد نظام کے علاوہ موضع کے ذمہ داران موجود تھے۔
مشہور شاعر بشیر بدر نے سچ ہی کہا ہے کہ "سات صندوقوں میں بھرکر دفن کردو نفرتیں آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت"

