ایک مور نے اپنے ساتھی مور کی آخری رُسومات میں شرکت کی، ٹوئٹر پر سب کی آنکھیں نم کردینے والا ویڈیو وائرل

ایک آہ بھری ہوگی،ہم نے نہ سنی ہوگی،جاتے جاتے تم نے آواز تو دی ہوگی!!
ایک مور نے اپنے ساتھی مور کی آخری رُسومات میں شرکت کی
ٹوئٹر پر سب کی آنکھیں نم کردینے والا ویڈیو وائرل
منافرت پھیلانے والے انسان نما بھیڑیوں کے لیے ایک پیغام!!

حیدرآباد: 06۔جنوری
(یحییٰ خان/سحرنیوز ڈیسک)

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز،ایک مخصوص طبقہ کے خلاف جاری اشتعال،اہانت آمیز اور دھمکیوں سے بھرے ہوئے ویڈیوز کے ساتھ زیادہ تر ایسے ویڈیوز بھی شیئر کیے جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین کچھ دیر کے لیے ہی سہی محظوظ ہوتے ہیں۔

ان ویڈیوز کا زیادہ تر تعلق الگ الگ نسلوں سے تعلق رکھنے والے جانوروں کی آپسی دوستی کا ہوتا ہے۔ان کی عجیب و غریب حرکتوں پر مشتمل ویڈیوز اب ان نفرت انگیز ویڈیوز سے زیادہ سوشل میڈیا کے ٹوئٹر،انسٹاگرام،واٹس ایپ اور فیس بک کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز پر صارفین کی زیادہ توجہ حاصل کرنے لگے ہیں۔

اور ایسے ویڈیوز بہت زیادہ وائرل بھی ہورہے ہیں۔وہیں ان ویڈیوز پر صارفین کی جانب سے دلچسپ کمنٹس بھی کیے جاتے ہیں۔

اس کا واضح مطلب یہ مانا جائے کہ اب سوشل میڈیا صارفین بھی منافرت کے اس ایجنڈہ سے اُوب ہوچکے ہیں۔محض مشکلات اور مسائل کے اس دؤر میں کچھ دیر کے لیے خالص تفریح اور ایک دوسرے سے بندھے رہنے کی غرض سے تیار کیے گئے ان سوشل میڈیا ایپس اور سائٹس پر سکون اور تفریح چاہتے ہیں۔

لیکن ٹوئٹر پر ان دنوں وائرل ہونے والے ایک دل شکن ویڈیو نے تمام صارفین کی آنکھوں کو نم کرکے رکھ دیا ہے۔یہ ویڈیو مور کے ایک جوڑے سے متعلق ہے۔

انڈین فاریسٹ آفیسر(آئی ایف او) ” پروین کاسوان Parveen Kaswan@ "نے اس ویڈیو کو اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” ایک مور Peacock# اپنے ایک دیرینہ ساتھی کو اس کی موت کے بعد بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔دل کو چھولینا والا ویڈیو”۔ تاہم انڈین فاریسٹ آفیسر پروین کاوسوان نے یہ نہیں لکھا کہ یہ ویڈیو کہاں کا ہے!

بعد ازاں ہندی کے مشہور اخبار” دینک بھاسکر ” کی ایک لنک اپنے کمنٹ سیکشن میں پوسٹ کرتے ہوئے خود پروین کاسوان نے اس ویڈیو کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

"یہ واقعہ راجستھان میں شری رام سروپ بشنوئی کے مکان پر پیش آیا ہے۔اس مور کا جوڑا گزشتہ چار سال سے ایک ساتھ رہتا تھا ان میں سے ایک کی موت کے بعد دوسرے مور نے اس کی آخری رسومات میں شرکت کی اور اس وقت یہ ویڈیو لیا گیا ہے”۔    

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے مردہ مور کی نعش کو دو افراد کپڑا یا کسی جالی میں اٹھاکر جارہے ہیں۔اور ایک مور اپنے ساتھی کی اس نعش کے پیچھے چل رہا ہے! یہ ویڈیو نے کئی حساس اور دردمند دل رکھنے والوں کی آنکھیں نم کرنے کے لیے کافی ہے۔

ٹوئٹر پر 18 سیکنڈ کے اس ویڈیو کو اب تک دو لاکھ سے زائد صارفین نے دیکھا ہے جبکہ اس ویڈیو کو 15،000 سے زائد صارفین نے لائیک کیا ہے اور زائد از دو ہزار ٹوئٹر صارفین نے اس ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے اس پر مختلف کمنٹس بھی کیے ہیں۔

 یہ ویڈیو ان انسان نما بھیڑیوں اور درندہ صفت انسانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ اپنائیت،محبت، دکھ سکھ اورغم میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا تو انسانی میراث ہے۔جسے انسانوں نے کب کا تیاگ دیا ہے اور ان قیمتی چیزوں کو جانوروں اور چرند پرند نے اپنالیا ہے! 

جو انسانوں کو جانوروں کے تحفظ کے نام پر بھیڑ کی شکل میں موب لنچنگ کرتے ہیں! یا پھر ایک مخصوص طبقہ کی نسل کشی کی دھمکیاں دیتے ہوئے ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور ان کے خلاف روز ایک نعرہ لگانا بہادری سمجھتے ہیں۔

آنکھوں کو نم کردینے ولا یہ ویڈیو مذہب کے نام پر مخصوص طبقہ کی باعزت،حوصلہ مند اور ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنے کی ہمت رکھنے والی بیٹیو کی ” بلی بائی ایپ ” کے ذریعہ نیلامی جیسی گھٹیا اور اہانت آمیز حرکتیں کرکے خود کو بہادرسمجھنے کی بھول کرنے والے بزدلوں کے لیے ایک پیغام ہے۔!!

شاید ایسے ہی کمبختوں کے لیےمشہور انگریز مفکر” اسٹیون مارابولی Stevenmaraboli” نے کہا تھا کہ”اگر آپ کے مذہب کا تقاضہ ہے کہ آپ کسی سے نفرت کریں تو آپ کو ایک نئے مذہب کی ضرورت ہے”۔