تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں اور کالجوں میں مسلم ٹیچرس اور لیکچرارس کا تقرر کیوں نہیں؟ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف میں مسلمانوں کا تناسب انتہائی کم

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی!
تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں اور کالجوں میں مسلم ٹیچرس اور لیکچرارس کا تقرر کیوں نہیں؟
ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف میں مسلمانوں کا تناسب انتہائی کم
تقررات کے اشتہار اردو اخبارات میں کیوں نہیں دئے جاتے؟؟

حیدرآباد/وقارآباد:30۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

طویل،صبر آزما اور پُرامن جدوجہد کے ذریعہ علحدہ ریاست تلنگانہ حاصل کرنے کے بعد وزیراعلیٰ کے۔چندرا شیکھر راؤ کی خصوصی دلچسپی سےحکومت تلنگانہ کی جانب سےمستحق اور غریب طبقہ کےمسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اورسماجی پسماندگی دور کرنے کے مقصد کے تحت ریاست کے اضلاع میں” تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول اور کالجوں” کا قیام عمل میں لایا گیا۔

جن میں طلبہ کو بہترین سہولتوں کے ساتھ معیاری تعلیم کا نظم بھی ہے اور ان اقامتی اسکولوں کے طلبہ اپنے تعلیمی اور دیگر صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔

2016ء میں اقامتی اسکولس(انگریزی میڈیم) کا قیام عمل میں لایا گیا شروعات میں ریاست میں 71 اسکولس قائم کئے گئے تھے بعد ازاں ان میں دیگر سوسائٹیز کے چند اسکولوں کو ضم کرلیا گیا۔پھر اس کے بعد اقلیتی اقامتی کالج قائم کئے گئے۔

ان اسکولوں اور کالجس کو تلنگانہ مائنارٹی ریزیڈنشیل ایجوکیشن انسٹیٹیوشنس سوسائٹی (ٹمریز)کے زیر انتظام چلایا جاتا ہے۔

پہلے پہل ان اقامتی اسکولس کے لیے کرایہ کی عمارتیں حاصل کی گئیں اور پھر اس کے بعد کئی اضلاع میں کروڑہا روپئے مالیتی ذاتی عمارتیں تعمیر کی گئیں،چند عمارتیں ہنوز زیر تعمیر ہیں۔جن کے لیے حکومت تلنگانہ نے 1,056 کروڑ روپئے خرچ کیے۔

جاریہ سال ریاستی بجٹ میں ان اقلیتی اقامتی اسکولوں کے لیے 561 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔

اب ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے ریاست کے 33 اضلاع میں 204 اقلیتی اقامتی اسکولس اور 204 جونیئر کالجس قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں 90 ہزار سے زائد طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔جنہیں کارپوریٹ طرز کی تعلیم،عمدہ غذا،اور رہن سہن فراہم کیا جارہا ہے۔

تلنگانہ مائنارٹی ریزیڈنشیل ایجوکیشن انسٹیٹیو شنس سوسائٹی (ٹمریز)کی جانب سے 12 اضلاع میں” اسکول آف ایکسلنس” قائم کرتے ہوئے منتخب طلبہ کو ایمسیٹ، آئی آئی ٹی اور نیٹ NEET کی تربیت فراہم کی جارہی ہے جسے ریاست کی اقلیتوں کے لیے ریاستی حکومت کا ایک کارنامہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول اور کالجوں کے قواعد و ضوابط کے تحت ان میں 75 فیصد اقلیتی فرقہ کو اور 25 فیصد دیگر طبقہ کے بچوں کو داخلہ دیا جانا لازمی ہے۔

ان میں 64 فیصدمسلم،7 فیصد عیسائی،جین،سکھ،پارسی اور بدھسٹ طلبہ کے لیے 4 فیصد نشستیں فراہم کی جاتی ہیں۔جبکہ ان اقلیتی اقامتی اسکولوں اور کالجوں میں ایس سی طبقہ کے لیے 6 فیصد،ایس ٹی طبقہ کے لیے 4 فیصد،بی سی طبقہ کے لیے 12 فیصد اور دیگرکے لیے 3 فیصد تحفظات دئیے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان اقلیتی اقامتی اسکولس میں جین، پارسی اور سکھ طلبہ نے داخلہ نہیں لیا ہے!عیسائی طبقہ کے طلبہ نے داخلہ لیا ہے جن کی تعداد بھی انتہائی کم ہے۔بات یہاں تک لائق ستائش اور قابل تعریف ضرور ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی،معاشی اور سماجی حالت درست کرنے کی غرص سے قائم کیے گئے ان اقلیتی اقامتی اسکولس کے ٹیچرس،لیکچرارس اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات میں کسی بھی قسم کی کوئی شرائط یا تحفظات فراہم نہیں کئے گئے ہیں!

اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ ریاست میں موجود ان اسکولوں اور کالجس میں 25 فیصد سے بھی کم مسلم اساتذہ،لیکچرارس اور غیر تدریسی عملہ کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے اور شاید یہ بھی ریاست میں حاصل 4 فیصدمسلم تحفظات کی مرہون منت ہے؟۔واضح ہو کہ ان اقامتی اسکولس میں 90 فیصد طلبا و طالبات کا تعلق مسلم طبقہ سے ہے۔

مصدقہ ذرائع سے دستیاب اطلاع کے مطابق تلنگانہ مائنارٹی ریزیڈنشیل ایجوکیشن انسٹیٹیوشنس سوسائٹی (ٹمریز) کے "بائی لاس” ضوابط” میں اس اہم نکتہ کو شامل نہیں کیا گیا ہے؟!

جبکہ سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے چلائے جانے والے اقامتی اسکولس کے بائی لاس میں باقاعدہ یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ان اسکولوں میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کے موقع پر ایس سی طبقہ کو 80 فیصد تحفظات حاصل ہیں!

اقلیتی اقامتی اسکولس میں ٹیچنگ عملہ کی تعداد بھی بہت کم پائی جاتی ہے جبکہ نان ٹیچنگ عملہ جیسے وارڈن، پلمبر،الیکٹریشن،آیا،چوکیدار اور باورچی کے عہدےمسلم طبقہ کے حصہ میں آئے ہیں!

دوسری جانب ریاست میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہزاروں مسلم امیدوار کئی سال سے ملازمتوں کی امیدلگائے بیٹھے ہیں اور ان کی عمریں ضائع ہورہی ہیں۔انہیں ان اقلیتی اقامتی اسکولوں اور کالجوں میں ملازمتیں فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ہی ان کا سرکاری اردو میڈیم اسکولوں اور کالجس میں ودیا والینٹرس اور گیسٹ لیکچرار کے طور پر تقرر عمل میں لایا جارہا ہے۔ریاست کے کئی اسکولوں،کالجس اور ڈگری کالجس میں اساتذہ اور لیکچرارس کی ہزاروں جائدادیں بھی مخلوعہ ہیں۔

اس معاملہ میں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ریاست کے ان اقلیتی اقامتی اسکولس و کالجس میں تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کے تقرر کی ذمہ داری خانگی ایجنسیوں کے سپرد کی گئی ہے۔جن کی جانب سے ان اسکولوں اور کالجوں میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ عملہ کے تقررات کے اشتہار اردو اخبارات کے بجائے تلگو یا انگریزی اخبارات کو دئیے جاتے ہیں اور یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ اس کی اطلاع اردو کے امیدواروں کو نہیں مل پاتی اور وہ ملازمتوں کے لیے درخواستیں داخل نہیں کرپاتے۔

اس سلسلہ میں یہ الزامات عام ہیں کہ اس کا مقصدمسلم امیدواروں کو ان اقلیتی اقامتی اسکولوں میں ملازمت کے لیے درخواستوں کے ادخال سے دور رکھا جائے؟

کئی امیدواروں کا کہنا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں اور کالجوں میں کب اور کیسے تقررات عمل میں لائے جاتے ہیں؟اور اس کے لیے کونسے معیار طئے کیے گئے ہیں؟

ریاستی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ سے ان بیروزگار امیدواروں نے اپیل کی ہے کہ وہ اس جانب خصوصی توجہ دیں۔اور تلنگانہ مائنارٹی ریزیڈنشیل ایجوکیشن انسٹیٹیو شنس سوسائٹی (ٹمریز) کے بائی لاس میں تبدیلی عمل میں لاتے ہوئے اس کے ذریعہ مسلم امیدواروں کے لیے تحفظات مختص کریں مسلم امیدواروں کوان اقلیتی اقامتی اسکولوں اور کالجس میں ملازمت فراہم کی جائے۔

تا کہ ملازمت کی امید میں اپنی عمریں ضائع کرنے والے قوم کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ملازمت کے مواقع حاصل ہوجائیں اور ساتھ ہی ان اسکولوں میں زیرتعلیم مسلم طلبا و طالبات اپنے مذہبی،تہذیبی،تعلیمی رہنمائی کے ساتھ قوم اور ریاست کا نام روشن کرسکیں 

ساتھ ہی ان امیدواروں نے حکومت تلنگانہ کے صلاح کار برائے اقلیتی امور جناب اے کے خان سے بھی اس جانب توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔