ٹرین روک کر دہی خرید نے والے ڈرائیور اوراسسٹنٹ ڈرائیور خدمات سےمعطل،سوشل میڈیا پر ویڈیو سونامی کی طرح ہوا وائرل

ٹرین روک کر دہی خرید نے والے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور خدمات سےمعطل
سوشل میڈیا پر ویڈیو سونامی کی طرح وائرل، صارفین کا ملاجلا ردعمل

لاہور: 16۔ڈسمبر(سحر نیوز ڈیسک)

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ خانگی گاڑیوں،آٹو رکشاؤں یا دیگر سواریوں کے ڈرائیورز اپنی گاڑیاں روک کر مسافرین سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے قریب ہی موجود کسی دُکان یا فٹ پاتھ سے اپنے لیے یا اپنے گھر کے لیے ضرورت کا کوئی سامان خرید لیتے ہیں!

لیکن دو ٹرین ڈرائیورس نے اس وقت کمال ہی کردیا جب انہوں نے محض ” دہی Curd ” خریدنے کے لیے پوری ٹرین ہی روک دی جس کے بعد اسسٹنٹ ڈرائیور قریب ہی موجود ایک دُکان پر جاکر دہی خرید کر لائے،ٹرین میں سوار ہوئے اور پھر ٹرین وہاں سے چل پڑی

جی ہاں یہ پڑوسی ملک پاکستان کے لاہور کا واقعہ ہے۔اور اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز  پر سونامی کی طرح وائرل ہوگیا ہے۔ٹوئٹر پر اس ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ایک خاتون ٹوئٹر صارف nailatanveer@ نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ” لاہور میں اِنٹر سٹی ٹرین ڈرائیور کو دہی لینے کے لیے "غیر طئے شدہ اسٹاپ ” پر ٹرین روک کر دہی لینے پرمعطل کر دیا گیا”۔

وہیں اس ویڈیو میں ٹرین کے انجن کا نمبر 5217 نظر آرہا ہے۔پاکستانی میڈیا کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو لاہور کے” کاہنہ کاچھا ریلوےاسٹیشن ” کا ہے۔

ٹوئٹر پر پاکستانی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس ویڈیو کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا ہے جن پر سوشل میڈیا صارفین ملے جلے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں تو اس ٹرین کے اسٹنٹ ڈرائیور پر تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے! اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرین نے اسسٹنٹ ڈرائیور افتخار حسین دہی لینے بازار میں چلے گئے تھے اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ دہی لے کر واپس ہوتے ہیں۔اس دؤران وہاں موجود مسافر حیرت کا اظہار کرتے ہیں اور کئی سوالات کیے جاتے ہیں۔

اسی دؤران کسی نے اس پورے واقعہ کا ویڈیو لے کر اس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا جہاں سے یہ ویڈیو وائرل ہوگیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہوتے یہ پاکستان کے مرکزی وزیر ریلوے اعظم سواتی تک پہنچ گیا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق اس معاملہ میں مرکزی وزیر پاکستان ریلوے اعظم سواتی نے اس ٹرین کے ڈرائیور رانا محمد شہزاد اور اسسٹنٹ ڈرائیور افتخار حسین کو خدمات سے معطل کرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ مستقبل ایسے واقعات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔دراصل یہ واقعہ 8 ڈسمبر کا ہے لیکن آج بھی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز  پر اس ویڈیو کی باڑھ آئی ہوئی ہے/۔

پاکستان کے ان دونوں ٹرین ڈرائیورس کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ واقعی قابل گرفت ہے!لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ زیادہ تر ٹرین ڈرائیورس طویل ڈیوٹی کے دؤران غذا سے محروم رہتے ہیں۔اور گھر سے ٹفن کی شکل میں لائی گئی غذا میں کوئی نہ کوئی چیز کم ہوتی ہے۔

اس ویڈیو کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رات کا واقعہ ہے۔شاید ان ڈرائیورس کو بھوک لگی تھی یا پھر ڈیوٹی کے اختتام کے بعد انہیں کھانے کے لیے دہی کی ضرورت تھی!!

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ” جو پکڑا گیا وہ چور ہے،جو بچ گیا وہ سیانا ہے "!

سوشل میڈیا کے اس دؤر میں جبکہ ہر کسی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون موجود ہیں تو سب کے لیے لازمی ہوگیا ہے کہ وہ ہر معاملہ میں محتاط رہیں کہ بالخصوص عوامی مقامات اور بازاروں میں ایسے رہیں کہ سینکڑوں اسمارٹ موبائل فونس بھی آپ کے ساتھ چل رہے ہیں اور آپ کی کسی بھی حرکت کو کوئی بھی بندہ فوری اپنے موبائل فون میں قید کرکے سوشل میڈیا پر ڈال دے گا!!  

 

نام نہاد صحافی نما چند سارقین کے لیے انتباہ : 

چند ویب سائٹس کے نااہل اور ناکارہ افراد جو خود کو صحافی مانتے اور سمجھتے ہیں

" سحرنیوزڈاٹ کام " کی ہر دوسری اور اہم خبر سے مواد کاپی کرکے اور 

تصاویر کو کاٹ چھانٹ کر اپنی " ویب سائٹس" پر اسے دیدہ دلیری کے ساتھ 

(کاپی پیسٹ یا الفاظ کے ردوبدل کے ذریعہ ) 

استعمال کرتے ہوئے اپنا" دھندہ " چلانے میں مصروف ہیں۔

ان سےمودبانہ گزارش ہے کہ اس گھٹیا حرکت سے باز آجائیں۔ 

ورنہ قانون چارہ جوئی کا سامنا کرنے تیار رہیں!

" اردو اور اردو صحافت کی ترقی اور ترویج کے لیے" اردو یوٹیوب چینلس" انتظامیہ یا اخبارات 

سحر نیوز ڈاٹ کام کے حوالے سے خبریں استعمال کرسکتے ہیں"

 (انتظامیہ سحر نیوز ڈاٹ کام)

بقول راحت اندوری :-

ہم سے پوچھو کہ غزل مانگتی ہے کتنا لہو

سب سمجھتے ہیں یہ دھندہ بڑے آرام کا ہے