ابے فون بند کربے! شرم نہیں آتی؟ ایس آئی ٹی رپورٹ کے متعلق سوال پر مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کا صحافی کو جواب،ویڈیو وائرل

ابے فون بند کربے! شرم نہیں آتی؟
ایس آئی ٹی رپورٹ کے متعلق سوال پر
مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کا صحافی کو جواب : ویڈیو وائرل

لکھنئو:15۔ڈسمبر(سحر نیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

صحافیوں کا کام ہی منتخبہ حکومتوں کے سربراہوں،مرکزی و ریاستی وزرا،عوامی نمائندوں اور دیگر اہم شخصیتوں سے موضوع سے متعلق سوال کرنا ہوتا ہے۔

کبھی کبھی صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے تلخ و لاجواب سوالات کو بعض شخصیتیں نظرانداز کرکے گزرجاتی ہیں یا پھراس سوال کو ہی نظر انداز کرتے ہوئے کہہ دیتی ہیں کہ مزید سوال نہیں! 

لیکن آج مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ایک صحافی پر آگ بگولہ ہوگئے اور ان سے سوال کرنے والے ایک نیشنل نیوز چینل کے صحافی سے کہا کہ ” شرم نہیں آتی؟ ” پھر ویڈیو لینے والے اس صحافی سے کہا کہ ” ابے فون بند کر بے "۔اس واقعہ کا ویڈیو خبررساں ادارہ ” اے این آئی ” نے بھی ٹوئٹ کیا ہے۔

مملکتی مرکزی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی یہیں تک خاموش نہیں رہے بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ” دماغ خراب ہوا کیا بے؟” "یہ میڈیا والے ہیں نہ یہی سالے چوروں نے ایک نردوش (بے قصور) آدمی کو جیل بھجوایا ہے”۔!! اس نازیبا برتاؤ کے بعد بھی مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اس صحافی کو مارنے کے لیے دوبارہ پلٹ گئے!!

اس نیشنل نیوز چینل کے اس صحافی نے مرکزی وزیر سے صرف یہ سوال کیا تھا کہ” ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر آپ کا کیا کہنا ہے؟”

” مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کی جانب سے صحافی کو گالیاں دئیے جانے والا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

یہ سب پولیس اور دیگر شخصیتوں کی موجودگی میں کھلے عام ہوا ہے! جس کا ویڈیو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا ہے۔

دراصل اجئے مشرا ٹینی مرکزی مملکتی وزیر داخلہ ہیں جن کے بیٹے ابھئے مشرا نے 3 اکتوبر کو اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں پرامن طور پر واپس ہورہے کسانوں کو اپنی جیپ سے رؤند دیا تھا!!

جس میں بشمول چار کسانوں کے جملہ 8 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ڈرائیور کے علاوہ دو بی جے پی کارکن بھی شامل تھے۔اس واقعہ کے بعد برہم ہجوم نے چند گاڑیوں کو آگ کی نذر کردیا تھا۔

کسانوں کو کار سے رؤندنے اور اس واقعہ میں کسانوں کی اموات کے بعد بشمول کسانوں کے سارے ملک میں شدید غم و غصہ پیداہوگیا تھا۔جس کے بعد چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے لکھیم پور کھیری واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومت اس واقعہ کی تحقیقات کے بعد خاطیوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں پیش آئے اس  واقعہ کے کئی گھنٹوں بعد مرکزی مملکتی وزیر اجئے مشرا ٹینی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ کسانوں نے ہی اس حملہ میں تین بی جے پی کارکنوں اور کار ڈرائیور کو ہلاک کیا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ کسانوں نے انہیں کالی جھنڈیاں دکھائیں اور کاروں پر کسانوں کی جانب سے پتھراؤ کے دؤران کار الٹ گئی۔

مرکزی وزیر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اس واقعہ کے ویڈیوس اور فوٹوز موجود ہیں۔(تاہم ان کی جانب سے آج تک یہ جاری نہیں کیے گئے ہیں)۔لیکن اسی دؤران 5 اکتوبر کو بی جے پی کے رکن لوک سبھا ورون گاندھی نے اس واقعہ کا ایک ویڈیو ٹوئٹر پر پوسٹ کیا تھا اور یہ  ویڈیو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر وائرل ہوا تھا۔

جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احتجاج کے بعد پرامن طریقہ سے واپس ہونے والے کسانوں کو عقب سے آنے والی ایک گاڑی اچانک رؤندتے ہوئے گزر رہی ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس گاڑی کے مالک مرکزی ممکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ہیں!!

اس بربریت پرمشتمل واقعہ کی ہر طرف سے مذمت کا سلسلہ جاری تھا اسی دؤران سپریم کورٹ نے اترپردیش کے دو وکلا کی شکایت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس واقعہ کے اصل ملزم آشیش مشرا کی ہنوز عدم گرفتاری پر اتر پردیش حکومت پر تیکھے ریمارک کیے تھے حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

لکھیم پور کھیری کے واقعہ کے بعد چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے اس واقعہ کے مہلوک کسانوں کے خاندانوں کو فی کس 45 لاکھ روپئے ایکس گریشیا اور گھر کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کرنے اور اس کے واقعہ میں ایک درجن سے زائد زخمی ہونے والے کسانوں کو فی کس دس لاکھ روپئے کا اعلان کیاتھا۔

اور ساتھ ہی چوطرفہ مذمت اور احتجاج کو دیکھتے ہوئے اترپردیش حکومت نے احتجاجی کسانوں کو گاڑی کے ذریعہ رؤند دئیے جانے کے الزامات کا سامنا کررہے مرکزی وزیر کے بیٹے آشیش مشرا سمیت 14 افراد پر غیرارادتاً قتل کا کیس درج کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی سرزنش اور ہر طرف سے اس واقعہ کی مڈمت کے بعد 9 اکتوبر کو مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کو بالآخر اترپردیش پولیس نے 11 گھنٹوں کی تفتیش کے بعد باقاعدہ گرفتار کیا تھا جو کہ اب تک جیل میں ہیں۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس واقعہ کی جانچ کے لیے ایک اسپیشل انوسٹیگشن ٹیم ” ایس آئی ٹی ” تشکیل دی تھی جس نے کل عدالت میں داخل کی گئی اپنی چونکادینے والی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ "لکھیم پور کھیری واقعہ سوچی سمجھی سازش تھی اور یہ غیرارادتاً پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا”۔ایس آئی ٹی نے سفارش کی کہ گرفتار شدگان کے خلاف ایف آئی آر میں درج دفعات کو قتل اور اقدام قتل کے علاوہ دیگر آئی پی سی کی دفعات میں تبدیل کیا جائے۔

ایس آئی ٹی کی اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کو مرکزی وزارت سے برخاست کرتے ہوئے ان کو بھی گرفتار کیا جائے۔اس معاملہ پر آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کانگریس ،سماجوادی پارٹی کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے جم کر ہنگامہ آرائی کی۔

یاد رہے کہ لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا عرف مونو کے علاوہ ان کے ساتھیوں لؤکُش،اشیش پانڈے،شیکھر بھارتی،انکت داس،لطیف،سیشو پال،نندن سنگھ، ستیم ترپاٹھی،سمیت جیسوال،دھرمیندر بنجارہ،اُلہاس ترویدی اور رنکو رانا شامل ہیں۔

” 3 اکتوبر کولکھیم پور کھیری واقعہ کے ویڈیوس،تصاویر اور مکمل تفصیلات سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے دیکھی جاسکتی ہیں”

یوپی کے لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر کے بیٹے نے احتجاجی کسانوں پر کار چڑھادی!،8 ہلاک