آریان خان کو بمبئی ہائی کورٹ سے راحت
اب ہر جمعہ کو این سی بی کے دفتر میں حاضری کی ضرورت نہیں
ممبئی: 15۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
اداکار شاہ رخ خان کے فرزند اور کروز ڈرگ کیس کے ملزم آریان خان کو آج بمبئی ہائی کورٹ نے راحت دی ہے جس کے تحت اب آریان خان کو ہر جمعہ کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) کے دفتر میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
قبل ازیں ہائی کورٹ سے آریان خان کو اس معاملہ میں دی گئی ضمانت میں دیگر شرائط کے ساتھ یہ شرط بھی شامل تھی کہ آریان خان کو ہر جمعہ کے دن نارکوٹکس کنٹرول بیوروکے ممبئی کے دفترمیں حاضری دینا ہوگا۔
عدالت نے کہاہے کہ جب بھی خصوصی تفتیشی ٹیم آریان خان کو طلب کرتی ہے تو انہیں خود کو دہلی میں پیش کرنا ہوگا۔23 سالہ آریان خان نے بمبئی ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی جس میں عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ انہیں دی گئی ضمانت کی اس شرط میں میں ترمیم کی جائے۔

آریان خان نے اپنی درخواست میں بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے دفتر میں ہر جمعہ کو ان کی حاضری کے موقع پر میڈیا کی جانب سے مختلف الزام لگائے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ پولیس بھی موجود ہوتی ہے۔چونکہ اس کیس کی تحقیقات اب دہلی میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم کررہی ہے اس لیے ممبئی کے این سی بی دفتر میں ان کی ہر جمعہ کو حاضری کی شرط میں نرمی کی جائے۔
یاد رہے کہ آریان خان کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے 2 اکتوبر کی نصف شب کے بعد ممبئی کے ساحل پر گوا جارہی ایک کروز (کشتی) پر دھاوے کے بعد گرفتار کیا تھا۔این سی بی نے ان پر ممنوعہ نشیلی ادویات رکھنے، استعمال کرنے، فروخت کرنے اور خریدنے کا الزام لگایا تھا۔ ان پر سازش اور اُکسانے کا بھی الزام تھا۔
بعد ازاں خصوصی عدالت نے آریان خان کو 8 اکتوبر تک این سی بی کی تحویل کے بعد ممبئی کی آرتھر روڈ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔تین دنوں تک آریان خان کی ضمانت کی درخواست پر بحث ومباحث کے بعد 28 اکتوبر کو بمبئی ہائی کورٹ نے چند شرائط کے بعد آریان خان کی درخواست ضمانت منظور کی تھی اس طرح تین ہفتوں کی قید کے بعد آریان خان جیل سے رہا ہوئے تھے۔
وہیں آریان خان کے خلاف نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے اس کیس اور الزامات میں کئی جھول پائے تھے۔عدالت نے کہا کہ آریان خان، ان کے دوست ارباز مرچنٹ اور مون مون دھامیچا کے درمیان منشیات سے متعلق جرائم کے ارتکاب کی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ آریان خان کی واٹس ایپ گفتگو میں کوئی قابل اعتراض نہیں ملا،جس پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو اپنا کیس بنا رہی ہے۔جبکہ این سی بی نے کہا تھا کہ آریان خان واٹس ایپ چیاٹ اس کے منشیات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کا ثبوت ہیں۔

