امریکہ کی پانچ ریاستوں میں خوفناک بگولوں، آ ندھی اور طوفان کا قہر، 100 سے زیادہ ہلاکتیں،عمارتیں،پل اورمکانات تہس نہس

امریکہ کی پانچ ریاستوں میں خوفناک بگولوں، آ ندھی اور طوفان کا قہر
100سے زیادہ ہلاکتیں،عمارتیں،شاپنگ مالس اور مکانات کاغذ کے پرزوں کی طرح اُڑگئے
لاکھوں افراد بے گھر،برقی سربراہی بند،ایمرجنسی کا اعلان،بچاؤ کاموں کا آغاز

واشنگٹن:11۔ڈسمبر(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز )

امریکہ کی پانچ شمالی ریاستوں میں بالخصوص ریاست کین ٹکی Kentucky میں 10 ڈسمبر کی رات خوفناک آندھی،طوفان اور بگولوں USTornadoes# کے باعث زائداز 100 افراد موت کی نذر ہوگئے۔

جبکہ اس آندھی اور طوفان کی زد میں آنے والی سینکڑوں بلند و بالا عمارتیں،مکانات،شاپنگ مالس، پل اور گاڑیاں تہس نہس ہوگئے ہیں۔وہیں کئی مقامات پر درخت اکھڑ گئے ہیں۔

ان ریاستوں میں خوفناک گرد آلود بگولوں پرمشتمل آندھی کے باعث پلوں اور سڑکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

جبکہ اس آندھی اور طوفان میں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے اور ان مختلف مقامات سے بے گھر اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ریاست کین ٹکی Kentucky کے گورنر اینڈی بیشیر Andy Beshear نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ریاست کین ٹکی کی تاریخ میں سب سے بڑی آندھی،بگولے اور طوفان ہیں۔انہوں نے ایمرجنسی کا اعلان کردیا۔

ریاستی گورنر نے کہا تھا کہ ایک موم بتی کی فیکٹری کی چھت منہدم ہوجانے سے بڑی تعداد میں امواتیں ہوئی ہیں۔اور بڑے پیمانے پر راحتی اور بچاؤ کاموں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں آج آفات سماوی نے اپنا غیض وغضب دکھایا ہے۔شمالی امریکہ کی پانچ ریاستوں کین ٹکی،آرکانساکس، ٹین ایسپی ،میسوری اور الی نیاس میں اس آندھی اور طوفان نے قہر مچایا ہے۔گرد و غبار اور پانی کے ساتھ دائرہ کی شکل میں اٹھنے والے بگولوں کی زد میں بلند و بالا عمارتیں،مکانات،شاپنگ مالس اور دیگر اشیاء کاغذ کے پرزوں کی طرح اُڑگئے۔

وہیں بڑی تعداد میں درخت بھی اپنی جڑوں سے اکھڑ گئے،مکانات کی چھتیں اڑگئیں اور ان کی دیواریں ڈھ گئیں۔کئی مقامات پر برقی سربراہی مسدود ہوگئی ہے جس کے باعث 50،000 سے زائد شہری اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس شدید آندھی،بگولوں، طوفان اور شدید ہواؤں نے ہر طرف تباہی مچادی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ریاست کی تاریخ میں آندھی،طوفان اور بگولے پہلی مرتبہ اتنے شدید آئے ہیں جن سے شدید نقصان ہوا ہے۔

امریکی ریاست کین ٹکی کے گریپس کاؤنٹی میں شدید تباہی دیکھی گئی ہے۔مے فیلڈ علاقہ میں ایک موم بتی فیکٹری زمین دوز ہوگئی ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق اس وقت اس موم بتی فیکٹری میں 100 افراد موجود تھے۔ریاست کین ٹکی کے گورنر گورنر اینڈی بیشیر نے یہ افسوسناک تصدیق کی ہے کہ صرف کین ٹکی ریاست میں ہی اس آندھی،طوفان اور بگولوں Tornadoes کی زد میں آنے سے 100 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ریاست کین ٹکی کے گورنر گورنر اینڈی بیشیر نے کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے ریاست کین ٹکی میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا۔

اور بچاؤ و راحت کاموں کے لیے 185 افراد کی ٹیموں کو متحرک کردیا گیا ہے۔ریاست کین ٹکی کے گورنر اینڈی بیشیر Andy Beshear نے ریاست کے ملازمین پولیس اور سرکاری ملازمین سے اپیل کی ہے کہ ان بچاؤ اور راحتی کاموں میں وہ بھی حصہ لیں۔

USTornadoes#